Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

یوم استحصال: کشمیر پر ظلم کی چھاپ

پانچ اگست کا دن پاکستانی عوام اور کشمیریوں کے دلوں پر ایک گہرا زخم چھوڑ جانے والے واقعے کی یاد دلاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے ناجائز تسلط کو مضبوط کرنے کے لیے بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو پامال کرتے ہوئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کیے۔ آج چھ برس گزرنے کے بعد بھی اس روز کو یومِ استحصال کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یاد دلایا جا سکے کہ کشمیری عوام اب بھی ایک کھلی جیل میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اور ان کا حقِ خود ارادیت آج بھی سلب ہے۔
پانچ اگست 2019 ء کو بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کر کے کشمیری عوام کی خصوصی آئینی حیثیت کو مٹا دیا، جو کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے منافی اقدام تھا۔ ان اقدامات کا مقصد صرف کشمیریوں کو ان کی زمین، شناخت، مذہب اور سیاست سے محروم کرنا تھا۔ اس روز کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا، جہاں ظلم و ستم کو ادارہ جاتی شکل دی گئی۔ ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کو مہینوں بند رکھا گیا، سیاسی قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا گیااور روزمرہ زندگی کو عذاب بنا دیا گیا۔
آج بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کی گلیوں میں بھارتی فوج کا راج ہے۔ ہر روز معصوم کشمیری نوجوانوں کو محض اس لیے گرفتار کر لیا جاتا ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ ہر محلے میں سرچ آپریشنز معمول بن چکے ہیں۔ گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں، بچوں، بوڑھوں، اور خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ انسانی حقوق کے ان عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ہے جن کا علمبردار خود بھارت بننے کی کوشش کرتا ہے۔ مقامی قیادت، جو کہ کشمیری عوام کی ترجمان ہے، یا تو جیلوں میں ہے یا خاموش کرا دی گئی ہے۔ کشمیریوں کو میڈیا کے ذریعے اپنی آواز دنیا تک پہنچانے سے بھی روکا جا رہا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ ہو یا اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، یورپی یونین ہو یا انسانی حقوق کے عالمی ادارے، پاکستان نے ہر فورم پر کشمیریوں کا مقدمہ مضبوط انداز میں پیش کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے: مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے اور کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔ پاکستان، چاہے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرے، کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کے لیے صرف فوجی طاقت استعمال نہیں کر رہا، بلکہ وہ ایک منظم منصوبے کے تحت آبادیاتی تبدیلیاں لا کر کشمیری مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نئی ڈومیسائل پالیسیوں کے ذریعے غیر کشمیریوں کو شہریت دی جا رہی ہے، زمینیں چھینی جارہی ہیں اور مذہبی و ثقافتی شناخت کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تمام اقدامات ایک غیر مرئی جنگ کا حصہ ہیں جو کشمیر کی شناخت کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔
بھارت کے یہ اقدامات نہ صرف مقامی سطح پر تباہ کن ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق نکالا جائے۔ بھارت کی ہٹ دھرمی، جارحیت اور کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی روش سے نہ صرف بھارت کا عالمی چہرہ داغدار ہو رہا ہے بلکہ خطے میں جنگ کے خطرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ پاکستان، جو بھارت کے ساتھ تین جنگیں لڑ چکا ہے، آج بھی مسئلے کے پرامن حل کی بات کرتا ہے، جو کہ اس کے امن پسندی کے اصولوں کا ثبوت ہے۔اس کے برعکس بھارت کی موجودہ حکومت نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کے خلاف ایک منفی بیانیہ پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ کشمیریوں کی پرامن جدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑنے کی سازش کی گئی، مگر دنیا کی آنکھیں اب کھل چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں، غیر جانب دار صحافی، اور متعدد ممالک کی پارلیمنٹس بھارت کے اقدامات پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ اگرچہ بھارت اپنے عدالتی فیصلوں اور قانون سازی کے ذریعے کشمیر پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن کشمیری عوام کی مزاحمت اور ان کی پاکستان سے وابستگی آج بھی ناقابلِ شکست ہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کشمیری عوام سات دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ وہ بین الاقوامی برادری سے سوال کر رہے ہیں کہ اُن سے کیے گئے وعدے کب پورے ہوں گے؟ کب انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جائے گا؟ کب بھارت کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے؟ کب ان مظلوموں کی آواز سنی جائے گی جو ہر روز اپنے پیاروں کو دفنا رہے ہیں؟ یہ سوالات صرف کشمیریوں کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر دستک دے رہے ہیں۔پاکستان کا ہر فرد، ہر ادارہ اور ہر حکومت کشمیریوں کی اس جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہے۔ چاہے وہ عالمی فورمز پر آواز بلند کرنا ہو، یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنا، پاکستان نے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ہے اور کرتا رہے گا۔ 5 اگست کو یومِ استحصال منا کر پاکستان دنیا کو یہ یاد دلا رہا ہے کہ کشمیر کوئی اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے، جس کا حل صرف اور صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ممکن ہے۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیری عوام کا پاکستان کے ساتھ رشتہ خونی، نظریاتی اور روحانی ہے۔ یہ رشتہ دشمن کی سازشوں، جبر اور تشدد سے ختم نہیں ہو سکتا۔ کشمیری عوام نے ہر دور میں اپنی قربانیوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔ ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ان کی دعائیں پاکستان کے لیے ہیںاور ان کی امیدیں بھی پاکستان سے وابستہ ہیں۔پانچ اگست کو منایا جانے والا یومِ استحصال صرف احتجاج کا دن نہیں بلکہ ایک عہد کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم کشمیریوں کی آواز کو کبھی کمزور نہیں پڑنے دیں گے، ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں گے اور ان کی جدوجہد کو اپنی جدوجہد سمجھ کر جاری رکھیں گے۔ وقت آئے گا جب ظلم کی سیاہ رات کا خاتمہ ہو گا، جب شہیدوں کا لہو رنگ لائے گا اور جب کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔ تب تک ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، تب تک ہم آواز بلند کرتے رہیں گے۔انشاء اللہ

یہ بھی پڑھیں