Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

حسینیت کا چراغ اور ظلمتِ یزیدیت

(گزشتہ سے پیوستہ)
حسینیت یعنی اصولوں پر ڈٹ جانے کی روح، نسل، فرقے اور جغرافیے کی قید سے آزاد ہے۔ یہ فلسطین کے اُس باپ میں زندہ ہے جو اپنے بچوں کی تدفین کے بعد بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتا۔ یہ کشمیر کی اُس آواز میں بولتی ہے جو عزت و وقار کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ ہر اُس فرد میں جلوہ گر ہوتی ہے جو ذاتی مفاد کو قربان کر کے بدعنوانی، ظلم اور بے رحمی کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ حسینیت عالمگیر ہے کیونکہ حق اور باطل کی جنگ بھی عالمگیر ہے۔ ظلم اپنے چہرے بدلتا رہتا ہے، مگر اس کے سامنے سر نہ جھکانے والے بھی ہر دور میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔دوسری طرف یزید کا نام تاریخ کے اوراق میں ایک تنبیہ بن کر محفوظ ہے۔ اس کا جرم صرف فوجی فتح نہ تھا بلکہ ظلم کو معمول بنانا، رشتوں کی حرمت پامال کرنا اور مقدس اقدار کی توہین کرنا تھا۔ جو لوگ واضح برائی کے سامنے خاموش رہتے ہیں، اجتماعی مظالم پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں یا سچائی کو کچلتے دیکھ کر بے حسی اختیار کرتے ہیں، وہ دانستہ یا نادانستہ اسی روایت کو تقویت دیتے ہیں۔ جس طرح فطرت خلا کو برداشت نہیں کرتی، اسی طرح اخلاقیات میں بھی خاموشی کسی نہ کسی قوت کو مضبوط کرتی ہے۔
سنگین ناانصافی کے سامنے خاموش رہنا بے گناہی نہیں بلکہ ایک انتخاب ہے، اور یہ انتخاب اکثر باطل کے حق میں جاتا ہے۔آج اس پیغام کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ انسانیت موسمیاتی تبدیلی، ٹیکنالوجی کی اخلاقیات، معاشی ناہمواری اور ہائبرڈ جنگوں جیسے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے۔ اخلاقی نسبیت ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کرتی ہے کہ ہر چیز مبہم اور دھندلی ہے، مگر کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حالات بدل سکتے ہیں، اصول نہیں۔ معصوموں کا قتل آج بھی غلط ہے۔ جبر کو حکمرانی کا نام دینا آج بھی غلط ہے۔ وقتی فائدے کے لیے سچائی کا سودا کرنا آج بھی غلط ہے۔ اگر معاشرے اس بنیادی تمیز کو کھو دیں تو ان کا مقدر بداعتمادی، بے حسی اور بالآخر زوال بن جاتا ہے۔
ہر سال محرم الحرام اور یومِ عاشور ہمیں محض غم منانے کے لیے نہیں آتے، بلکہ عدل و انصاف سے اپنی وابستگی کی تجدید کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ کربلا پر بہائے جانے والے آنسو دراصل ایک عہد ہیں؛ یہ وعدہ کہ جب کبھی ظلم ہماری اطاعت طلب کرے گا تو ہمیں فرات کے کنارے آباد وہ مختصر سا قافلہ یاد آئے گا جس نے بقا پر عزت کو ترجیح دی تھی۔ یہ پیغام تشدد کی تمجید نہیں کرتا بلکہ یہ باور کراتا ہے کہ بعض اقدار زندگی سے بھی زیادہ قیمتی ہوتی ہیں—سچائی، انسانی وقار اور بے گناہوں کا تحفظ۔حسینیت اور یزیدیت کی اس دائمی کشمکش میں کوئی غیر جانبدار مقام موجود نہیں۔ یا تو انسان اپنے قول، عمل، علم، خیرات اور کردار کے ذریعے انصاف کو تقویت دیتا ہے، یا پھر ناانصافی کے پھیلاؤ میں خاموش کردار ادا کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک فرد کا اصولی انکار بھی نسلوں کے لیے امید کا چراغ بن سکتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ بظاہر اُس دن میدانِ جنگ نہ جیت سکے، مگر ان کی اخلاقی فتح نے اُن تمام سلطنتوں کو مات دے دی جو بعد میں آئیں اور مٹ گئیں۔کربلا کی روح آج بھی ایک ابدی اور نہایت عصری پیغام دیتی ہے: حق کا انتخاب کرو، خواہ اس کی قیمت کتنی ہی بھاری کیوں نہ ہو۔ باطل کو رد کر دو، چاہے وہ اقتدار کے شاہانہ لباس میں ملبوس ہو۔ اصولوں کی روشنی میں جینا سیکھو، سمجھوتوں کے اندھیروں میں دھیرے دھیرے مرنے کے بجائے۔ ایسا کر کے ہم صرف ماضی کا احترام نہیں کرتے بلکہ ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں جو انسانیت کی بلند ترین اقدار کے شایانِ شان ہو۔حضرت امام حسینؓ صرف ساتویں صدی کے عرب کے نہیں، بلکہ ہر اُس زمانے کے امام ہیں جو تاریکی کو اپنی تقدیر ماننے سے انکار کرتا ہے۔ اُن کا نام محض غم کی ایک یادگار نہیں بلکہ باطل کے خلاف مزاحمت کا زندہ پرچم اور اس یقین کی علامت ہے کہ جب حق کا دامن جرأت کے ہاتھ میں ہو تو فتح بالآخر اسی کا مقدر بنتی ہے۔آج کے پُرآشوب دور میں ہمیں اس پیغام کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے: عزت یا مصلحت، حق یا باطل، حسینؓ یا یزید۔ تاریخ بھی دیکھ رہی ہے اور ہمارا ضمیر بھی۔

یہ بھی پڑھیں