Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

کفایت شعاری کا آخری سفر

چند روز قبل پاکستان واپس آنے والے اپنے ایک پرانے اوورسیز دوست سے ملاقات ہوئی۔ وہ نہایت ایماندار، دردِ وطن رکھنے والے اور مخلص انسان ہیں۔ برسوں دیارِ غیر میں محنت کرکے انہوں نے نہ صرف اپنا روزگار قائم کیا بلکہ ایک پرسکون زندگی بھی بنا لی تھی مگر وطن کی محبت انہیں واپس پاکستان کھینچ لائی۔ انہوں نے بیرونِ ملک اپنا گھر کاروبار اور آسائشیں سمیٹیں اور یہ سوچ کر ہمیشہ کے لئے پاکستان آ بسے کہ اب اپنی باقی زندگی اپنی مٹی میں گزاریں گے۔ ہم چائے کی چسکیاں لے رہے تھے اور ٹیلی ویژن پر حسبِ معمول ایک اور خوشخبری نشر ہو رہی تھی۔ خبر یہ تھی کہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے فیول کنزرویشن اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ابھی ہم اس خبر پر حیرت کا اظہار ہی کر رہے تھے کہ چند لمحوں بعد ایک اور خبر چل پڑی کہ سپریم کورٹ نے بھی کفایت شعاری پالیسی ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے۔ میرے دوست نے حیرت سے میری طرف دیکھا چائے کا کپ میز پر رکھا اور مسکراتے ہوئے ایک ایسا سوال کیا جس کا جواب میرے پاس تو کم از کم نہیں۔میرے دوست نے گہری سانس لی مسکرائے اور بولے بھیا! مجھے سمجھا یہ کیسا ملک ہے؟ میں خاموش رہا۔انہوں نے دوبارہ سوال کیا، کیا یہی وہ ملک نہیں جو ہر چھ ماہ بعد ایک ارب یا دو ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے دروازے پر بھیک کے لئے دستک دیتا ہے؟ کیا یہی وہ ملک نہیں جس کے حکمران بیرونی قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے در بدر دنیا بھر کے دارالحکومتوں کے چکر لگاتے ہیں؟ کیا یہی وہ ملک نہیں جس کے مجموعی قرضے اور واجبات ایک سو کھرب روپے کے قریب پہنچ چکے ہیں؟میں پھر خاموش رہا کیونکہ بعض سوالوں کے جواب نہیں ہوتے صرف شرمندگی ہوتی ہے۔مجھے اچانک بچپن کی ایک کہانی یاد آگئی۔ ایک گائوں میں ایک شخص رہتا تھا جو قرض لے لے کر زندگی گزارتا تھا۔ ہر چند ماہ بعد وہ محلے والوں سے ادھار مانگتا لیکن جب بھی کچھ پیسے ہاتھ آتے تو سب سے پہلے اپنے گھر کے دروازے پر نئی رنگ و روغن کرواتا، مہنگے پردے لگاتا اور دوستوں کی دعوتیں کرتا۔
ایک دن گائوں کے بزرگ نے اسے سمجھایا کہ پہلے قرض اتارو پھر آسائشوں کا سوچنا۔ اس شخص نے جواب دیا قرض تو چلتا رہے گا مگر میری عزت کا کیا بنے گا؟آج کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب اسی کہانی کے کردار بن چکے ہیں۔9مارچ 2026ء کو حکومت نے کفایت شعاری اقدامات نافذ کیے تھے۔ پٹرول کے استعمال میں کمی غیر ضروری اخراجات پر پابندی اور بچت کی مختلف تدابیر اختیار کی گئیں۔ عوام کو بتایا گیا کہ ملکی حالات مشکل ہیں اس لئے سب کو قربانی دینا ہوگی۔ عوام نے قربانی دی بھی۔ مہنگی بجلی برداشت کی، مہنگا پٹرول خریدا، مہنگی روٹی اور مہنگی دوا خریدی۔ لیکن صرف چند ماہ بعد اچانک اعلان ہو گیا کہ اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کیے جا رہے ہیں۔کیا پاکستان کے قرضے ختم ہو گئے؟ کیا زرمبادلہ کے ذخائر جاپان کے برابر ہو گئے؟ کیا ہم آئی ایم ایف سے آزاد ہو گئے؟ کیا ہماری برآمدات نے معاشی انقلاب برپا کر دیا؟ اگر ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا تو پھر کفایت شعاری ختم کرنے کی جلدی کیا تھی؟اور سونے پر سہاگہ یہ کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں بھی کفایت شعاری ختم کر دی گئی۔ گویا اب صرف حکومت ہی نہیں انصاف کے ایوانوں میں بھی کفایت شعاری کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو قومیں اسراف سے نہیں بچت اور نظم و ضبط سے ترقی کرتی ہیں۔سنگاپور کی مثال لیجیے۔ آج وہ دنیا کی امیر ترین ریاستوں میں شمار ہوتا ہے لیکن اس کے بانی وزیراعظم نے ملک کے ابتدائی برسوں میں سرکاری اخراجات پر ایسی سخت پابندیاں لگائیں کہ وزرا تک سادگی اختیار کرنے پر مجبور تھے۔ سرکاری وسائل کو مقدس امانت سمجھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چند دہائیوں میں ایک چھوٹا سا جزیرہ معاشی طاقت بن گیا۔دوسری مثال جنوبی کوریا کی ہے۔ 1960 ء کی دہائی میں جنوبی کوریا کی فی کس آمدنی کئی افریقی ممالک سے بھی کم تھی۔ ملک جنگ کی تباہ کاریوں سے نکل رہا تھا۔ حکومت نے قومی سطح پر بچت کی مہم چلائی۔ عوام کو سکھایا گیا کہ چھوٹی سے چھوٹی بچت بھی قومی ترقی میں حصہ ڈالتی ہے۔
آج جنوبی کوریا دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور اس کی کمپنیاں عالمی منڈیوں پر حکمرانی کر رہی ہیں۔تیسری مثال جرمنی کی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ملک کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا تھا۔ لیکن جرمن قوم نے کفایت شعاری، محنت اور نظم و ضبط کو اپنا شعار بنایا۔ غیر ضروری اخراجات کم کیے گئے، وسائل کو ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا گیا اور چند دہائیوں میں جرمنی یورپ کی معاشی انجن بن گیا۔دوسری طرف ہم ہیں۔ہماری حالت یہ ہے کہ قرضے بھی لیتے ہیں سود بھی ادا کرتے ہیں خسارے بھی بڑھاتے ہیں اور پھر کفایت شعاری کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ ہم عوام کو سادگی کا درس دیتے ہیں لیکن ریاست خود شاہانہ اخراجات سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ جب حکومت پٹرول کے استعمال میں بچت نہیں کرے گی تو عوام سے کس منہ سے کہے گی کہ موٹر سائیکل کم چلا؟ جب سرکاری ادارے اخراجات کم نہیں کریں گے تو ایک دکاندار یا مزدور کیوں قربانی دے؟ جب ریاست خود مثال قائم نہ کرے تو معاشرے میں کفایت شعاری کا کلچر کیسے پیدا ہوگا؟یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے حکمرانوں بیوروکریسی اور افسر شاہی کی پرانی عیاشیاں دوبارہ بحال ہو گئی ہوں۔ شاید ہم کوئی مقروض قوم نہیں بلکہ دنیا کی امیر ترین اور ترقی یافتہ ریاست بن چکے ہیں۔ ایک طرف ملک ایک سو کھرب روپے کے قریب قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہیدوسری طرف پٹرول کی بچت سرکاری اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری جیسے اقدامات کو غیر ضروری سمجھ کر ختم کر دیا گیا ہے۔ عوام کو تو ہر روز قربانی صبر اور تنگ دستی کا درس دیا جاتا ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں شاہانہ طرزِ زندگی بدستور قائم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر قرضوں میں ڈوبا ہوا پاکستان بھی بچت کا متحمل نہیں ہو سکتا تو پھر دنیا میں کفایت شعاری کی ضرورت آخر کس ملک کو ہے؟ معیشت صرف اعداد و شمار کا نام نہیں ہوتی بلکہ ایک رویے کا نام ہے۔ جب ریاست بچت کرتی ہے تو قوم بھی بچت سیکھتی ہے۔ جب حکمران سادگی اختیار کرتے ہیں تو عوام بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب اوپر سے فضول خرچی کا پیغام آئے تو نیچے تک یہی پیغام پہنچتا ہے کہ وسائل کی کوئی اہمیت نہیں۔آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک ایک پائی اور ہر روپیہ قیمتی ہے۔ ایسے وقت میں کفایت شعاری ختم کرنے کے فیصلے ایک سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔وہ سوچ جو شاید یہ سمجھتی ہے کہ قرض ہمیشہ ملتے رہیں گے آئی ایم ایف کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے اور قوم ہمیشہ قربانی دیتی رہے گی۔لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں قرضوں پر نہیں کردار پر کھڑی ہوتی ہیں۔ سنگاپور، جنوبی کوریا اور جرمنی نے دنیا کو یہی سبق دیا۔ انہوں نے ترقی سے پہلے بچت سیکھی آسائش سے پہلے نظم و ضبط اپنایا اور اخراجات سے پہلے وسائل پیدا کئے۔میرا وہ دوست پوچھ رہا تھا اگر ایک سو کھرب روپے کے قریب مقروض ملک میں بھی بچت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تو پھر دنیا میں کس ملک کو کفایت شعاری کی ضرورت ہوگی؟ اس کا جواب میرے پاس تو نہیں۔شایدہمارے شاہی خاندانوں اور پالیسی سازوں کے پاس ہو۔

یہ بھی پڑھیں