لہو کا وعدہ اب بھی ادھورا ہے
یہ تاریخ انسانیت کے ماتھے پر داغ ہے، ظلم کی وہ سیاہ رات ہے جس کی سرخی میں انسانی لہو کی مہک بسی ہے۔ 6 نومبر 1947ء جب جموں کی زمین پر مسلمانوں کے خون سے ایک ایسا المیہ رقم
یہ تاریخ انسانیت کے ماتھے پر داغ ہے، ظلم کی وہ سیاہ رات ہے جس کی سرخی میں انسانی لہو کی مہک بسی ہے۔ 6 نومبر 1947ء جب جموں کی زمین پر مسلمانوں کے خون سے ایک ایسا المیہ رقم
تاریخِ انسانیت کے صفحات پر کچھ دن ایسے کندہ ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ مدھم نہیں ہوتے بلکہ ان کی جلن اور شدت نسل در نسل بڑھتی چلی جاتی ہے۔6 نومبر 1947 ء بھی انہی دنوں میں سے ایک
دنیا کی تاریخ میں کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں جو وقت کے ساتھ مٹتے نہیں بلکہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اپنی سیاہی گہری اور اپنی یادیں مزید تلخ کرتے جاتے ہیں۔ ایسے ہی دنوں میں کشمیر کی تاریخ
دنیا کے بدلتے ہوئے سیاسی اور معاشی نقشے میں پاکستان کی حیثیت ایک ایسے اہم ملک کی ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیاء بلکہ مشرقِ وسطیٰ، وسط ایشیا اور چین جیسے بڑے خطوں کے سنگم پر واقع ہے اور یہی
جمہوری معاشروں میں احتجاج، اظہارِ رائے اور اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھانا ایک آئینی اور سیاسی عمل سمجھا جاتا ہے، مگر جب یہی احتجاج عوامی زندگی، معیشت، سلامتی اور قومی وحدت کے لئے چیلنج بن جائے تو سوال
دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں سوشل میڈیا انسانی زندگی کا ایک لازمی جزو بن گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی یہ نئی دنیا انسان کے رویوں، نظریات، اقدار اور طرزِ فکر پر براہ راست اثر انداز
پاکستان میں حالیہ دنوں میں آنے والے شدید سیلاب اور کلائوڈ برسٹ نے شمالی اور وسطی پنجاب کے اضلاع میں زندگیوں کو تہس نہس کر دیا ہے۔ ہزاروں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔کھیتوں کی فصلیں بہہ
(گزشتہ سے پیوستہ) اب سے پہلے تک پاکستانیوں کی بڑی تعداد انہیں دونوں ملکوں کے درمیان خیر سگالی، امن اور اردو کا سفیرسمجھتی تھی،انہیں ایک متوازن انسان اور زبان و تہذیب کا علمبرار تصور کرتی تھی، پاکستان کو جہنم سے
پاکستان کے دبستان ادب شہر بہاولپور کے معروف شاعر فیضان عارف جو گزشتہ تیس بتیس سال سے لندن میں مقیم ہیں جو امریکہ سمیت تمام یورپی ممالک میں مشاعرے پڑھ کر داد وصول کر چکے ہیں انہوں نے کل لندن
پانچ اگست کا دن پاکستانی عوام اور کشمیریوں کے دلوں پر ایک گہرا زخم چھوڑ جانے والے واقعے کی یاد دلاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے ناجائز تسلط کو مضبوط کرنے