تاریخ گواہ ہے کہ جس فرد، گروہ، سلطنت یا حکومت نے ظلم، جبر اور انسانیت کی تذلیل کو اپنا شعار بنایا، وہ بالآخر اپنے ہی اعمال کے بوجھ تلے دب گئی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا یہ قول آج بھی عالمی سیاست کی ایک اٹل حقیقت محسوس ہوتا ہے کہ:کفر کا نظام تو چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں۔عروج ہمیشہ محنت، تدبر، صبر اور مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ زوال اکثر چند غلط فیصلوں، غرور اور طاقت کے نشے سے جنم لیتا ہے۔ یہی اصول افراد، قوموں اور عالمی طاقتوں سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو بے شمار سلطنتیں ابھریں، طاقت کے عروج تک پہنچیں اور پھر زوال کا شکار ہو گئیں۔ خلافتِ عثمانیہ کے بعد برطانوی سلطنت دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آئی۔ کہا جاتا تھا کہ اس سلطنت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ لیکن نوآبادیاتی استحصال، نسلی برتری، سیاسی غرور اور جنگی مہم جوئی نے رفتہ رفتہ اس کی بنیادیں کھوکھلی کر دیں۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم نے اس کی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا اور بالآخر وہ عظیم سلطنت سکڑ کر ایک محدود جغرافیے تک رہ گئی۔ اسی تاریخی عمل کے نتیجے میں برصغیر سمیت دنیا بھر میں نئی آزاد ریاستیں وجود میں آئیں۔دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ اور سوویت یونین دو بڑی سپر پاورز کے طور پر ابھرے۔ دنیا نظریاتی بنیادوں پر دو بلاکس میں تقسیم ہو گئی اور سرد جنگ کا ایک طویل دور شروع ہوا۔ عالمی سیاست پراکسی جنگوں، عسکری اتحادوں اور طاقت کے توازن کے گرد گھومنے لگی۔اسی دور میں اقوامِ متحدہ قائم ہوئی جس کا مقصد عالمی امن، انصاف اور تنازعات کا پرامن حل تھا۔ لیکن سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کو حاصل ویٹو پاور نے اس ادارے کی غیر جانبداری کو شدید متاثر کیا۔ کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ تنازعات آج بھی اس عالمی نظام کی کمزوریوں کی واضح مثال ہیں، جہاں طاقتور ممالک کے مفادات اکثر انصاف پر غالب آ جاتے ہیں۔
سوویت یونین نے افغانستان میں فوجی مداخلت کی، مگر یہ جنگ اس کے لئے تباہ کن ثابت ہوئی۔ ایک دہائی تک جاری رہنے والی اس مہم نے اس کی معیشت، فوجی طاقت اور سیاسی ڈھانچے کو کمزور کر دیا۔ نتیجتاً سوویت یونین ٹوٹ گیا اور دنیا یک قطبی نظام میں داخل ہو گئی جہاں امریکہ واحد سپر پاور کے طور پر سامنے آیا۔امریکہ نے اپنی عالمی بالادستی برقرار رکھنے کے لئے دنیا بھر میں فوجی اڈوں، معاشی دبائو، سیاسی اتحادوں اور تذویراتی شراکت داریوں کا ایک وسیع نظام قائم کیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو خلیجی ممالک کے دفاع کے لئے ضروری قرار دیا گیا، لیکن عملی طور پر ان کا بڑا مقصد توانائی کے وسائل، تجارتی راستوں اور امریکی و اسرائیلی مفادات کا تحفظ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال نے کئی خلیجی ریاستوں کو یہ احساس دلایا کہ عالمی طاقتیں ہمیشہ مستقل دوست نہیں ہوتیں بلکہ ان کے فیصلے اپنے قومی مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج مشرقِ وسطیٰ میں اعتماد، تحفظ اور علاقائی صف بندیوں کے حوالے سے نئی بحث جنم لے رہی ہے۔ادھر جنوبی ایشیا میں بھی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی۔ بھارت نے حالیہ برسوں میں جارحانہ پالیسیوں، عسکری دبائو اور خطے میں طاقت کے اظہار کی حکمت عملی اختیار کی۔ تاہم پاکستان نے تحمل، سفارتی بصیرت اور دفاعی تیاری کے امتزاج سے نہ صرف اپنی پوزیشن مستحکم کی بلکہ یہ واضح کیا کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہا۔
