(گزشتہ سے پیوستہ)
اب سے پہلے تک پاکستانیوں کی بڑی تعداد انہیں دونوں ملکوں کے درمیان خیر سگالی، امن اور اردو کا سفیرسمجھتی تھی،انہیں ایک متوازن انسان اور زبان و تہذیب کا علمبرار تصور کرتی تھی، پاکستان کو جہنم سے بدتر قرار دے کر انہوں نے پاکستانیوں میں اپنے وقار اور احترام کی مٹی خود پلید کر دی ہے۔ گزشتہ دنوں برطانوی پارلیمنٹ (ہائوس آف لارڈز)میں جاوید اختر کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد ہوئی اس تقریب کے انعقاد کی تاریخ جاوید اختر کے پاکستان کے خلاف حالیہ بیان سے پہلے طے ہوئی تھی تحبیب کے سربراہ طارق فیضی اس کے منتظم تھے۔ اس تقریب میں باذوق اوور سیز پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کی شرکت بھی متوقع تھی لیکن شبانہ اعظمیٰ کے شوہر کے مذکورہ بیان کے بعد غیرت مند اور محب وطن پاکستانیوں کی اکثریت نے اس تقریب میں شرکت سے گریز کیا۔جب میں نے اس تقریب میں شریک ہونے سے معذرت کی تو میرے ایک پاکستانی دوست مجھے کہنے لگے کہ طارق فیضی نے مشاعرے کے علاوہ ایک مکالمے اور گفتگو کے سیشن کا بھی اہتمام کیا ہے جس میں جاوید اختر ادب اور عالمی امن کے تناظر میں اظہار خیال کریں گے۔ میرے ایک اور دوست یہ سن کر مسکرائے اور کہنے لگے کہ ہمسایہ ملک کے خلاف زہر اگلنے سے کون سے ادب اور عالمی امن کو فروغ ملتا ہے؟ جس ملک کے لوگ ان پر اپنائیت نچھاور کرتے رہے ہوں اور وہ جواب میں اس ملک کو جہنم سے بدتر قرار دے تو ایسے شخص سے کسی قسم کے امن اور خیر سگالی کے فروغ کی توقع رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ مجھے ذاتی طو پر بہت حیرانی ہوتی ہے کہ فرحان اختر کے پاپا کا پاکستان نے کیا بگاڑا ہے جو وہ ہمارے ملک کے خلاف اس انتہا پسندی کا اظہار کرنے لگے ہیں اگر وہ ایسے بیانات سے بھارت کے حامل انتہا پسندوں، کٹرہندوئوں اور پاکستان دشمنوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے جو امن پسند لوگ پاک بھارت دوستی اور ہمسایہ ممالک کے درمیان امن کے فروغ کے خواہش مند ہیں وہ جاوید اختر کے نفرت انگیز بیانات کو ایک 80 سالہ ابنارمل بوڑھے کے دماغی خلل سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ویسے بھی آسمان کی طرف منہ کر کے تھوکنے سے انسان کا اپنا منہ ہی لعاب آلودہ ہوتا ہے۔نریندر مودی کے ادوار حکومت میں ہندوستان کا سیکولرازم جس طرح ملیا میٹ ہوا ہے اور مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر بھارت کی زمین تنگ کی جا رہی ہے اس کے بارے میں جاوید اختر کو کبھی اظہار خیال کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
بھارتی مسلمانوں پر قیامتیں گزرتی رہیں، کون سا ظلم ہے جو ان پر نہیں ڈھایا گیا لیکن جاوید اختر ان مظلوموں کی حمایت یا ظالم انتہا پسندوں کی مذمت کرنے کی بجائے پاکستان کو ہدف بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے بارے میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ وہ بہت سوچ سمجھ کر بولتے ہیں لیکن جاوید اختر کے بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ وہ نہ تو بولنے سے پہلے سوچتے ہیں اور نہ بولنے کے بعد اپنی شعلہ بیانی پرغور کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ جاوید اختر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر کسی کی اصلیت کوجاننا ہو تو یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ جب وہ غصے کی حالت میں ہو تو اس کے منہ سے کیا الفاظ نکلتے ہیں۔ واقعی انہوں نے صحیح نشاندہی کی تھی کیونکہ پاکستان کا نام سنتے ہی جاوید اختر غصے میں آ جاتے ہیں اور پھر جن الفاظ میں وہ پاکستان کا ذکرکرتے ہیں ان سے جاوید اختر کی اصلیت ظاہر ہونے لگتی ہے۔میرا خیال تھا کہ لندن میں جاوید اختر کے اعزاز میں ہونے والی تقریب میں مکالمے اور گفتگو کاجو سیشن رکھا گیا تھا اس میں کوئی نہ کوئی پاکستانی صحافی یا مندوب فلمی دنیا کے اس مہان گیت نگار اور کہانی نویس سے یہ سوال ضرور پوچھے گا کہ آخر انہیں پاکستان اور جہنم میں موازنے اور پھر جہنم کو اپنے لئے ترجیح دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس بیان کے پیچھے ان کی کون سی ایسی مجبوری یا محرمات کار فرما تھے کہ جس کے اظہار کے بغیر انہیں ادب یا امن کا کوئی نوبل پرائز ملنے سے رہ جاتا۔
ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے کہ اگر فیض احمد فیض یا احمد فراز بھارت میں مہمان نوازی کا لطف اٹھانے کے بعد پاکستان آکر یہ بیان دیتے کہ وہ ہندوستان جانے کی بجائے جہنم میں جانا پسند کریں گے تو انڈیا میں ان کے لاکھوں مداحوں کے دل پر کیا گزرتی؟ (ویسے تو فیض یا فراز کا جاوید اختر سے موازنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا)۔ میں ذاتی طور پر پاکستان اور بھارت کے خوشگوار سفارتی تعلقات کا بڑا حامی ہوں اور کئی بار اپنے کالمز میں اس بات کی نشاندی کر چکا ہوں کہ جب تک دونوں ممالک اچھے ہمسایوں کی طرح پر امن طریقے سے رہنا نہیں سیکھیں گے، بلکہ ہر وقت ایک دوسرے کے خلاف جنگ پر آمادہ رہیں گئے تب تک دونوں ملکوں کو اپنا کثیر سرمایہ دفاع، جنگی ہتھیاروں اور اسلحے کی خریداری پر صرف بلکہ ضائع کرتے رہنا پڑے گا۔زرا غور کیجئے کہ ہندوستان ہر سال 86.1بلین ڈالر اور پاکستان 2 .10 بلین ڈالرسالانہ جنگی ہتھیار خریدنے اور فوج پر خرچ کرتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو اور وہ اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا شروع کردیں (جس طرح اب یورپی ممالک ماضی کی جنگ و جدل کے بعد پرامن طریقے سے رہ رہے ہیں)تو دونوں ممالک کے وسائل وہاں کے مجبور اورغریب عوام کے کام آسکتے ہیں۔بہت سے لوگوں کو اعتراض ہے کہ جو لادین شخص خدا کوہی نہیں مانتا اسے جنت اور جہنم سے کیا سروکار؟ اسے کسی ملک کی بجائے جہنم میں جانے کو ترجیح دینے کا کیامطلب؟ مشاہدے میں آیا ہے کہ خدا پر یقین نہ رکھنے والے بہت سے لوگ عمر کے آخری حصے میں اپنے خالق سے رجوع کر لیتے ہیں، نفسیاتی الجھنوں کے اندھیرے سے نکل کر فطرت کے اجالے کی طرف آجاتے ہیں،تنہائی کی آخری منزل تک پہنچنے سے پہلے انہیں کسی سہارے، آسرے اور امید کی ضرورت پیش آنے لگتی ہے۔ ایک ہندوستانی شاعر شجاع خاور نے کہا تھا:
اس اعتبار سے بے انتہا ضروری ہے
پکارنے کے لئے اک خدا ضروری ہے
ویسے بھی کہتے ہیں کہ غافل کی آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب بند ہونے کے قریب ہوتی ہے۔ خالق کائنات 80 سالہ جاوید اختر کے حال پر اپنا کرم فرمائے۔