جمہوری معاشروں میں احتجاج، اظہارِ رائے اور اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھانا ایک آئینی اور سیاسی عمل سمجھا جاتا ہے، مگر جب یہی احتجاج عوامی زندگی، معیشت، سلامتی اور قومی وحدت کے لئے چیلنج بن جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ عمل قوم دوستی ہے ؟ ٹی ایل پی ایک ایسی مذہبی و سیاسی جماعت ہے جس نے اپنے وجود کے آغاز سے ہی ریاستی پالیسیوں پر دبا ڈالنے کے لئے عوامی سڑکوں کا انتخاب کیا۔ ہر مرتبہ یہ دھرنا ملک کے لئے ایک نئی آزمائش لے کر آیا۔ شہر بند، سڑکیں مفلوج، تعلیمی ادارے متاثر، کاروبار ٹھپ اور عوام خوف و بے یقینی میں مبتلا۔ اس کے باوجود ٹی ایل پی کا مقف یہ رہا ہے کہ وہ دینِ اسلام، ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالتؓ کے دفاع میں میدانِ عمل میں ہیں۔ مگر دوسری جانب ریاست کا موقف یہ رہا کہ ملک میں قانون و آئین سے بالاتر کوئی فرد یا جماعت نہیں ہو سکتی۔ یہی وہ تصادم ہے جس نے اس جماعت کے ہر احتجاج کو ایک قومی بحران میں بدل دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر مقصد دین کی سربلندی ہے تو کیا اس کے لئے سڑکوں پر نکل آنا اور ریاستی اداروں سے تصادم کو جائز قرار دینا درست عمل ہے؟ اس کے باوجود حکومتِ وقت نے ہمیشہ تحمل، مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کا راستہ اپنانے کی کوشش کی۔ حالیہ دھرنے میں بھی یہی رویہ دیکھنے کو ملا۔ وفاقی وزرا کے وفود نے مذاکرات کئے، علما و مشائخ کو بیچ میں ڈالا گیا اور کوشش کی گئی کہ معاملہ تصادم کے بجائے مفاہمت پر ختم ہو۔ حکومت نے ماضی کی طرح حالیہ دھرنے میں بھی متوازن رویہ اپنانے کی کوشش کی۔ جب کسی جماعت کی پالیسیوں سے انتشار، تصادم یا عوامی مشکلات جنم لیں تو اس کے اثرات صرف حکومت تک محدود نہیں رہتے بلکہ قومی اتحاد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹی ایل پی کے کارکنان میں اکثریت وہ نوجوان ہیں جو مذہبی عقیدت میں سرشار ہیں، مگر سیاسی تربیت اور مکالمے کے تقاضوں سے ناواقف ہیں۔ ان کے سامنے جذباتی نعروں اور جوشیلے خطبات کا غلبہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے ہی ملک کے اداروں سے برسرِپیکار ہو جاتے ہیں۔ ریاست کے لیے یہ ایک نازک صورتحال ہے کہ وہ اپنے شہریوں پر تشدد نہ کرے، لیکن امن عامہ کو بھی یقینی بنائے۔ یہی توازن برقرار رکھنا حکومت کے لئے سب سے بڑی آزمائش ہے۔اس ساری صورتحال میں میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔
بعض اوقات میڈیا کے کچھ حلقے ان احتجاجوں کو غیر ضروری طور پر نمایاں کر کے فضا کو مزید کشیدہ کر دیتے ہیں۔ عوامی ذہن سازی میں میڈیا کا اثر گہرا ہے، اس لئے ذمہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ مذہبی معاملات کو اشتعال انگیزی کے بجائے فہم و تدبر سے پیش کیا جائے۔اگر ہم ٹی ایل پی کے مطالبات کا جائزہ لیں تو ان میں کچھ ایسے نکات ضرور شامل ہوتے ہیں جنہیں اسلامی جذبات کے تناظر میں جائز سمجھا جا سکتا ہے۔ مثلاً ناموسِ رسالتؐ کے معاملے پر پوری قوم ایک آواز ہے۔ لیکن طریقہ ء احتجاج وہ نقطہ ہے جہاں اتفاق ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی محبِ وطن شخص یہ نہیں چاہے گا کہ مذہبی جذبے کے نام پر سڑکیں میدانِ جنگ بن جائیں یا عوامی زندگی مفلوج ہو۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسلام کے پیغام میں امن، برداشت اور انصاف بنیادی اقدار ہیں، جنہیں برقرار رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔حکومت کے اقدامات کی بات کی جائے تو موجودہ حکومت نے ٹی ایل پی کے ساتھ مکالمے کی پالیسی جاری رکھی۔ تحریک کے رہنماں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات پر غور ہو گا اور ان کے کارکنان کے ساتھ منصفانہ رویہ اپنایا جائے گا۔ مزید یہ کہ حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ شہریوں کی حفاظت اور امن و امان کو اولین ترجیح دی جائے۔ حکومت کا یہ رویہ اس بات کا اظہار ہے کہ ریاست مذہبی طبقات کو دشمن نہیں بلکہ مکالمے کے شریک سمجھتی ہے۔ یہی وہ پالیسی ہے جو کسی بھی دیرپا امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔اب اگر سوال یہ اٹھایا جائے کہ ٹی ایل پی کا دھرنا ملک دوست ہے یا ملک دشمن، تو اس کا جواب یک رخا نہیں دیا جا سکتا۔ اگر مقصد مذہب کے دفاع اور اخلاقی اصلاح کا ہے، تو نیت نیک سمجھی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر طریقہ ایسا ہو جو عوامی نقصان، ریاستی تصادم اور قومی تقسیم کا باعث بنے،تو یہ ملک دوستی کے دائرے سے نکل کر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
ملک دوستی کا تقاضا یہ ہے کہ احتجاج کے طریقے پرامن ہوں، اداروں کا احترام برقرار رکھا جائے اور اصلاح کا راستہ مکالمے کے ذریعے اختیار کیا جائے۔یہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ مذہبی و سیاسی قیادتیں خود احتسابی کا مظاہرہ کریں۔ عوام کے ایمان کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے بجائے ان کی اصلاح و رہنمائی کا کردار ادا کریں۔ اگر مذہبی تحریکیں واقعی ملک و ملت کی خیرخواہ ہیں تو انہیں تصادم کے بجائے استدلال، احتجاج کے بجائے مکالمہ اور انتشار کے بجائے اتحاد کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔پاکستان کے موجودہ حالات پہلے ہی معاشی دبا، سیاسی بے یقینی اور بیرونی چیلنجز سے دوچار ہیں۔ ایسے میں داخلی انتشار کسی کے مفاد میں نہیں۔ حکومت، اپوزیشن اور مذہبی جماعتوں سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک کی سلامتی سب سے مقدم ہے۔ہمیں مذہب کے نام پر تشدد نہیں بلکہ امن و محبت کا پیغام عام کرنا ہوگا۔ٹی ایل پی اور اس جیسی دیگر مذہبی جماعتوں کے لیے یہ لمحہ ء فکریہ ہے کہ وہ اپنے طرزِ احتجاج پر نظرِ ثانی کریں۔ قوم کا نوجوان اگر دینی جوش و جذبے کے ساتھ ساتھ تدبر، علم اور شعور سے آراستہ ہو جائے تو یہ ملک واقعی ایک مضبوط اسلامی فلاحی ریاست بن سکتا ہے۔ لیکن اگر جذبات کو عقل پر فوقیت دی گئی تو یہ جوش ہی ہمیں کمزور کر دے گا۔اس لئے ٹی ایل پی کا دھرنا صرف حکومت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا امتحان ہے۔یہ امتحان اس بات کا کہ ہم کس طرح اپنے مذہبی جذبات، سیاسی حکمت اور قومی مفاد کے درمیان توازن قائم کرتے ہیں۔ ملک دوستی کا مطلب حکومت کی حمایت نہیں، بلکہ قوم کی بہتری کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔ جو احتجاج قوم کو جوڑ دے وہ دوستی ہے اور جو قوم کو توڑ دے وہ دشمنی۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اپنی مذہبی قوت کو تقسیم کا ذریعہ بناتے ہیں یا تعمیر کا۔