آج چین، روس، ترکی، ایران، خلیجی ریاستیں اور ابھرتی ہوئی علاقائی طاقتیں عالمی سیاست میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ امریکہ بدستور ایک بڑی طاقت ہے، لیکن اب عالمی فیصلے صرف ایک مرکز سے نہیں ہو رہے۔ نئی معاشی راہداریوں، دفاعی معاہدوں اور علاقائی اتحادوں نے عالمی سیاست کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس پورے منظرنامے میں پاکستان کی اہمیت نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔ ایٹمی صلاحیت، جغرافیائی محلِ وقوع، دفاعی استعداد، نوجوان آبادی ، بھارت کو عبرتناک شکست ، جوہری قوت اور خطے کے اہم تجارتی راستوں سے قربت نے پاکستان کو ایک اہم تذویراتی ریاست بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی اور علاقائی طاقتیں اب پاکستان کو محض ایک سکیورٹی اسٹیٹ نہیں بلکہ ایک اہم جیوپولیٹیکل پارٹنر اور نیٹ سیکورٹی پرووائیڈر کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔اس کے برعکس بھارت کو بعض مواقع پر اپنی جارحانہ حکمت عملی، داخلی انتہا پسندی اور غیر متوازن سفارتی رویوں کے باعث تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لئے صرف عسکری قوت کافی نہیں ہوتی بلکہ سیاسی دانش، علاقائی اعتماد اور ذمہ دارانہ سفارتکاری بھی ناگزیر ہوتی ہے۔آج عالمی سیاست ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے۔ طاقت کے پرانے تصورات، خوف کی روایتی سیاست اور یکطرفہ بالادستی کے کئی بت ٹوٹ رہے ہیں۔ آنے والا دور صرف عسکری قوت کا نہیں بلکہ معاشی خودانحصاری، قومی اتحاد، علمی برتری، داخلی استحکام اور تذویراتی بصیرت کا ہوگا۔پاکستان کے لیے بھی یہ وقت جذباتی نعروں سے زیادہ قومی شعور، داخلی استحکام اور اجتماعی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ہم سیاسی تقسیم، معاشی کمزوری اور داخلی انتشار پر قابو پا کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں تو پاکستان ابھرتے ہوئے عالمی نظام میں ایک باوقار، موثر اور فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔تاریخ کا سبق واضح ہے: جو قومیں اندرونی طور پر مضبوط، متحد اور بااصول ہوں، وہی بیرونی دبائو کا مقابلہ کر پاتی ہیں۔ لیکن جو قومیں ذاتی مفادات، انتشار اور فکری کمزوریوں کا شکار ہو جائیں، ان کی عسکری طاقت بھی انہیں زیادہ دیر محفوظ نہیں رکھ سکتی۔شاید یہی قانونِ قدرت ہے کہ ظلم، غرور اور جارحیت وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتے ہیں، مگر پائیدار مستقبل ہمیشہ انصاف، تدبر، قومی وحدت اور استقامت ہی کا مقدر بنتا ہے۔ پاکستان کو رب العزت نے عسکری اور سفارتی محاز پر غیر معمولی کامیابیاں عطا کی ہیں ۔ اب تمام سیاسی ، نظریاتی اور گروہی اختلاف کو بالائے طاق رکھ رکھ کر اجتماعی کوششوں سے اس کی معیشت کو بھی ہم نے سدھارنا ہے ۔ جس قدر جلد ہم اس ضرورت کا احساس اور ادراک کر لیں گے قومی سلامتی ، ترقی اور خوشحالی کے راستے خود بخود ہموار ہوتے چلے جائیں گے ۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد