آئی ٹی کی وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ ان دنوں سخت تنقید کی زد میں ہیں اور ایک نا ختم ہونے والی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ٹیلی کام کے حوالے سے حالیہ دنوں میں انہوں نے جو بل پیش کیا اور اسمبلی سے منظور کرایا،اس پر ہر مکتبہ فکر کی جانب سے شدید اظہار مذمت کیا جا رہا ہے۔اپوزیشن جماعتیں جو پہلے ہی غصے میں تھیں اس بل کے آنے پر مزید غصے کا اظہار کر رہی ہیں۔ ایک شورش سی ہے،جو ہر مجلس میں بپا ہے۔شزہ فاطمہ نے آئی ٹی میں جو عزت کمائی تھی،اب معدوم ہوتی نظر آ رہی ہے۔شزہ پارلیمان کے ایوان زیریں کی اہم رکن ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹر کیا ہوا ہے۔ جس کی ڈگری یونیورسٹی آف وارک سے حاصل کی۔2006ء سے 2010 ء تک انہوں نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں بطور استاد بھی خدمات انجام دیں۔2013 ء کے عام انتخابات میں شزہ فاطمہ خواجہ سیاست میں آئیں اور اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔خواتین کی مخصوص نشست پر مسلم لیگ (ن) کی امیدوار کی حیثیت سے پاکستان کی قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہو گئیں۔اکتوبر 2017 میں شزہ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت کے اہم عہدے پر بھی فائز رہیں۔2018 ء کے عام انتخابات آئے تو شزہ فاطمہ سندھ سے خواتین کے لیئے مخصوص نشست پر مسلم لیگ (ن)کی امیدوار کی حیثیت سے پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہو گئیں۔آج کل شزہ فاطمہ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی ہیں۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے لئے ان کی خدمات بہت اعلیٰ درجے کی اور بے مثل ہیں۔ تاہم شزہ نے جس قسم کا بل حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی سے پاس کروایا ہے اس پر اب ان سے استعفیٰ لینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ہر سو چرچا ہے یہ کیسا بل ہے جس پر عملدرآمد سے ملک میں رہنے والا کوئی بھی شخص اپنا مکان،پلازہ،کمرشل بلڈنگ یا پلاٹ وزارت ٹیلی کام کو ٹاور نصب کرنے لئے دینے کا پابند ہو گا۔انکار کی صورت میں متعلقہ شخص کو بھاری جرمانے کے ساتھ قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
شزہ فاطمہ کے بارے میں بتاتے چلیں کہ موصوفہ سینئر پارلیمنٹرین وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی بھتیجی ہیں۔یعنی خواجہ آصف ان کے چچا ہیں۔اس پس منظر میں کہہ سکتے ہیں کہ شزہ کو سیاست ورثہ میں ملی ہے۔اگرچہ مخصوص نشست پر کامیاب ہو کر اسمبلی پہنچی ہیں۔شائد اسی لیئے عوام کے دکھوں اور مشکلات سے آگاہ نہیں۔صرف چند روز میں شزہ خواجہ کے ساتھ جو کچھ ہو گیا ہے،جس قدر تنقید کا انہیں سامنا ہے۔لفظوں سے اس کا احاطہ ممکن نہیں۔کس نے کہا انہیں ایسا کرنے کو،یہ غور طلب اور سوچنے کی بات ہے۔مذکورہ ٹیلی کام ترمیمی بل کی منظوری سے صرف رسوائی ہی ملی۔جتنی عزت شزہ نے آئی ٹی کے شعبے میں اپنی کارکردگی سے کمائی تھی وہ سب خاک ہوئی۔یہ عزت اب ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہے۔کوئی بھی انسان یا سیاستدان جب اپنے مقام سے گر جائے،پہلے والی عزت نہ رہے تو اسے کیا کرنا چاہیے ؟ شزہ فاطمہ خواجہ کے لیئے یہ سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے۔