پاکستان ایک نظریاتی اسلامی ریاست ہے جس کی بنیاد کلم طیبہ پر رکھی گئی۔ اس ریاست کے عوام کی اکثریت حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺسے والہانہ محبت رکھتی ہے۔ یہی محبت ہمارے ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ واضح کرتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کی محبت ہر تعلق، ہر رشتے اور ہر مفاد پر مقدم ہے۔ اسی لئے جب بھی کسی فرد، گروہ یا ادارے سے ایسی حرکت سرزد ہو جو عشقِ رسول ﷺ کے تقاضوں، اسلامی اقدار یا مذہبی حساسیت کے منافی ہو تو پوری قوم کے دل زخمی ہو جاتے ہیں۔گو کہ نجی ٹی وی کے کرتوتوں کے مقابلے میں یہ سزا معمولی ہے،لیکن بہرحال کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے،آقا و مولی ﷺ کی ناموس پر حملہ آور کوئی فرد ہو گروہ ہو یا ادارہ وہ اس دھرتی پر ناپسندیدہ بوجھ کے مترادف ہے،ہمیں اپنے آقا و مولیٰ ﷺ سے بے پناہ پیار ہے،آپﷺ اور آپ کے صحابہؓ واہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ناموس پہ حملے کرنے والے شیطانوں سے ہم نفرت کرتے تھے،نفرت کرتے ہیں اور مرتے دم تک نفرت کرتے رہیں گے، ان شااللہ سوال یہ ہے کہ پابندی کا شکار ٹی وی سمیت دیگر چینلز حقوق اللہ،حقوق رسالت مآب ﷺ ، حقوق العباد،حقوق ریاست کو پامال کرنے میں کہاں تک جائیں گے؟غیروں کی نقالی اور تجوریاں بھرنے کے شوق بد میں مبتلا ہو کر قبر اور آخرت کو بھول جانے والوں کو کوئی بتائے کہ تم نے اپنے چینلز کے ذریعے جن بے حیائیوں ،برائیوں اور گستاخیوں کو پروان چڑھایا ہے،ان کا حساب تمہیں قبر کے اندھیروں میں ضرور بالضرور دینا پڑے گا، 10 محرم الحرام 1448ھ، بمطابق 26 جون 2026 ء کو نجی ٹی وی کے پروگرام ’’سفرِ عشق‘‘میں ایسی مذہبی تصویر کشی اور تصوراتی عکاسی نشر کی گئی جسے پیمرا نے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کارروائی کی۔
پیمرا کے مطابق یہ نشر ہونے والا مواد نہ صرف الیکٹرانک میڈیا کے ضابطہ اخلاق اور لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی تھا بلکہ مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی اقدار کے بھی منافی تھا۔ مزید یہ کہ اس سے عوام کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے اور مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا۔اسی بنیاد پر پیمرا نے ٹی وی کا لائسنس پندرہ دن کے لئے معطل کرتے ہوئے اس کی نشریات سیٹلائٹ اور تمام نشریاتی نیٹ ورکس پر بند کرنے کے احکامات جاری کئے۔ ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی گئی کہ ادارہ داخلی سطح پر انکوائری کرے، ذمہ داران کا تعین کرے اور آئندہ ایسی خلاف ورزی کے سدباب کے لئے موثر اقدامات کرے۔یہ فیصلہ اپنی نوعیت کا ایک اہم ریگولیٹری اقدام ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف پندرہ روزہ معطلی ایسے حساس معاملے میں کافی ہے؟ اگر میڈیا ادارے بار بار مذہبی حساسیت، اخلاقی اقدار اور قومی مفادات کو نظر انداز کرتے رہیں تو کیا محض عارضی پابندیاں مستقبل میں ایسے واقعات کو روک سکیں گی؟یہ امر افسوسناک ہے کہ بعض الیکٹرانک میڈیا چینلز ریٹنگ، اشتہارات اور مالی مفادات کے حصول کی دوڑ میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ انہیں نہ مذہبی جذبات کا احساس رہتا ہے، نہ معاشرتی ذمہ داری کا اور نہ ہی قومی وحدت کا۔ آزادی اظہار یقینا ہر مہذب معاشرے کا بنیادی اصول ہے، لیکن آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہوتی ہے۔ ایسی آزادی جو دوسروں کے عقائد، مذہبی مقدسات یا قومی اقدار کو مجروح کرے، کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں سمجھی جا سکتی۔میڈیا کو معاشرے کا آئینہ کہا جاتا ہے، مگر جب یہی آئینہ دھندلا جائے تو پوری قوم فکری انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ ٹیلی ویژن چینلز محض کاروباری ادارے نہیں بلکہ رائے عامہ تشکیل دینے والے طاقتور ذرائع ہیں۔ ان کے ذریعے نشر ہونے والا ہر لفظ، ہر منظر اور ہر پیغام لاکھوں گھروں تک پہنچتا ہے۔ اس لئے مذہبی پروگراموں کی تیاری میں غیر معمولی احتیاط، مستند علما سے رہنمائی اور ادارہ جاتی نگرانی ناگزیر ہونی چاہیے۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ میڈیا ہائوسز اپنی ادارہ جاتی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ صرف معذرت یا وضاحت کافی نہیں بلکہ ایسے موثر نظام وضع کئے جائیں جن کے ذریعے حساس نوعیت کے پروگرام نشر ہونے سے پہلے علمی، شرعی اور قانونی جانچ کے مراحل سے گزریں۔
پیمرا کی ذمہ داری بھی صرف کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایسے واضح رہنما اصول مرتب کئے جائیں جن پر تمام نشریاتی ادارے سختی سے عمل کریں۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ الیکٹرانک میڈیا صرف مذہبی معاملات میں ہی نہیں بلکہ معاشرتی بے حیائی، خاندانی نظام کی کمزوری، مغربی تہذیب کی اندھی تقلید اور اخلاقی انحطاط کو فروغ دینے کے حوالے سے بھی مسلسل تنقید کی زد میں رہا ہے۔ اگر میڈیا اپنی سماجی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرے گا تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں کی فکر، کردار اور اخلاق پر مرتب ہوں گے، جن کی تلافی آسان نہیں ہوگی۔ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق، رسول اکرم ﷺ کے حقوق، بندوں کے حقوق اور ریاست کے حقوق سب اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔
(جاری ہے)