(گزشتہ سے پیوستہ)
رسول اللہ ﷺ نے واضح طور پر فرمایا کہ میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ سے ڈراتا ہوں۔ اس ارشاد کا مقصد یہی تھا کہ مسلمان اہلِ بیت کا احترام کریں، ان کے حقوق کا خیال رکھیں اور ان سے محبت کو اپنے ایمان کا حصہ بنائیں۔ چنانچہ جو شخص اہلِ بیت سے محبت کرتا ہے وہ درحقیقت نبی کریم ﷺ کے حکم پر عمل کرتا ہے۔سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کی زندگیاں ہمیں یہ بھی سکھاتی ہیں کہ حقیقی عظمت دنیاوی اقتدار، مال و دولت یا شہرت میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ انہوں نے اپنے کردار، اخلاق اور قربانیوں سے اسلام کی حقیقی روح کو اجاگر کیا۔ ان کی حیاتِ مبارکہ میں انسانیت کے لئے بے شمار اسباق موجود ہیں۔آج کے دور میں جب امت مسلمہ مختلف مسائل اور چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے تو سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
سیدنا حسنؓ ہمیں اتحاد، رواداری اور صلح کا درس دیتے ہیں جبکہ سیدنا حسینؓ ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے اور ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ اگر مسلمان ان دونوں عظیم شخصیات کی تعلیمات اور کردار کو اپنالیں تو امت کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔محبت اہلِ بیت کا تقاضا صرف زبانی دعوئوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کے اخلاق و کردار کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ ان کی سیرت کا مطالعہ کرنا، ان کے فضائل کو بیان کرنا، ان کے لئے دعائے خیر کرنا اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرنا ہی حقیقی محبت کی علامت ہے۔ جو شخص ان عظیم ہستیوں کے اخلاق کو اپناتا ہے وہ معاشرے میں امن، محبت اور خیر خواہی کو فروغ دیتا ہے۔سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کی محبت دلوں میں ایمان کی روشنی پیدا کرتی ہے۔ ان کا ذکر انسان کو رسول اللہ ﷺ کی یاد دلاتا ہے اور اہلِ بیت کے ساتھ تعلق مضبوط کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے مسلمان ان کے ناموں کا احترام کرتے آئے ہیں اور ان کے فضائل کو عقیدت کے ساتھ بیان کرتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان دونوں ہستیوں کو ایسی عزت عطا فرمائی ہے جو قیامت تک باقی رہے گی۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان ان سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، ان کی سیرت کو پڑھتے ہیں اور ان کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ان کی زندگیوں کا ہر پہلو اخلاص، تقویٰ، عبادت، خدمتِ خلق اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا درس دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ سے محبت کرنا رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنا ہے، اور رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان کی بنیاد ہے۔ جو دل اہلِ بیت اطہار کی محبت سے آباد ہو وہ نفرت، تعصب اور بغض سے پاک ہو جاتا ہے۔ ایسے دل میں اخوت، محبت اور خیر خواہی کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ یہی اسلام کا حقیقی پیغام ہے اور یہی رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سیدنا امام حسنؓ اور سیدنا امام حسینؓ کی سچی محبت نصیب فرمائے، ان کے اخلاق و کردار کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، اہلِ بیتِ اطہار کے ادب و احترام کو ہمارے ایمان کا حصہ بنائے اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی کامل محبت اور اطاعت نصیب فرمائے۔ آمین۔سیدنا امام حسنؓ اور سیدنا امام حسینؓ کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کا اعلیٰ اخلاق اور حسنِ کردار ہے۔ انہوں نے اپنے نانا جان رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو نہ صرف سیکھا بلکہ اپنی عملی زندگی میں بھی اس کا بہترین نمونہ پیش کیا۔ عاجزی، انکساری، سخاوت، صبر، تحمل اور رحم دلی ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ تاریخ میں بے شمار واقعات ملتے ہیں جو ان کے بلند اخلاق اور عظیم کردار کی گواہی دیتے ہیں۔ ضرورت مندوں کی مدد کرنا، مساکین کا خیال رکھنا اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا ان کی عادتِ مبارکہ تھی۔سیدنا امام حسنؓ کی سخاوت کے بارے میں مورخین لکھتے ہیں کہ آپ نے کئی مرتبہ اپنا تمام مال اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے راہِ خدا میں خرچ کر دیا۔ آپ کے دروازے سے کوئی سائل خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا تھا۔ آپ ہمیشہ دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر مقدم رکھتے تھے۔ اسی طرح سیدنا امام حسینؓ بھی انتہائی کریم النفس اور بلند حوصلہ شخصیت کے مالک تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی میں عزتِ نفس، حق گوئی اور عدل و انصاف کو ترجیح دی۔اہلِ بیتِ اطہار کی محبت دراصل مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور اخوت کا ذریعہ ہے۔
(جاری ہے)