سیاست سے آگے بھی ایک معاشرہ ہے
اگر آپ نجی محفلوں، سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا بغور جائزہ لیں تو آپ کو ہر طرف سیاسی موضوعات غالب دکھائی دیں گے۔ سیاست دانوں کے کرتوت اور کارناموں پر گرما گرم بحث ہوگی۔ ہر شخص اپنے سیاسی
اگر آپ نجی محفلوں، سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا بغور جائزہ لیں تو آپ کو ہر طرف سیاسی موضوعات غالب دکھائی دیں گے۔ سیاست دانوں کے کرتوت اور کارناموں پر گرما گرم بحث ہوگی۔ ہر شخص اپنے سیاسی
سوشل میڈیا کا مواد بھی معاشیات کے مسلمہ اصول طلب اور رسد کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔ جس چیز کی طلب زیادہ ہو، اسی نوعیت کا مواد زیادہ پیدا کیا جاتا ہے۔ صارفین کی نفسیات، پسند، تعصبات اور دلچسپیوں
تیسری عالمی جنگ کے بادل افق پر گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ دنیا خوف، اضطراب اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھی۔ عالمی معیشت کی کشتی شدید طوفان میں ہچکولے کھا رہی تھی۔ تیل اور توانائی کا بحران ایک
پاکستان اس وقت ایک پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال سےگزررہاہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور اب آزاد جموں و کشمیر ایسے خطے ہیں جو نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے حساس ہیں بلکہ قومی سلامتی کے تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
پیارے پاکستانیو!تھوڑا وقت نکالیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا سے باہر آئیں۔ دل و دماغ سے سیاسی، نظریاتی اور مذہبی اختلافات کو ایک طرف رکھ دیں۔ آنکھوں سے تعصب اور تفریق کا چشمہ اتاریں۔ اپنے گرد و نواح کا جائزہ لیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جس فرد، گروہ، سلطنت یا حکومت نے ظلم، جبر اور انسانیت کی تذلیل کو اپنا شعار بنایا، وہ بالآخر اپنے ہی اعمال کے بوجھ تلے دب گئی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا یہ قول آج
ایران تقریبا ًنصف صدی سے سفارتی تنہائی، معاشی پابندیوں اور عالمی دبائو کا سامنا کر رہا ہے۔ عالمی طاقتوں نے مسلسل اس پر دبائو برقرار رکھا جبکہ خطے میں اس کی تمام اتحادی یا ہمدرد قوتوں کو ایک ایک کر
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف عالمی سپر پاور ہے جس کے پاس بے پناہ عسکری طاقت، مضبوط معیشت اور عالمی اثر و رسوخ ہے، جبکہ دوسری جانب ایک قدیم تہذیب
عالمی سیاست کے افق پر بعض لمحات محض واقعات نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے کو موڑ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حالیہ ایران۔ امریکہ کشیدگی، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جنگی صورتحال اور پھر پاکستان کی قیادت
دنیا اس وقت جس بے یقینی، خوف اور اضطراب کے دور سے گزر رہی ہے، اس کی مثال حالیہ تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ عالمی معیشت کے ستون لرز رہے تھے، مواصلاتی نظام دباؤ کا شکار تھا، سینکڑوں پروازیں