دنیا کی تاریخ میں کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں جو وقت کے ساتھ مٹتے نہیں بلکہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اپنی سیاہی گہری اور اپنی یادیں مزید تلخ کرتے جاتے ہیں۔ ایسے ہی دنوں میں کشمیر کی تاریخ میں27اکتوبر وہ دن ہے جب ظلم کے سائے میں جلتا ہوا کشمیر انسانیت کے ضمیر پرسوال بن کر ابھرا۔وہ دن جب ظلم نے جنت ارضی پر قبضہ کیا، جب آزادی کی صبح کو بندوقوں کے شور نے نگل لیا، جب معصوموں کے خوابوں کو بوٹوں تلے کچلا گیا اور جب انسانیت کا ضمیر شرم سے جھک گیا۔ اس دن بھارتی فوج نے بغیر کسی قانونی، اخلاقی یا انسانی جواز کے وادیٔ کشمیر پر جبراً قبضہ کیا اور یوں جنت نظیر وادی کو دوزخ بنا دیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب برصغیر کی تقسیم کے وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے کشمیری عوام کی آزادی کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔ ستائیس اکتوبر کا دن محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ظلم و بربریت کی وہ داستان ہے جو آج پچھتر برس بعد بھی اپنے ہر زخم کے ساتھ زندہ ہے۔ ہر سال جب یہ دن لوٹتا ہے تو کشمیر کی فضائیں سسک اُٹھتی ہیں، دریا لہو کی طرح بہنے لگتے ہیںاور ہر کشمیری کی آنکھ سوال بن کر دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے کہ کب تک جنت کو قید رکھا جائے گا؟ کب تک اقوامِ عالم انصاف کے تقاضے بھول کر طاقتور کے جرم پر پردہ ڈالتی رہیں گی؟ یہ سیاہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، یہ ایک عہد ہے، ایک جدوجہد ہے، ایک ایمان ہے جو غلامی کو تسلیم نہیں کرتا۔تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ بندوقوں سے آزادی کی آواز نہیں دبتی، ظلم کے سائے زیادہ دیر روشنی کو نہیں روک سکتے اور حریت کی چنگاری لاکھ اندھیروں میں بھی بجھ نہیں سکتی۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہر ستائیس اکتوبر ہمیں سناتا ہے کہ کشمیر آج بھی زندہ ہے، اس کی دھڑکنیں ابھی باقی ہیں اور آزادی کی صبح آنے کو ہے۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک دراصل ایک ایسا ایمان افروز باب ہے جس نے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ کوئی قوم کتنی ہی مظلوم کیوں نہ ہو، جب اس کے سینے میں غیرت کی چنگاری موجود ہو تو وہ غلامی کو اپنا مقدر نہیں بناتی۔ کشمیری قوم نے گزشتہ سات دہائیوں میں جس صبر، حوصلے اور استقامت سے ظلم کا مقابلہ کیا ہے، وہ تاریخِ انسانی میں کم ہی نظر آتا ہے۔ بھارت نے ظلم کی ہر انتہا کر ڈالی، کبھی گولی سے، کبھی کوٹھڑیوں میں تشدد سے، کبھی عورتوں کی عصمت دری سے، کبھی نوجوانوں کے سینے چھلنی کر کے، مگر کشمیر کی روح کو شکست نہ دے سکا۔ اس وادی نے ہر شہید کے خون سے ایک نیا نعرہ جنم دیا، ہر آنسو سے ایک نئی دعا کو جنم دیا اور ہر ملبے سے ایک نیا عزم اُبھرا۔ بھارتی ریاست نے سمجھا تھا کہ بندوقوں اور خوف کے سایے میں آزادی کی خواہش کو دفن کر دے گامگر اس کی ناپاک سوچ اس وقت شکست کھا گئی جب بچے پتھروں سے ٹینکوں کا مقابلہ کرنے لگے، جب عورتیں اپنے بیٹوں کے کفن پر فخر کرنے لگیں اور جب بزرگ اپنی قبروں سے حریت کے پیغام بن گئے۔
