Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

قدیم و جدید علوم: شعور و آگہی کے دو دھارے یا متحارب محاذ؟

انسانی تاریخ کا مطالعہ ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ علم ہمیشہ ارتقاء کے عمل میں رہا ہے۔ ہر دور نے اپنے سوالات پیدا کئے اور ہر عہد نے اپنے مسائل کے حل کے لیے ضرورت کے مطابق علمی زاویے تلاش کئے۔ آج جب ہم قدیم علوم اور جدید علوم کی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں تو اکثر ایک ایسی تقسیم ذہن میں ابھرتی ہے گویا یہ دو الگ الگ منطقوں کے نام ہیں۔ ایک طرف دینی، فلسفیانہ اور روایتی علوم ہیں اور دوسری جانب سائنسی، تکنیکی اور سماجی علوم۔ بعض حلقے ان دونوں کو ایک دوسرے کا حریف سمجھتے ہیں جبکہ بعض اہلِ فکر انہیں انسانی شعور اور آگہی کے دو متوازی دھارے قرار دیتے ہیں جو ایک ہی رخ کی طرف بہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی قدیم اور جدید علوم ایک دوسرے کے متحارب محاذ ہیں یا یہ محض ایک تاریخی اور فکری مغالطہ ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق پلٹنا ہوں گے۔انسانی تہذیب کی ابتدائی تاریخ میں علم کو مختلف خانوں میں تقسیم نہیں کیا جاتا تھا۔ قدیم یونان میں فلسفہ، ریاضی، طب، فلکیات، اور اخلاقیات سب ایک ہی علمی روایت کا حصہ تھے۔ افلاطون کو فلسفی بھی سمجھا جاتا تھا، سائنس دان بھی اور ماہرِ حیاتیات بھی۔ اسی طرح مسلم تہذیب کے سنہری دور میں علم کی کوئی متعین سرحد موجود نہیں تھی۔ابن سینا طب، فلسفہ اور مذہبیات کے ماہر تھے۔ البیرونی فلکیات، جغرافیہ، تاریخ اور مذہبیات پر یکساں دسترس رکھتے تھے۔ ابن رشد نے فلسفے اور شریعت میں تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس زمانے میں علم کو خدا کی تخلیق اور کائنات کی تفہیم کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اس لئے دینی اور عقلی علوم میں کوئی بنیادی تصادم یا تضاد روا رکھا نہیں جاتا تھا۔مسلم جامعات، خصوصا بیت الحکمت اور بعد ازاں مختلف علمی مراکز، اس بات کے گواہ بنے کہ علم کی تقسیم کے بجائے اس کی وحدت پر یقین رکھنا چاہیئے۔قدیم اور جدید علوم کے درمیان تصادم کے تصور نے زیادہ تر یورپ کے تاریخی تجربے سے جنم لیا ۔
قرونِ وسطیٰ میں یورپ میں مذہبی اداروں نے بعض اوقات سائنسی تحقیقات کی شدت کے ساتھ مخالفت کی۔ جب Galileo Galilei نے” سورج مرکز” نظریئے کی حمایت کی تو انہیں شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں یورپ میں ایک ایسا فکری رجحان پیدا ہوا جس نے مذہب اور سائنس کو دو متقابل قوتوں کے طور پر پیش کیا۔بعد ازاں نشاۃِ ثانیہ، اصلاحِ مذہب اور صنعتی انقلاب نے جدید سائنس کو نئی قوت سے سرفراز کیام سائنسی ترقی نے انسان کو فطرت پر بے مثال اختیار دیا۔ نتیجتاً بعض مفکرین نے یہ تصور پیش کیا کہ انسانی عقل ہی تمام حقیقتوں کو سمجھنے کے لئے کافی ہے اور مذہبی علم کی ضرورت مطلق باقی نہیں رہی۔یہیں سے قدیم اور جدید علوم کی کشمکش کے بیانیئے کا آغاز ہوا ۔ لیکن یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ خود جدید سائنس کی بنیادیں بھی قدیم علمی روایت ہی نے فراہم کی تھیں۔ اگر یونانی فلسفہ، مسلم ریاضی، فلکیات اور طب نہ ہوتیں تو جدید سائنس کی عمارت بھی شاید ہی وجود پذیر یوتی۔ برصغیر میں یہ تقسیم نوآبادیاتی دور کے بعد نمایاں ہوئی۔ انگریزوں نے جدید تعلیمی نظام متعارف کرایا جس کا مقصد انتظامی اور سرکاری ضروریات پوری کرنا تھا۔ دوسری طرف مدارس اپنی روایتی دینی تعلیم کے ساتھ قائم و دائم رہے۔یوں ایک ہی معاشرے میں دو تعلیمی دھارے وجود میں آگئے۔ ایک دھارا جدید سائنس، انگریزی زبان اور مغربی علوم سے وابستہ تھا جبکہ دوسرا مذہبی روایت، عربی علوم اور کلاسیکی نصاب کا حامل تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ فاصلہ محض تعلیمی نہیں بلکہ فکری اور سماجی رخ اختیار کرتا گیا۔ مدرسے کے طالب علم کے لئے یونیورسٹی اجنبی دنیا بن گئی اور یونیورسٹی کے فارغ التحصیل کے لیے مدرسہ ایک غیر مانوس علمی ماحول تصور کیا جانے لگا۔ یوں مسئلہ علم کا کم اور زبان، اصطلاحات اور فہم کا زیادہ بن گیا۔بیسویں اور اکیسویں صدی میں سائنسی ترقی کے حیرت انگیز مناظر ظہور پذیر ہوئے۔ مصنوعی ذہانت، جینیاتی انجینئرنگ، خلائی تحقیق اور ڈیجیٹل انقلاب نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم سوال بھی پیدا ہوا کہ کیا صرف سائنسی علم انسان کے تمام مسائل حل کر سکتا ہے؟جدید سائنس ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ کوئی چیز کیسے کام کرتی ہے، لیکن یہ سوال کہ انسان کو کیوں جینا چاہئیے، زندگی کا مقصد کیا ہے، اخلاقی حدود کیا ہونی چاہئیں اور خیر و شر کا معیار کیا ہے؟ یہ سوالات سائنس کے دائرے سے باہر ہیں۔ مثال کے طور پر ایٹمی ٹیکنالوجی ایک سائنسی کامیابی ہے، مگر اسے توانائی کے لیے استعمال کرنا ہے یا تباہی کے لئے، یہ فیصلہ اخلاقی اور فلسفیانہ شعور کا ہے۔
یہاں قدیم علمی روایت، مذہب اور اخلاقیات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔دوسری طرف صرف قدیم علوم پر اکتفا بھی ممکن نہیں۔ آج کی دنیا میں طب، انجینئرنگ، معیشت، ماحولیات اور ٹیکنالوجی کے پیچیدہ مسائل کا حل جدید تحقیق کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر مسلم دنیا صرف ماضی کے علمی ذخیرے پر فخر کرتی رہے اور جدید سائنسی علوم کو درخور اعتناء نہ گردانے تو وہ عالمی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گی۔اسلامی تاریخ خود اس بات کی شاہد ہے کہ مسلمانوں نے کبھی علم کو محدود باور نہیں کیا، انہوں نے یونانی، ایرانی اور ہندوستانی علوم سے استفادہ کیا اور انہیں اپنی تہذیب کا اٹوٹ انگ بنایا۔ لہٰذا جدید علوم سے خوف زدہ ہونا ہماری اپنی علمی روایت کے بھی منافی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ قدیم اور جدید علوم کے درمیان بنیاد ی مسئلہ کوئی باہمی جنگ نہیں بلکہ مکالمے کا فقدان ہے۔ ایک طرف بعض مذہبی حلقے جدید علوم کو محض مادیت کا نمائندہ سمجھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بعض جدید تعلیم یافتہ طبقات دینی علوم کو غیر متعلق یا فرسودہ قرار دیتے ہیں۔دونوں رویے انتہا پسندانہ ہیں۔ علم کی دنیا میں کوئی بھی روایت مکمل طور پر خود کفیل نہیں ہوتی۔ ہر علمی نظام کی اپنی حدود اور اپنی طاقتیں ہوتی ہیں۔ جدید سائنس کائنات کے مادی پہلوؤں کو سمجھنے میں بے مثال ہے، جبکہ دینی اور فلسفیانہ علوم انسان کے اخلاقی، روحانی اور وجودی سوالات کا جواب فراہم کرتے ہیں۔اکیسویں صدی میں ضرورت اس بات کی ہے کہ علم کی مصنوعی دیواریں گرائی جائیں۔ مدارس میں جدید علوم کی شمولیت اور جامعات میں تہذیبی، اخلاقی اور دینی مباحث کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسا نہیں کہ ایک نظام دوسرے کو ختم کر دے بلکہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کریں۔دنیا کی بڑی جامعات اب بین الشعبہ جاتی مطالعات کی طرف بڑھ رہی ہیں جہاں سائنس، فلسفہ، اخلاقیات اور سماجی علوم کو باہم مربوط کیا جا رہا ہے۔ یہی رجحان مستقبل کی علمی دنیا کا رخ متعین کرے گا۔قدیم اور جدید علوم کو متحارب محاذ قرار دینا دراصل تاریخ کی ایک ادھوری تعبیر ہے۔ انسانی شعور کی تعمیر میں دونوں کا کردار بنیادی ہے۔ قدیم علوم انسان کو اس کے ماضی، اخلاق اور روحانی ورثے سے جوڑتے ہیں جبکہ جدید علوم اسے فطرت کے رازوں اور مستقبل کے امکانات سے آگاہ کرتے ہیں۔اصل دانش مندی کسی ایک دھارے کو اختیار کرنے میں نہیں بلکہ دونوں کے درمیان پل تعمیر کرنے میں ہے۔ وہ معاشرے جو روایت اور جدت میں توازن پیدا کر لیتے ہیں، وہی علمی اور تہذیبی ترقی کی نئی منزلیں طے کرتے ہیں۔آج کے انسان کو نہ صرف ایک مضبوط سائنس دان کی ضرورت ہے بلکہ ایک بامقصد انسان کی بھی احتیاج ہے ،نہ صرف ایک ماہر انجینئر کی بلکہ ایک صاحبِ اخلاق مفکر کی بھی طلب ہے ، یہی وہ مقام ہے جہاں قدیم اور جدید علوم ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ شعور و آگہی کے دو ایسے دھارے بن جاتے ہیں جو مل کر انسانی تہذیب کے سمندر کو وسعت عطا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں