آزاد کشمیر بجٹ 2026-27 کے اہم خدوخال سامنے آگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کے لیے 286 ارب روپے حجم کا بجٹ تیار کیا گیا ہے، جسے 29 جون کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 250 ارب روپے جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے لیے 36 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال 2026-27 کی بجٹ تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ مجوزہ بجٹ کا حجم رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ 262 ارب روپے کے بجٹ کے مقابلے میں 24 ارب روپے زیادہ رکھا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025-26 کے آغاز پر 310 ارب روپے کا بجٹ منظور کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں نظرثانی کے دوران اسے کم کرکے 262 ارب روپے کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 48 ارب روپے کی کمی کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے، عوامی فلاح اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی اہم مالی تجاویز شامل کیے جانے کا امکان ہے تاکہ مختلف شعبوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
بجٹ پیش ہونے کے بعد آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اس پر عام بحث کا آغاز ہوگا، جہاں حکومتی اور اپوزیشن ارکان اپنی تجاویز اور آراء پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس 29 جون بروز پیر صبح 11 بجے بلاک نمبر 12، سول سیکرٹریٹ مظفرآباد میں منعقد ہوگا، جہاں وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کریں گے۔
سیاسی اور معاشی حلقے اس بجٹ کو آزاد کشمیر کی آئندہ مالی و ترقیاتی ترجیحات کے تعین کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں، جبکہ بجٹ میں عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کی بہتری پر خصوصی توجہ دیے جانے کی توقع ہے۔
