تیسری عالمی جنگ کے بادل افق پر گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ دنیا خوف، اضطراب اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھی۔ عالمی معیشت کی کشتی شدید طوفان میں ہچکولے کھا رہی تھی۔ تیل اور توانائی کا بحران ایک زہریلے سانپ کی طرح پھن پھیلائے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ مشرقِ وسطی کا وہ حساس خطہ، جو دنیا کی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ پورا کرتا ہے، جنگ کی آگ میں جھلسنے لگا تھا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطی بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے عالمی معیشت کو لرزا کر رکھ دیا۔ تیل کی قیمتیں بلند ہونے لگیں، عالمی منڈیاں غیر یقینی کیفیت کا شکار ہو گئیں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آنے لگی۔ دنیا کو خدشہ تھا کہ اگر یہ بحران مزید پھیل گیا تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہر براعظم، ہر ملک اور ہر معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ایسے حالات میں جب دنیا کے بڑے بڑے دارالحکومتوں میں تشویش کی لہر دوڑ رہی تھی، پاکستان نے ایک ذمہ دار اور دوراندیش ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان بخوبی جانتا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پھیلنے والی آگ کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہے گی۔ اس کے شعلے عالمی امن، اقتصادی استحکام اور بین الاقوامی تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔یہاں یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان خود گزشتہ چند برسوں میں بے شمار داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا کرتا رہا۔ دہشت گردی، معاشی مشکلات، سیاسی کشیدگی اور سفارتی دبا جیسے مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بعض حلقے تو یہ سمجھنے لگے تھے کہ پاکستان عالمی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ کھو چکا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ زندہ قومیں مشکلات سے گھبرا کر نہیں بیٹھ جاتیں بلکہ انہی مشکلات کو مواقع میں بدلنے کا ہنر جانتی ہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی جب خطرناک حدود کو چھونے لگی اور جنگ کے بادل گہرے ہونے لگے تو پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
وزیراعظم میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے متحرک سفارت کاری کا آغاز کیا۔ مختلف دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے کئے گئے۔ خلیجی ریاستوں، ترکیہ، مصر اور دیگر اہم ممالک کو اعتماد میں لیا گیا تاکہ جنگ کے پھیلا کو روکا جا سکے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی راہ ہموار کی جا سکے۔پاکستانی قیادت کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے کسی ایک فریق کی حمایت کے بجائے امن اور استحکام کی حمایت کی۔ اسلام آباد نے یہ پیغام دیا کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ مزید مسائل کو جنم دیتی ہے۔ یہی متوازن موقف پاکستان کے لیے اعتماد کا سرمایہ بنا۔اپریل میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد ایک اہم پیش رفت کا مرکز بنا، جہاں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات کا انعقاد ممکن ہوا۔ پاکستان نے ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانب دار سہولت کار کے طور پر دونوں فریقوں کو قریب لانے کی کوشش کی۔ اسی دوران پاکستان، سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے درمیان مسلسل مشاورت جاری رہی جبکہ چین کو بھی مسلسل اعتماد میں رکھا گیا۔ اس مشترکہ سفارتی کاوش کے نتیجے میں ایران کے سامنے پانچ نکات پر مشتمل تجاویز پیش کی گئیں جن کا مقصد کشیدگی میں کمی، اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا تھا۔اسلام آباد مذاکرات فوری طور پر کسی حتمی معاہدے پر منتج نہیں ہوئے، لیکن انہوں نے ایک ایسی بنیاد فراہم کر دی جس پر بعد کی تمام پیش رفت استوار ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آنے والے ہفتوں میں مسلسل رابطوں، پسِ پردہ سفارت کاری اور اعتماد سازی کی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب جنگ کے بادل آہستہ آہستہ چھٹنے لگے، فریقین کے موقف میں لچک پیدا ہوئی اور کشیدگی کی شدت میں نمایاں کمی آنے لگی۔ساڑھے تین ماہ تک جاری رہنے والی جنگی کیفیت اور کشیدگی کے جبڑے سے امن کو چھڑا لینا ہرگز آسان نہ تھا۔
