Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

سلمان خان کو عدالت سے فوری ریلیف نہ ملا، ’کالا ہرن‘ کے پروڈیوسر کا بڑا اعلان

ممبئی: سلمان خان کالا ہرن فلم سے متعلق قانونی تنازع نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اداکار کی درخواست پر فوری حکمِ امتناع جاری کرنے کے بجائے کیس کی سماعت 6 جولائی تک ملتوی کر دی، جس کے بعد فلم کے پروڈیوسر امت جانی نے بڑا اعلان کر دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘ میں ان کی شخصیت، ذاتی زندگی اور ماضی کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متعلق ایسے حوالہ جات شامل کیے گئے ہیں جو ان کے شخصیتی حقوق (Personality Rights) کی خلاف ورزی ہیں۔

اداکار نے اپنی درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ فلم کے تشہیری مواد میں ایک ایسا کردار دکھایا گیا ہے جو ان سے مشابہت رکھتا ہے، نیلا بریسلٹ پہنے ہوئے ہے اور اس میں 1998 کے کالا ہرن شکار کیس کے ساتھ گینگسٹر لارنس بشنوئی سے منسوب تنازع کے اشارے بھی موجود ہیں۔

عدالتی سماعت کے دوران عدالت نے فلم کی ریلیز پر کوئی عبوری پابندی عائد نہیں کی، جس کے بعد فلم کے پروڈیوسر امت جانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سلمان خان کو عدالت سے کوئی ریلیف نہیں ملا اور فلم پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی۔

امت جانی نے دعویٰ کیا کہ ان کی فلم دنیا بھر میں تقریباً 8 ہزار سینما گھروں میں بیک وقت ریلیز کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کسی بھی فریق کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتی اور تمام فیصلے قانون کے مطابق کیے جاتے ہیں۔

عدالت میں کیا پیش رفت ہوئی؟

سماعت کے دوران فلم سازوں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘ کو تاحال سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) سے منظوری کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔

عدالت کی جانب سے فلم کی ریلیز کی تاریخ کے بارے میں استفسار پر وکیل نے بتایا کہ ابھی تک کوئی حتمی ریلیز ڈیٹ مقرر نہیں کی گئی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سماعت سے قبل فلم کو سنسر بورڈ میں جمع نہیں کرایا جائے گا۔

اب اس کیس کی اگلی سماعت 6 جولائی کو ہوگی، جہاں عدالت سلمان خان کی درخواست اور فلم سازوں کے مؤقف کا مزید جائزہ لے گی۔

یہ بھی پڑھیں