شدید گرمی کے موسم میں اے سی کے اثرات سے متعلق بحث ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے۔ ایئر کنڈیشنر جہاں گرمی سے فوری نجات اور آرام فراہم کرتا ہے، وہیں اس کا طویل اور غیر محتاط استعمال انسانی صحت پر بعض منفی اثرات بھی مرتب کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اے سی کمرے کی فضا کو ٹھنڈا کرنے کے ساتھ ساتھ ہوا میں موجود نمی کو بھی کم کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جلد خشک ہونے، خارش اور جلن جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں، خاص طور پر حساس جلد رکھنے والے افراد میں یہ مسائل زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل ٹھنڈی اور خشک فضا میں رہنے سے آنکھوں اور ناک میں خشکی، گلے میں خراش اور سر درد جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اے سی استعمال کرنے والے افراد کو زیادہ پانی پینے اور جسم میں نمی برقرار رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب شدید گرمی اور حبس والے علاقوں میں ایئر کنڈیشنر ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق گرمی کی شدت سے بچنے اور ہیٹ اسٹروک جیسے خطرناک مسائل سے محفوظ رہنے کے لیے مناسب ٹھنڈک ضروری ہے۔ عالمی ادارۂ صحت بھی خبردار کر چکا ہے کہ شدید گرمی دل، سانس اور دیگر بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر اے سی کے فلٹرز کی باقاعدہ صفائی نہ کی جائے تو گردوغبار اور جراثیم ہوا کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، جس سے دمہ اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
مزید برآں، بہت زیادہ ٹھنڈی ہوا میں طویل وقت گزارنے سے پٹھوں میں کھچاؤ اور جوڑوں کے درد کی شکایت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی لیے براہِ راست ٹھنڈی ہوا کے سامنے بیٹھنے سے گریز کرنے اور درجہ حرارت کو معتدل رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اے سی کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے مناسب درجہ حرارت، فلٹرز کی باقاعدہ صفائی، پانی کا زیادہ استعمال اور وقتاً فوقتاً کھلی فضا میں رہنا بہترین احتیاطی تدابیر ہیں۔ اس طرح گرمی سے بھی بچا جا سکتا ہے اور صحت کو بھی بہتر رکھا جا سکتا ہے۔

