دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں سوشل میڈیا انسانی زندگی کا ایک لازمی جزو بن گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی یہ نئی دنیا انسان کے رویوں، نظریات، اقدار اور طرزِ فکر پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ جہاں یہ ایک طاقتور ذریعہ ہے جس سے تعلیم، تحقیق، کاروبار، دعوت و تبلیغ، اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے، وہیں یہ بگاڑ، جھوٹ، فحاشی، جھوٹے پراپیگنڈے اور اخلاقی انحطاط کا بھی ایک نہ ختم ہونے والا دروازہ ہے۔ آج کے معاشرے میں نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک ہر فرد سوشل میڈیا کا حصہ ہے اور وہ اس کے مثبت یا منفی اثرات سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔اسلامی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر نئے وسیلے اور ہر نئی ایجاد کو خیر یا شر میں استعمال کرنے کا انحصار انسان کی نیت، فکر اور تربیت پر ہوتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ ہمارے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے عرب کے بگڑے ہوئے، متعصب اور جنگجو معاشرے کو نہ صرف ایک مہذب، منظم اور باکردار قوم میں تبدیل کیا بلکہ ان کے اندر ابلاغ کے ہر ذریعے کو خیر کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کی تربیت بھی دی۔ وہ معاشرہ جو جھوٹے قصے، فضول کہانیاں اور بے بنیاد شاعری میں ڈوبا ہوا تھا، آپ ﷺ کی رہنمائی میں سچائی، عدل، انصاف اور حق گوئی کا علمبردار بن گیا۔دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ زمانہ ایسا آگے بڑھ چکا ہے کہ فاصلے سمٹ گئے ہیں اور زمین کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کی خبر لمحوں میں پہنچ جاتی ہے۔ آج انسان ایک بٹن دباکر ہزاروں میل دور بیٹھے لوگوں سے نہ صرف بات کرسکتا ہے بلکہ ان کی زندگیوں کا حصہ بھی بن سکتا ہے۔ یہ سب ممکن ہوا ہے جدید ذرائع ابلاغ کی بدولت، جن میں سب سے زیادہ طاقتور ذریعہ سوشل میڈیا ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، یوٹیوب، واٹس ایپ اور دیگر پلیٹ فارمز نے ایک نئی دنیا تخلیق کر دی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ دنیا انسان کو کہاں لے جا رہی ہے؟اسلامی نقطہ نظر یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز بذاتِ خود نہ اچھی ہے اور نہ بری، بلکہ اس کا استعمال یہ طے کرتا ہے کہ وہ خیر ہے یا شر۔ قلم ہو یا تلوار، دولت ہو یا اقتدار، زبان ہو یا ذرائع ابلاغ یہ سب اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں۔ ان کا استعمال اگر خیر کے لیے ہو تو باعثِ نجات ہے اور اگر شر کے لیے ہو تو باعثِ ہلاکت۔ یہی اصول سوشل میڈیا پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اس حقیقت کو نظر انداز کر رہا ہے۔ ہماری نوجوان نسل آج کل صرف وقت ضائع کرنے، فضول مباحثوں، جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ اور غیر اخلاقی مواد میں الجھی ہوئی ہے۔ ریاستی سطح پر اس کے اثرات نہ صرف تعلیم پر پڑ رہے ہیں بلکہ معاشرتی اقدار، خاندانی نظام اور اخلاقیات سب شدید متاثر ہو رہے ہیں۔یہاں ہمیں سیرت النبیﷺ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ رسول اکرم ﷺ نے ایک جاہل اور بگڑے ہوئے معاشرے کو شعور، علم اور کردار کی بلندی سے سنوارا۔ آپ ﷺ نے ہر فرد کو یہ سمجھایا کہ اس کی بات، اس کی زبان اور اس کا کردار امانت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘ (صحیح بخاری) یہ اصول آج سوشل میڈیا پر حرف بحرف لاگو ہوتا ہے۔ اگر سوشل میڈیا پر اسلامی تعلیمات، اخلاقی اقدار، معیاری تفریح، تحقیق و علم کے ذرائع اور سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں مواد فراہم کیا جائے تو نوجوان خود بخود مثبت سمت کی طرف مائل ہوں گے۔ رسول اکرمﷺ کی حکمتِ عملی بھی یہی تھی۔
آپ ﷺ نے عرب کے شعرا کو دعوت دی کہ وہ اپنی شاعری کو حق کی تائید میں استعمال کریں۔ آپ ﷺ نے خطوط لکھ کر دنیا کے بادشاہوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر نئے ذریعہ ابلاغ کو خیر کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ریاست کو چاہیے کہ وہ فیک نیوز اور جھوٹے پروپیگنڈے کے خلاف سخت اقدامات کرے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ کو پھیلانا ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا: ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو جاؤ۔‘‘ (سورۃ الحجرات، 6) یہ آیت سوشل میڈیا کے دور میں ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ بغیر تحقیق کے خبر آگے بڑھانا بہت بڑا گناہ ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ تعلیمی، ابلاغی اور مذہبی اداروں کو ساتھ ملا کر ایک ایسا نظام تشکیل دے جو عوام کو تحقیق اور تصدیق کی عادت ڈالے۔گھروں اور تعلیمی اداروں میں ایسا ماحول بنایا جائے جہاں بچے سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی تربیت پائیں۔ والدین اگر بچوں پر نظر رکھیں اور اساتذہ اگر انہیں شعور دیں تو نسلیں بربادی سے بچ سکتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم سب اپنے گھر کے نگہبان ہو اور تم سے اس کی بابت سوال ہوگا۔‘‘ یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ گھریلو تربیت ریاستی تربیت کا لازمی حصہ ہے۔اخلاقی تربیت کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:’’میں اخلاق کی بلندی کو مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔‘‘ آج اگر ریاست چاہتی ہے کہ سوشل میڈیا معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنے تو اسے اخلاقی اقدار کو فروغ دینا ہوگا۔ یہ کام صرف وعظ و نصیحت سے ممکن نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ممکن ہے۔ مثبت فلمیں، دستاویزی پروگرام، سیرت النبی ﷺ پر مبنی سیریز اور تعمیری مہمات وہ اقدامات ہیں جو نوجوانوں کو منفی چیزوں سے ہٹا کر مثبت طرف لے جا سکتے ہیں۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، کاروبار اور تحقیق کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے سامنے صرف فضول مباحثے، غیر اخلاقی مواد اور جھوٹی خبریں رکھی جائیں گی تو پھر وہ اپنی صلاحیتوں کو ضائع کر دیں گے۔آخر میں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا ایک تیز دھار تلوار ہے۔ یہ نسلوں کو برباد بھی کر سکتا ہے اور انہیں عروج کی منزل پر بھی پہنچا سکتا ہے۔ فیصلہ اس بات پر ہے کہ عوام اس کا استعمال کس طرح کرتے ہیں۔یہ وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی نسلوں کو محفوظ کریں۔ اگر آج یہ ذمہ داری ادا نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں علم، کردار اور اخلاق کے اعتبار سے تباہی کے دہانے پر کھڑی ہوں گی۔ سیرت النبی ﷺ ہمیں راستہ دکھاتی ہے کہ زبان اور قلم کو خیر کے لیے استعمال کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔جیسا کہ شاعر نے کہا ہے:
بات وہی ہے جو خیر کا پیغام بنے
زبان وہی ہے جو سچائی کا علمبردار بنے