عالمی مبصرین مسلسل خبردار کر رہے تھے کہ اگر یہ بحران مزید شدت اختیار کر گیا تو پوری دنیا اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔ ایسے نازک مرحلے پر پاکستان کی سول و ملٹری قیادت نے غیر معمولی بصیرت، تدبر اور سفارتی مہارت کا مظاہرہ کیا۔بالآخر پاکستان کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں دونوں فریق ایک جامع سمجھوتے پر آمادہ ہوئے جسے اسلام اکارڈ کا نام دیا گیا۔ چودہ نکات پر مشتمل اس معاہدے نے نہ صرف جنگ بندی کی بنیاد فراہم کی بلکہ مستقبل میں تنازعات کے پرامن حل، اعتماد سازی اور علاقائی استحکام کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک بھی مہیا کیا۔ یہ معاہدہ درحقیقت پاکستان کی مسلسل سفارتی جدوجہد، سیاسی بصیرت اور عسکری قیادت کی دوراندیشی کا ثمر تھا۔اسلام اکارڈ کے بعد اگلا مرحلہ اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینا تھا۔ اسی مقصد کے لئے 19جون کو سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت شہر برجنسٹاک میں ایران اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان پاکستان کی میزبانی اور سہولت کاری میں مذاکرات کا آغاز ہوا۔ ان مذاکرات میں معاہدے کے مختلف نکات پر عمل درآمد، نگرانی کے نظام اور مستقبل کے لائح عمل پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔ تادمِ تحریر یہ مذاکرات جاری ہیں اور عالمی برادری کی نظریں ان پر مرکوز ہیں۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس تمام عمل میں غیر معمولی بصیرت، تدبر اور دوراندیشی کا مظاہرہ کیا۔ ایک پیشہ ور سپاہی اور تزویراتی سوچ رکھنے والے رہنما کے طور پر انہوں نے نہ صرف قومی سلامتی کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھا بلکہ خطے میں امن اور استحکام کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ طاقت کا اصل مقصد امن کا تحفظ ہونا چاہیے، جنگ کو وسعت دینا نہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سیاسی اور سفارتی سطح پر بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے مختلف عالمی رہنمائوں کے ساتھ رابطوں، سفارتی مشاورت اور سیاسی اقدامات کے ذریعے پاکستان کی امن پسند پالیسی کو موثر انداز میں پیش کیا۔ ان کی کوششوں نے عالمی برادری کو یہ باور کرانے میں مدد دی کہ پاکستان بحرانوں کو ہوا دینے کے بجائے انہیں حل کرنے کا خواہاں ہے۔دوسری جانب بھارت ، اسرائیل اور بعض علاقائی قوتیں ایسی بھی تھیں جو کشیدگی کے خاتمے کے بجائے اس کے تسلسل میں اپنا مفاد دیکھ رہی تھیں۔ خطے میں عدم استحکام، اسلحے کی دوڑ، معاشی بے یقینی اور سیاسی انتشار بعض عناصر کے مفادات سے ہم آہنگ تھے، لیکن پاکستان کی فعال سفارت کاری، سنجیدہ روئیے اور متوازن موقف نے ایسے تمام عزائم کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔معرکہ حق میں پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر پاکستان نے اپنی عسکری صلاحیت کا لوہا منوایا تھا، لیکن امن کے میدان میں حاصل ہونے والی یہ کامیابی شاید اس سے بھی زیادہ اہم ثابت ہوئی۔ پاکستان نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ وہ صرف ایک مضبوط دفاعی قوت ہی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار، باوقار اور موثر سفارتی طاقت بھی ہے۔دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے اسلام آباد سے لے کر برجنسٹاک تک جاری امن عمل کو غیر معمولی کوریج دی۔ بین الاقوامی سفارتی حلقوں، سیاسی مبصرین اور عالمی اداروں میں پاکستان کی کاوشوں کی تعریف کی گونج سنائی دی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی راہ ہموار کرنے اور ایک ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے میں پاکستان کے کردار کو وسیع پیمانے پر سراہا گیا۔آج اگر پاکستان کو خطے میں امن و استحکام کا داعی سمجھا جا رہا ہے تو اس کے پیچھے سیاسی و عسکری قیادت کی مشترکہ کاوشیں کارفرما ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی سیاسی بصیرت، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تزویراتی سوچ، سینیٹر اسحاق ڈار کی سفارتی مہارت اور قومی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت نے مل کر پاکستان کے مثبت تشخص کو مزید اجاگر کیا ہے۔
معرکہ حق میں کامیابی کے بعد امن سازی کی یہ غیر معمولی فتح پاکستان کو عالمی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کرتی ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ قومیں صرف جنگیں جیت کر عظیم نہیں بنتیں بلکہ امن قائم کر کے تاریخ میں اپنا مقام بناتی ہیں۔ آج دنیا پاکستان کو محض ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ایسے معمارِ امن کے طور پر دیکھ رہی ہے جو بحرانوں کو ہوا دینے کے بجائے انہیں ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی پاکستان کا حقیقی تشخص ہے اور یہی اس کا روشن سفارتی مستقبل۔