جس قسم کا ٹیلی کام بل شزہ نے اسمبلی سے منظور کرایا،بہتر ہوتا کہ پہلے میڈیا سے بات کر لیتیں۔اس سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے جواب دیتیں۔عوام کو آگاہی ہوتی کہ یہ متنازع بل کیوں منظور کرایا گیا۔اصل حقیقت کیا ہے؟ ملک بھر میں متنازع بل کو لے کر کافی شور مچا ہوا ہے جو بے معنی نہیں۔بل کی منظوری سے ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کی جائیدادوں تک آزادانہ رسائی دے دی گئی ہے۔جو بہت ہی غیر منصفانہ عمل ہے۔تاہم وزیراعظم نے مختلف میڈیا رپورٹس کے بعد ایک اعلی سطح کی کمیٹی قائم کر دی ہے۔جو مذکورہ بل کی شقوں کا جائزہ لے گی۔ضروری ہوا تو بل میں مناسب ترمیم کر دی جائے گی۔کمیٹی مذکورہ میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی شامل ہیں۔جن کا کہنا ہے کسی کی بھی نجی جائیداد پر قبضے یا زبردستی ٹاور لگانے کا کوئی ارادہ نہیں۔یقین دلاتا ہوں کہ اس بل سے کسی کی ذاتی ملکیت یا پرائیویسی متاثر نہیں ہو گی۔ان کا کہنا ہے مالک کی اجازت کے بغیر کسی نجی املاک پر کوئی ٹاور نہیں لگے گا۔اعتراضات جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔اس معاملے کو جلد حل کرنے کی کوشش کریں گے اور یہ حل ہو بھی جائے گا۔لوگوں کو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
وفاقی وزیر قانون کا مزید کہنا ہے کہ بل کی جن شقوں پر اعتراضات ہیں،ان پر مشاورت ہو رہی ہے۔ ڈیجیٹل ترقی اور کمیونیکیشن کے لئے اب قانون سازی ناگزیر ہو گئی ہے۔حکومت کے لئے لازم ہو گیا ہے آئی ٹی،براڈ بینڈ اور اے آئی کی ترقی کے لیئے تمام رکاوٹیں دور کرے۔تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی بہکائوے میں نہیں آئیں گے۔وہ سرے سے اس قانون کو نہیں مانتے،جسے بالآخر بدلنا ہوگا۔حکومت نے توجہ نہ دی تو شدید ہیجان پیدا ہو گا۔جس سے نقصان حکومت کو ہی ہو گا۔ آئندہ الیکشن میں اس کے لیئے ووٹ حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔لوگوں کی اکثریت کا موقف ہے وزیراعظم کی بنائی ہوئی کمیٹی میں جن اصحاب کو شامل کیا گیا ہے۔ان میں وہ سب وزیر شامل ہیں جن کا اس متنازع ٹیلی کام بل کی منظوری میں کلیدی کردار ہے۔لہٰذا اس کمیٹی کو تسلیم نہیں کرتے۔کمیٹی میں ایسے لوگ شامل ہونے چاہیے جو بالکل غیر جانبدار اور غیر متنازع ہوں۔ بل جوں کا توں رہا،اس پرعملدرآمد شروع ہو گیا تو ملک کے لیئے اچھا نہ ہو گا۔یہ بل کسی طرح بھی عوام کے مفاد میں نہیں۔کسی کی رہائشی عمارت یا جائیداد پر کسی کی مرضی کے بغیر کوئی ٹاور نہیں لگایا جا سکتا۔کوئی سرکاری محکمہ اسے زبردستی استعمال میں لائے،کیسے ممکن ہے؟ انکار پر بھاری جرمانہ اور قید کی سزا کو ہم کالا قانون ہی کہہ سکتے ہیں۔کسی آزاد ریاست میں جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا،ایسا بل جو عوام کے مفاد میں نہیں،نافذ العمل یا اسے لاگو نہیں ہونا چاہیے۔یہ بل رہا تو حکومت کی مقبولیت کا جنازہ یہی عوام بڑی دھوم دھام سے اٹھتے دیکھیں گے۔حکومت کو چاہیئے اس متنازع بل کی واپسی پر غور کرے۔ورنہ جتنی بھی عزت کمائی ہے،ڈھیر ہونے میں کچھ زیادہ وقت نہیں لگے گا۔امید ہے حکومت وقت ضائع کئے بغیر اس بل کو کالعدم قرار دے دے گی اور یہ بل ہمیشہ کے لیئے قصہ پارینہ بن جائے گا۔