Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

سیلاب اور سدوال: ضلع چکوال کا سب سے بڑا المیہ

پاکستان میں حالیہ دنوں میں آنے والے شدید سیلاب اور کلائوڈ برسٹ نے شمالی اور وسطی پنجاب کے اضلاع میں زندگیوں کو تہس نہس کر دیا ہے۔ ہزاروں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔کھیتوں کی فصلیں بہہ گئی ہیں اور بنیادی سہولیات کی کمی نے زندگی کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔ اس قدرتی آفت نے نہ صرف انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ معیشت، تعلیم اور معاشرتی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ضلع چکوال اور خاص طور پر تاریخی گائوں سدوال، جس کو چوہدری سلطان حیدر علی ایم پی اے کی خصوصی کوششوں سے ماڈل ولیج قرار دیا گیا ہے، اس قدرتی تباہی کا سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔وہاں کے لوگ بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔سدوال گاں میں سب سے بڑا اور قابل ذکر مسئلہ گائوں کا مرکزی پل کے ٹوٹنے کا ہے، جو سیلاب کے نتیجے میں مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ یہ پل نہ صرف نقل و حمل کے لیے اہم تھا بلکہ گائوں کے لوگوں کی روزمرہ زندگی، روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات سے جڑا ہوا تھا۔ پل کی غیر موجودگی نے گائوں کی معاشرتی زندگی کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے، کیونکہ لوگ ایک دوسرے سے رابطہ قائم رکھنے اور اپنے معمولات زندگی کو جاری رکھنے میں ناکام ہیں۔یہ پل صرف ایک سڑک یا لکڑی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ سدوال گائوں کے لوگوں کی زندگی، روزگار اور معاشرتی روابط کا ستون ہے۔ اگر یہ پل فوری طور پر بحال نہ کیا گیا تو نہ صرف انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو گا بلکہ گائوں کی معیشت اور روزگار کی بنیادیں بھی مزید کمزور ہوں گی۔سدوال گائوں کے لوگ آج اپنی امیدیں حکومت اور منتخب نمائندوں سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ذاتی مفادات یا سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صرف عوام کی خدمت کی جائے۔ فوری اقدامات، بروقت فنڈز کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو آج سب سے زیادہ ضروری ہیں۔سدوال گائوں کے پل کی بحالی سے گائوں کے لوگ دوبارہ اپنی زندگیوں کو معمول پر لا سکیں گے۔پل کی مرمت کے ساتھ ساتھ گائوں میں بنیادی سہولیات کی بحالی بھی نہایت اہم ہے۔ سیلاب کے بعد پانی کی کمی، صفائی کی عدم دستیابی اور صحت کے مسائل شدید ہو گئے ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسائل مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔
حکومت کو چاہیے کہ عارضی ہسپتال قائم کرے، دوائیاں فراہم کرے اور پانی کی صاف فراہمی یقینی بنائے تاکہ انسانی جانیں محفوظ رہ سکیں۔ انسانی ہمدردی اور خدمت کا جذبہ آج سب سے زیادہ ضروری ہے۔ حکومت اور سیاسی نمائندوں کی بروقت توجہ اور فنڈز کی فراہمی سے نہ صرف سدوال گائوں بلکہ پورے ضلع چکوال کے متاثرہ علاقوں میں زندگی دوبارہ بحال کی جا سکتی ہے۔ یہ فنڈز صرف تعمیر نو کے لیے نہیں بلکہ انسانی جانیں بچانے، روزگار کی بحالی اور معاشرتی استحکام کے لیے استعمال ہونے چاہئیں۔ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قدرتی آفات انسان کے قابو سے باہر ہوتی ہیں، مگر ان کے اثرات کو کم کرنے اور لوگوں کی زندگی بچانے کا اختیار ہمارے ہاتھ میں ہے۔ آج اگر آپ لوگ سدوال گائوں کے لوگوں کی مدد کریں، ٹوٹے ہوئے پل کی بحالی یقینی بنائیں اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کریں تو نہ صرف انسانی زندگیوں کو بچائیں گے بلکہ ایک مضبوط، مستحکم اور ہمدرد معاشرہ بھی قائم کریں گے۔ گائوں کے لوگ اس وقت شدید پریشانی میں ہیں۔ بزرگ، خواتین اور بچے سب ایک ہی خوف اور بے بسی کے عالم میں ہیں۔اس پل کو محکمہ ہائی وے کے اعلیٰ افسران نے بھی اپنے خصوصی معائنہ کے دوران شدیدنقصان قرار دیتے ہوئے اس کو فوری طور پر دوبارہ بحالی کا ایسٹیمیٹ بھی بنا کر مقامی ایم پی اے کو پیش کر دیا ہے۔جنہوں نے کمال شفقت اور مہربانی سے اس پل کی فوری طور پر بحالی کا وعدہ بھی فرما دیا۔ اب اگر حکومت اور سیاسی نمائندے بروقت اقدامات کریں تو نہ صرف انسانی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ معاشرتی سکون بھی قائم رکھا جا سکتا ہے لیکن یہ سارے کام حکومت کی خاص توجہ کے بغیر بالکل ممکن نہیں ہو سکتے کیونکہ ممبران اسمبلی اس وقت تک کچھ نہیں کر سکتے جب تک حکومت اپنے خزانے کے دروازے نہ کھولے۔میں جانتا ہوں کہ حکومت عوام کی خدمت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور مشکل حالات میں ان کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے بروقت اور موثر اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔
موجودہ حالات میں ضلع چکوال میں کم از کم تین سے چار بلین روپے کی رقم کے فنڈزفوری طور پر تحصیل چکوال کے لئے ممبر قومی اسمبلی میجر طاہر اقبال ملک اور ایم پی اے چوہدری سلطان حیدر علی کو مہیا کئے جائیں۔ان کے ووٹر ان کو سخت تنگ کر رہے ہیں اور وہ حکومتی نمائندے حکومت کی طرف سے بر وقت فنڈز مہیا نہ کرنے کی وجہ سے اپنے اور خصوصاً اپنی پارٹی کے ورکرز کے سامنے جھوٹی تسلیاں دینے پر مجبور ہیں۔ یہ فنڈز سڑکوں کی مرمت، خراب شدہ فصلوں کی بحالی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ موجودہ حکومت کی عوامی خدمت اور بحران کے وقت فیصلہ سازی میں تیز رفتاری اس بات کی مثال ہے کہ قیادت کس حد تک عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔ تین چار ارب روپے اگر فوری طور پر مقامی سطح تک پہنچا دیا جائے تو یہ عوام کے لیے زندگی بچانے والا خاص اقدام ہوگا۔ حکومت جلد از جلد فنڈز مہیا کر کے متاثرہ عوام کی زندگیوں میں نمایاں بہتری لا سکتی ہے۔ یہ نہ صرف حکومت کی مثبت تصویر پیش کرے گا بلکہ آئندہ کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گا کہ بحران کے وقت حکومت اور عوام ایک ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔یہ کالم نہ صرف سدوال گائوں کے لوگوں کے درد و غم کو اجاگر کرتا ہے بلکہ حکومت اور سیاسی نمائندوں کے لیے ایک پرجوش درخواست بھی ہے کہ وہ فوری فنڈز فراہم کریں اور اس تباہ شدہ علاقے کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ وہ ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ یہ صرف ایک گائوں کے لوگوں کی فریاد نہیں ہے بلکہ آپ کی عزت، پارٹی کی عزت، قومی اسمبلی کی عزت کا سوال ہے۔الیکشن میں بھی ن لیگ بھاری اکثریت سے جیتی ہے اور اس پارٹی نے ناکامی کا سامنا نہیں کیا اور اب بھی ضلع چکوال کی عوام کی آپ کی پارٹی سے گہری امیدیں وابستہ ہیں۔ امید ہے آپ انہیں مایوس نہیں کریں گی۔ آخر میں ایک بنیادی پھر گزارش ہے کہ چکوال کے لئے فنڈز جتنا جلدی ہو سکے مہیا کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں