بارشی سیلاب اور ضلعی انتظامیہ
اس بار مون سون کی بارشوں نے پورے پاکستان کو شدید متاثر کیا ہے۔ چاروں صوبوں، متعدد اضلاع اور دیہی علاقوں میں جانی و مالی نقصان نے ایک ہولناک منظر پیش کیا۔ سینکڑوں گھر تباہ ہوئے، درجنوں پل بہہ گئے
اس بار مون سون کی بارشوں نے پورے پاکستان کو شدید متاثر کیا ہے۔ چاروں صوبوں، متعدد اضلاع اور دیہی علاقوں میں جانی و مالی نقصان نے ایک ہولناک منظر پیش کیا۔ سینکڑوں گھر تباہ ہوئے، درجنوں پل بہہ گئے
28 مئی 1998ء کا دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ پاکستان کے تابناک عزم،قومی غیرت اور ناقابل تسخیر حوصلے کی ایک گونجتی ہوئی صدا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ایک طرف دشمن کے عزائم خاک میں ملائے
سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی تیز رفتار ترقی نے جہاں دنیا کو ایک گلوبل ویلج میں تبدیل کر دیا ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ کئی چیلنجز بھی ابھرے ہیں۔ ان میں سے ایک سنگین مسئلہ گستاخانہ مواد کا پھیلائو
دنیا بھر میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی و سماجی حالات کے درمیان ایک ایسا مسئلہ مسلسل سر اٹھا رہا ہے جس نے نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ پوری انسانیت کو بے چین کر رکھا ہے اور وہ ہے توہینِ
جب دنیا امن، ترقی اور تعاون کی راہوں پر گامزن ہے، بھارت کی مودی سرکار تاحال نفرت، سازش اور پراپیگنڈے کی راہ پر چل رہی ہے۔ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ مہم میں مسلسل ناکامی کے باوجود بھارت اپنی بدنیتی پر
دنیا کی آنکھوں سے اب پردے ہٹ چکے ہیں۔ اب کوئی ابہام نہیں رہا، کوئی دھوکہ باقی نہیں رہا، کوئی غلط فہمی باقی نہیں رہی۔ بھارت کی اصل حقیقت، اس کا مکروہ چہرہ، اس کی سازشوں کی گونج اب عالمی
پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی کے واقعات ایک عرصے سے جاری ہیں۔بھارت ہمیشہ سے پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی کوششوں میں لگا ہواہے۔ یہ دشمنی صرف سرحدی تنازعات یا سیاسی اختلافات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک
بھارت کا خود کو ایک بڑی جمہوریت کہلانے کا دعوی، بسا اوقات اس کی اپنی حرکتوں کی روشنی میں ایک بھونڈا مذاق محسوس ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب وہ خطے کے امن کو دائو پر لگا کر اپنے میڈیا
جب کوئی دشمن ناکامی، رسوائی اور خجالت کا سامنا کرتا ہے تو وہ انتقام کے شعلوں میں جلتے ہوئے اپنی کمینگی کی آخری حدوں کو چھونے لگتا ہے۔ دنیا بھر میں بے نقاب ہونے، اقلیتوں پر ظلم و ستم، مقبوضہ
پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک نیا باب اس وقت رقم ہوا جب جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے اعلیٰ ترین عسکری عہدے پر ترقی دی گئی۔ یہ ترقی صرف ایک عہدے کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک نظریے، ایک