ہاتھوں سے لگائی دانتوں سے کھولنی پڑ رہی ہیں
سیاسی تقسیم، نظریاتی اختلاف اور سوشل میڈیا کے بے محابا استعمال نے انسانی قربت اور محبت کے جذبوں کو دھندلا دیا ہے۔ غیر محسوس انداز میں دلوں کے درمیان فاصلے اور بدگمانیاں جنم لے چکی ہیں۔ بے تکلفی، جو کبھی
سیاسی تقسیم، نظریاتی اختلاف اور سوشل میڈیا کے بے محابا استعمال نے انسانی قربت اور محبت کے جذبوں کو دھندلا دیا ہے۔ غیر محسوس انداز میں دلوں کے درمیان فاصلے اور بدگمانیاں جنم لے چکی ہیں۔ بے تکلفی، جو کبھی
انگریزی زبان کے ایک اخبار میں شائع ہونے والا کالم، جسے امریکہ میں پی ایچ ڈی کرنے والے ایک نوجوان طالب علم نے تحریر کیا، بظاہر ایک معمول کی تحریر تھی۔ مگر اس کا منظرِ عام پر آنا اور پھر
بلاشبہ سال 2025ء پاکستان کی سیاسی، عسکری اور سفارتی تاریخ میں ایک فیصلہ کن اور تاریخ ساز سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ سال ہے جس نے مایوسی کو امید، کمزوری کے تاثر کو اعتماد، اور
شخصیت پرستی اور وطن پرستی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ افراد سے عقیدت اور اداروں کے احترام میں بھی اتنا ہی فاصلہ ہے۔ جب انسانی سوچ ذاتی پسند، جذباتی وابستگی اور گروہی تعصبات کی دلدل میں دھنس جائے تو
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے: جس پہ نیکی کرو، اس کے شر سے بچو۔ یہ ایک گہری اور حکمت آمیز نصیحت ہےجو آج بھی اپنی مکمل سچائی کے ساتھ متعلق ہے۔ روزمرہ حیات میں آنکھ دوڑائیں تو
پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز جنگی شکست کے بعد بھارت سرکار مسلسل صدمے میں مبتلا ہے ۔ جس کی شدت داخلی اور خارجی دبائو سے مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ ریاست کے اہم ذمہ داران کی ذہنی اور نفسیاتی حالت
وقت کی بے رحم آندھی نے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے وہ جمہوریت اور سیکولرازم جس کا نقاب اوڑھ کر دہائیوں تک دنیا کو دھوکہ دیا جاتا رہا، اب اتر چکا ہے۔ بھارت
سیر و سیاحت میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اس کے ذریعے مجھے دنیا کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ ہر سفر معلومات اور اعتماد میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے۔ کہیں قدرتی مناظر دل کو مسحور کرتے
کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ منظر بیرونِ ملک کے کسی شہر کی سڑک کا تھا، جہاں سمندر پار پاکستانیوں کا ایک چھوٹا سا گروہ چودہ اگست کے موقع پر یومِ آزادی کی
آپریشن سندور بھارت کی ایک عبرتناک غلطی ثابت ہوا۔ پاکستان پر جارحیت دراصل بھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھی۔ اس کے نتائج کی ’’مکھیاں‘‘ کسی پل اسے چین نہیں لینے دے رہیں۔ زخم خوردہ چہرہ اور انا