Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

لندن سے ایک خط جاوید اختر اور جہنم

پاکستان کے دبستان ادب شہر بہاولپور کے معروف شاعر فیضان عارف جو گزشتہ تیس بتیس سال سے لندن میں مقیم ہیں جو امریکہ سمیت تمام یورپی ممالک میں مشاعرے پڑھ کر داد وصول کر چکے ہیں انہوں نے کل لندن سے مجھے ایک خط لکھاجس میں انہوں نے اس ہندوستانی مسلمان شاعر کے متعلق کچھ ذکر کیا جو اس نے لندن کی کسی محفل میں پاکستان کے متعلق نفرت کا اظہار کیا،خط کا متن جناب فیضان عارف کے الفاظ میں حاضر ہے.میرا خیال تھا کہ جاویداختر نے شراب نوشی ترک کردی ہے کیونکہ کوئی بھی معقول شخص بقائمی ہوش و حواس ایسا بیان نہیں دے سکتا جو کہ انہوں نے پاکستان کے حوالے سے دیا ہے یعنی وہ پاکستان کی بجائے جہنم میں جانے کو ترجیح دیں گے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اب تک وہ پاکستان کے جو دور ے کر چکے ہیں انہیں کس کھاتے میں ڈالیں گے۔ پاکستانی دوروں میں انہیں جو پذیرائی اور عزت ملتی رہی لگتا ہے کہ وہ عزت انہیں راس نہیں آئی۔ معلوم نہیں انہیں پاکستان کے بارے میں ایسا بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی حالانکہ ان کا کام تو اس کے بغیر بھی خوب چل رہا تھا۔انسان کو جہاں خارش نہ ہو رہی ہو وہاں کھجلی کرنا بلکہ کھجلی کئے چلے جانا کوئی سمجھ داری کی بات نہیں ہوتی۔ جاوید اختر اگر پاکستان کے خلاف زبان درازی سے اپنی حب الوطنی کا ثبوت دینا یا ہندو انتہا پسندوں کے عتاب سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ ایک الگ معاملہ ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ جاوید اختر اور ان کے خاندان کی مالی حیثیت کیا ہے اور ہندوستان میں ان کے اثاثے کتنی مالیت کے ہیں حن کے تحفظ کے لئے وہ دیگر ملٹی ملین ائر ہندوستانی مسلمانوں بلکہ نام نہاد مسلمانوں کی طرح مودی سرکار اور ہندو انتہا پسندوں کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔
جہاں تک جہنم میں جانے کا تعلق ہے تو جاوید اختر اپنا یہ شوق ضرور پورا کریں اس کے لئے پاکستان کو بیچ میں لانے کی بالکل ضرورت نہیں۔جاوید اختر عرف جادو کے مذاہب کے بارے میں جو نظریات ہیں ہندوستان کے لوگ ان سے پوری طرح آگاہ ہیں، اگر کوئی دہریہ اور لادین شخص جہنم کے بارے میں تمام تر معلومات اور اپنے اعمال اور خیالات کے باوصف جہنم میں جانا چاہتا ہے تو ہم پاکستانی اسے روکنے والے کون ہوتے ہیں۔جاوید اختر اپنے انٹرویوز اور تقریروں میں جس طرح مسلمانوں اور اسلام کی ہرزہ سرائی کرتے ہیں اگر وہ ہندو مذہب کے بارے میں اس قسم کے تاثرات اور خیالات کا بھی کھل کر اظہار کریں تو ان کا انجام بھی ایم ایف حسین سے مختلف نہیں ہوگا اور ان کی ساری حب الوطنی دھری کی دھری رہ جائے گی۔جاوید اختر کس درجے کے شاعر اورفلمی رائٹر ہیں یا ان کا تعلق کس ادبی خاندان سے ہے اس سے قطع نظر شاعروں کے حوالے سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ حساس اور دور اندیش ہوتے ہیں۔جاوید اختر اگر شاعر یا حساس شاعر ہیں تو انہیں پاکستان یا جہنم کے انتخاب والا بیان دینے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہئے تھا کہ اس سے ان کے لاکھوں پاکستانی مداحوں (جو کہ اب ان کے مداح نہیں رہے)کی دل آزاری ہو گی اور انہیں تکلیف پہنچے گی۔ فیض احمد فیض کی بیٹیاں اور نواسے کیا سوچیں گے کہ وہ بھی جو لاہور میں جاوید اختر کی میزبانی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے تھے۔جاوید اختر کا بیان اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ وہ پاکستان دشمنی میں انتہا پسند ہو چکے ہیں حالانکہ وہ کمیونسٹ ہونے کے بھی دعویدار ہیں۔وہ جس طرح پاکستان کے آرمی چیف کا حوالہ دے کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے اور انہیں اپنی نفرت بھری تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ہندو انتہا پسندوں کی ترجمانی کر رہے ہیں۔جو شخص ہمسایہ ملکوں کے بارے ایسی نفرت کا اظہار کرتا ہو اس کی ترقی پسندی، روشن خیالی اور انسان دوستی محض ڈھکوسلہ ہی سمجھی جائے گی، پاکستانیوں کی اکثریت اس بات پر حیران ہوتی ہے جس شخص کے دل اور دماغ میں پاکستان کے لئے اتنی نفرت بھری ہوئی ہے اسے بھارت کے بڑے بڑے اعزارت پدمابھوشن، پدماشری اور ساہتیہ ایوارڈ کے علاوہ جامعہ ہمدرد یونورسٹی کی طرف سے اعزازی ڈاکٹر کی ڈگری بھی دی جا چکی ہے اور وہ بھارتی راجیہ سبھا کے رکن (ممبرآف پارلیمنٹ) بھی رہ چکے ہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں