Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

معاہدے کے بعد ابھرتا سوال، یہ جنگ آخرکس لئے تھی؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ دستخط دراصل ایک نئے باب کاآغازہیں، جہاں مذاکرات کارپھرسے متحرک ہوں گے اور سمندرکی موجیں پھرسے تجارت کاگیت گائیں گی۔ ایم اویوکے بعدمذاکرات کی بحالی کو ’’تنازعات کوکم کرنے کاطریقہ کار‘‘کے طورپردیکھاجاسکتاہے لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیایہ استحکام پائیدارہوگایامحض عارضی؟اب جبکہ راستے دوبارہ کھل رہے ہیں،یہ سوال اہم ہے کہ کیایہ محض واپسی ہے یاایک نئی ابتدا؟کیونکہ تاریخ میں بعض واپسیوں کے اندرآئندہ تصادم کے بیج پوشیدہ ہوتے ہیں۔
یہ تنازعہ جہاں اب ایک فکری معمہ بن چکاہے وہاں ایک بنیادی سوال پیداکرتاہے:کیا عالمی سیاست میں فوجی طاقت اب بھی فیصلہ کن عنصرہے،یامعاشی اورجغرافیائی عوامل نے اس کی جگہ لے لی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال جس کاجواب محض سیاسی تجزیے سے نہیں بلکہ اخلاقی بصیرت سے تلاش کرناہوگا۔یہ بحث حقیقت پسندی اورلبرل ازم کے درمیان جاری نظریاتی کشمکش کوبھی اجاگر کرتی ہے۔ کیاطاقت کااستعمال واقعی مسائل کاحل ہے،یایہ محض ان کی شکل بدل دیتاہے؟مگریہ سوال بدستورفضامیں معلق ہے:آخریہ جنگ کس لیے تھی؟ یہ محض ایک سیاسی لغزش نہیں بلکہ خارجہ پالیسی کی وہ لغزش ہے جس نے تاریخ کادھارابدل دیا۔
اسرائیلی سیاست میں اس جنگ کے اثرات کسی زلزلے سے کم نہیں۔ قیادت کے دعوے اور زمینی حقائق کے درمیان جوخلاپیداہوا،اس نے عوامی اعتمادکو متزلزل کردیاہے۔اب فیصلہ صرف انتخابی نتائج نہیں بلکہ سیاسی بیانیے کی بقاکاہے۔اسرائیل کی داخلی سیاست میں پیدا ہونے والابحران اس بات کی دلیل ہے کہ خارجی پالیسی کی ناکامیاں اندرونی سیاسی عدم استحکام کاباعث بن سکتی ہیں۔ قیادت کی ساکھ اورعوامی اعتماد کے درمیان تعلق یہاں واضح طورپر سامنے آتاہے۔اس جنگ کے اثرات اسرائیل کی داخلی سیاست تک پہنچے ہیں ۔نیتن یاہو،جوخودکو’’مسٹرسکیورٹی‘‘کے طورپرپیش کرتے رہے،اب عوامی احتساب کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ امریکااورایران معاہدے کو سبوتاژکرنے کی ناکامی نے ان کی سیاسی بنیادوں کومتزلزل کردیاہے۔
طاقت کابیانیہ جب حدسے بڑھ جائے تووہ اپنے بوجھ تلے دب جاتاہے۔اسرائیل کی سخت گیر پالیسیاں دراصل اپنی ساکھ بحال کرنے کی ایک کوشش تھیں،مگرتاریخ نے بارہاثابت کیاہے کہ طاقت کازعم اکثرتدبرکی کمی کوچھپانہیں سکتا۔یہی کچھ اسرائیلی حکمت عملی کے ساتھ ہوا،جہاں عسکری برتری کوسفارتی تدبرپرفوقیت دی گئی اورنتیجہ ایک پیچیدہ بحران کی صورت میں نکلا۔تاہم اب بھی اسرائیلی حکمت عملی میں عسکریت پسندی پرحدسے زیادہ انحصارکے سفارتی امکانات محدود ہیں۔یہ صورت حال سیکورٹی مخمصہ کی مثال بھی ہو سکتی ہے، جہاں ایک فریق کی سکیورٹی کی کوششیں دوسرے کے لئے خطرہ بن جاتی ہیں۔