ستائیس اکتوبر کے بعد سے آج تک ہر دن، ہر رات، ہر لمحہ کشمیری عوام کے لیے ایک امتحان ہے لیکن انہوں نے غلامی کو تسلیم نہیں کیا۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، یہ جملہ صرف سیاست نہیں، عقیدہ ہے، ایک ایمان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ہر بچہ، ہر سپاہی، ہر لکھنے والا، ہر دعا کرنے والا دل سے کہتا ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔ ستائیس اکتوبر کی سیاہی نے اگرچہ ظلم کی فصل بوئی تھی مگر اسی سیاہی کے بیچوں بیچ آزادی کی روشنی بھی پیدا ہوئی۔ دنیا کی طاقتیں اپنی مفادات کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں، لیکن اقوامِ عالم کی بے حسی کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے کبھی کم نہیں ہوئے۔ جب جب بھارت نے ظلم بڑھایا، کشمیر کی وادی نے اللہ اکبر کی صدا بلند کی۔ جب جب انسانیت نے آنکھیں پھیر لیں، کشمیری ماں نے اپنے بیٹے کے کفن پر ہاتھ رکھ کر کہا، ’’میرے لال! تیرا خون رائیگاں نہیں جائے گا‘‘۔ یہ جذبہ، یہ ایمان، یہ عزم اس قوم کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ سفارتی محاذ پر کشمیریوں کا مقدمہ لڑا، اقوامِ متحدہ میں قراردادوں سے لے کر عالمی فورمز تک، ہر جگہ یہ واضح کیا کہ کشمیر کا مسئلہ کوئی زمینی تنازع نہیں بلکہ انسانیت کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ مگر افسوس کہ دنیا کے وہی طاقتور ادارے جو آزادی، انسانی حقوق اور انصاف کی دہائی دیتے ہیں، کشمیر کے مظلوموں پر ہونے والے ظلم کے سامنے خاموش ہیں۔ لیکن یہ خاموشی زیادہ دیر نہیں رہے گی، کیونکہ ظلم کبھی دائمی نہیں ہوتا۔ آج کشمیر کے اندر جو آگ جل رہی ہے وہ محض ایک علاقے کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کو جھلسا رہی ہے۔ بھارت نے کشمیریوں کی شناخت مٹانے کی کوشش کی، ان کی زمین چھینی، ان کے قانون بدلے، ان کے پرچم کو روند ڈالالیکن کشمیری دل سے’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ نہ چھین سکا۔ یہی ایمان، یہی غیرت اور یہی استقامت بھارت کی شکست کی ضمانت ہے۔ کشمیر پاکستان کی رگِ جاں ہے، اور رگِ جاں سے خون بہہ جائے تو جسم زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہی احساس پاکستانی قوم کو ایک اُمید، ایک وعدہ، ایک جہد مسلسل پر قائم رکھتا ہے۔ ستائیس اکتوبر کی سیاہی اگرچہ آج بھی دنیا کے ضمیر پر پھیلی ہوئی ہے مگر اس کے مقابل کشمیریوں کے دلوں میں امید کا چراغ روشن ہے، اور اس چراغ کی روشنی اتنی طاقتور ہے کہ ظلم کے اندھیرے اسے بجھا نہیں سکتے۔ کشمیر کے میدانوں میں بہنے والا لہو گواہی دے رہا ہے کہ حریت کی تحریکیں بندوقوں سے نہیں مرتیںبلکہ ہر شہید کے لہو سے نئی جان پاتی ہیں۔ یہی کشمیر کی داستان ہے، یہی پاکستان کا وعدہ ہے اور یہی امتِ مسلمہ کا فریضہ ہے کہ جنت ارضی کو ظلم سے آزاد کرایا جائے۔ یہ سیاہ دن اگرچہ ایک زخم ہے مگر یہی زخم غیرت کی علامت بھی ہے، یہی دن کشمیریوں کے عزم کا نشان بھی ہے، یہی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم کا سورج ہمیشہ کے لیے نہیں چمکتااور حریت کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ کشمیری ماں کی دعا، مجاہد کی للکار، شہید کا لہو اور پاکستانی قوم کا عزم یہ سب مل کر ایک صدا بن چکے ہیں: ظلم ہارے گا، کشمیر جیتے گا۔ یہی ایمان، یہی یقین، یہی وعدہ ہماری آنے والی نسلوں کا سرمایہ ہے۔ کیونکہ کشمیر صرف وادی نہیں، یہ ہماری غیرت کی پہچان، ہمارے ایمان کا اظہاراور ہماری تاریخ کاوہ باب ہے جسے وقت کبھی مٹا نہیں سکے گا۔
