ایرانی ریال کی قدر میں حالیہ بہتری کے بعد پاکستان میں اس کرنسی کی خرید و فروخت میں دلچسپی برقرار ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت اور امن معاہدے کی امیدوں نے سرمایہ کاروں کی توجہ ایک مرتبہ پھر ایرانی کرنسی کی جانب مبذول کرا دی ہے، جس کے باعث مقامی مارکیٹ میں ریال کی طلب میں استحکام دیکھا جا رہا ہے۔
کرنسی ڈیلرز کے مطابق کراچی، لاہور اور کوئٹہ کی اوپن مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کا بنڈل تقریباً 9 ہزار سے 10 ہزار پاکستانی روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ 10 لاکھ ایرانی ریال کی قیمت 6 ہزار 600 سے 7 ہزار روپے کے درمیان دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم مختلف شہروں، ڈیلرز اور لین دین کے حجم کے لحاظ سے قیمتوں میں معمولی فرق ممکن ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پر ممکنہ پابندیوں میں نرمی اور سفارتی ماحول بہتر ہونے کی توقعات نے ایرانی ریال میں سرمایہ کاری کا رجحان بڑھایا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی سطح پر ریال کی سرکاری شرح مبادلہ اور ایران کی آزاد مارکیٹ کی قیمتوں میں واضح فرق موجود ہے، لیکن پاکستان میں اوپن مارکیٹ کی طلب مقامی تجارتی سرگرمیوں سے بھی متاثر ہوتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان غیر رسمی سرحدی تجارت، ایندھن کی خریداری اور کرنسی کے تبادلے کی وجہ سے ایرانی ریال کی مقامی مارکیٹ میں الگ اہمیت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات پاکستان میں ریال کی قیمت عالمی بینچ مارک سے مختلف دیکھی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششیں کامیاب رہتی ہیں اور خطے میں کشیدگی مزید کم ہوتی ہے تو ایرانی ریال کی قدر میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔ تاہم اگر مذاکرات میں تعطل آیا یا علاقائی صورتحال دوبارہ خراب ہوئی تو کرنسی مارکیٹ پر اس کے منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
کرنسی ڈیلرز نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ ریال کی خریداری سے قبل مستند ایکسچینج کمپنیوں سے تازہ ترین نرخ ضرور معلوم کریں، کیونکہ مارکیٹ میں قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو سکتی ہیں۔