ایران کی قیادت نے ماضی میں جس احتیاط کامظاہرہ کیاتھا،وہ دراصل ایک طویل المدتی حکمت عملی کاحصہ تھا۔ایران ہمیشہ آبنائے ہرمزکی اہمیت سے آگاہ تھا،مگرعلی خامنہ ای نے احتیاط کادامن تھامے رکھا۔ان کی بصیرت نے اس ہتھیارکو استعمال سے روکے رکھا مگرحالات نے جب کروٹ لی تواسی حکمت عملی کونئے اندازمیں بروئے کارلایاگیااوریوں ایک پوشیدہ قوت کھل کرسامنے آئی۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بطورہتھیاراستعمال کرنااس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ ریاستیں غیرروایتی ذرائع کوبھی طاقت کے اظہار کے لئے استعمال کرسکتی ہیں۔
قیادت کی تبدیلی کے بعدپالیسی میں آنے والی تبدیلیاں اس بات کوظاہرکرتی ہیں کہ داخلی سیاسی حرکیات خارجی پالیسی پرگہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔مگر جب قیادت کاچراغ گل ہواتوجانشینوں نے حالات کی نزاکت کوسمجھتے ہوئے آبنائے ہرمزکوبندکرنے میں تامل نہ کیا ۔ یہ فیصلہ ان کے لئے بقاکی جنگ کاتقاضا تھا۔ قیادت کی تبدیلی نے پالیسی کے مزاج کوبھی بدل دیا۔ نئے فیصلہ سازوں نے خطرے کوموقع میں بدلنے کی کوشش کی،اوریہی وہ موڑتھاجہاں جنگ کارخ تبدیل ہوا۔
توانائی کی گزرگاہوں پرکنٹرول نے مستقبل کی جنگوں کی نوعیت کوتبدیل کرنے کے امکانات کوجنم دیاہے،جہاں اقتصادی اورجغرافیائی عوامل مرکزی کردار اداکریں گے۔یوں ایران نے دریافت کیاکہ عالمی معیشت کی نبض پرہاتھ رکھناکسی بھی عسکری اتحادسے زیادہ مؤثر ہوسکتاہے،ایک سستامگرکاری ہتھیاراور مستقبل کی جنگوں کی نوعیت پرگہرے اثرات مرتب کرے گا۔اب میدانِ جنگ صرف سرحدیں نہیں بلکہ تجارتی راستے بھی ہوں گے اورایران نے اس جنگی حکمت عملی سے بھرپورفائدہ اٹھایاجوبالآخر ان کی کامیابی کاسبب بنا۔
خطے میں ایران کے علاقائی اتحادی اگرچہ کمزورہوئے ہیں،مگران کاوجودبرقراررہنااب بھی ایک حقیقت ہے۔یہ حقیقت اس امرکی غماز ہے کہ نظریاتی اتحادمحض عسکری دباسے ختم نہیں کیے جاسکتے۔اگرچہ شام میں اسدحکومت کاخاتمہ ہوچکا،مگرایران کامزاحمتی محور ابھی باقی ہے، زخم خوردہ سہی،مگرزندہ۔تاہم اس کی حقیقی قوت اب سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
جوہری پروگرام اس تنازعے کاسب سے حساس اورپوری کہانی کاایک ایساپہلوہے جوبیک وقت طاقت کے توازن اورعالمی عدم پھیلا ؤکے اصولوں کے درمیان کشمکش اورخطرہ کو ظاہرکرتاہے۔اس نے ایران کوعالمی سطح پرایک اہم کھلاڑی بنایا،مگراسی کے ساتھ اسے تصادم کے دہانے پربھی لاکھڑاکیا۔ایران کاجوہری پروگرام اب بھی اس کہانی کاایک اہم باب ہے۔اگرچہ اس کامقصد ہمیشہ پرامن قراردیا گیا،مگراس نے خطرے کی ایک ایسی فضاپیداکی جس نے جنگ کوجنم دیا۔
عسکری کامیابیاں اکثروقتی ہوتی ہیں،جبکہ سٹریٹجک نتائج دیرپا۔امریکااوراسرائیل کی کارروائیاں اسی تضادکی مثال ہیںجہاں میدان میں کامیابی، مگر مقصدمیں ناکامی نظرآئی۔ امریکااوراسرائیل کی عسکری کامیابیاں سٹریٹجک ناکامی کونہیں روک سکیں،جواس بات کی دلیل ہے کہ میدانِ جنگ میں کامیابی ہمیشہ سیاسی مقاصدکے حصول کی ضمانت نہیں ہوتی۔ امریکااور اسرائیل کی فضائی قوت نے وقتی کامیابیاں ضرورحاصل کیں،مگروہ ایک سٹریٹجک ناکامی کونہ روک سکیں۔ حکومت کی تبدیلی کاخواب سادہ مفروضوں کی نذرہوگیا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں