Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

طالبان : محسن کشی کی بھیانک مثال

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے: جس پہ نیکی کرو، اس کے شر سے بچو۔ یہ ایک گہری اور حکمت آمیز نصیحت ہےجو آج بھی اپنی مکمل سچائی کے ساتھ متعلق ہے۔ روزمرہ حیات میں آنکھ دوڑائیں تو ہر موڑ پراسی طرزکی داستانیں نظر آئیں گی۔ سماجی اور خاندانی رشتوں میں احسان فراموشی عام ہےاور اس کےاگلے درجے میں محسن کشی آ جاتی ہے۔ محسن کشی اتنا رنج و الم پیدا کرتی ہے جتنا شاید ہی کوئی اور فعل کر پائے۔ اس جرم کی شدت اور درد وہی جان سکتا ہے جو اس کا شکار ہوا ہو۔
میرے ابو جان، اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے، ہمیں بچپن میں ایک کہانی سناتے تھے۔ جس میں پوشیدہ اسباق تب ہمارے معصوم اذہان پوری طرح نہیں سمجھ پاتے تھے، مگر کہانی اپنے اندر بڑی گہری ،دانائی اورمعنی رکھتی تھی جسے پورے انہماک سے ہم سنتے رہتے تھے۔
دریا کے کنارے درختوں کا ایک چھوٹا ساجنگل تھا۔ ایک بگلا اڑتا ہوا وہاں سے گزرا اور اس نے ایک عجیب منظر دیکھا: ایک بکری سکون سے سوئی ہوئی تھی اور اس کے پہلو میں شیرخاموشی سے بیٹھا تھا۔ بگلہ حیرت میں پڑ گیا عام طبع یہ ہے کہ شیر بکری کا شکار کر لیتے ہیں۔ بگلہ ایک اونچے درخت پر بیٹھ کر منظر کو غور سے دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد بکری اٹھ کر گھاس چرنے لگ گئی اور شیر چند قدم آگے چلا گیا۔ بگلہ نے ہمت کی اور آہستگی سے بکری کےقریب اتر آیا۔ بڑے تعجب سےاس نے پوچھا: “آپ شیر کے اتنے قریب آرام کر رہی تھیں، مگر اس نے آپ کو نقصان کیوں نہیں پہنچایا؟ یہ کیسے ممکن ہوا؟”بکری نے پرسکون انداز میں جواب دیا: “سالوں پہلے میں اسی جنگل سے گزر رہی تھی۔ میں نے شیر کے اس ننھے بچے کو بھوک و تکلیف میں تڑپتا پایا۔ اس کی ماں شکاری کی گولی کی نذر ہو چکی تھی۔ خدا کےخوف سےمیں نےاس بچے کو اپنا دودھ پلایا۔ اس کی حالت بہترہوگئی۔ میں نے روزمرہ اس کی پرورش کی، وہ جوان ہوا اور میرے ساتھ مانوس ہو گیا۔ اب میں بوڑھی ہو چکی ہوں اور وہ جوان ہے۔ جب میں سوتی ہوں تو وہ میری حفاظت کے لیے پاس بیٹھ جاتا ہے۔ یہ وہ صلہ ہےجو مجھے اس نیکی کا دےرہاجو میں نے اس سے کی تھی ۔
بگلہ یہ سن کر بہت متاثر ہوا اور ہمدردی و بھلائی کے جذبے سے سرشار ہو گیا۔ وہ وہاں سے اڑا تو راستے میں جب دریاکے اوپرسےگزر رہا تھا تو اس کی نگاہ ایک ڈوبتے چوہے پر پڑی۔ بگلے کےجذبہ نیکی نےفورا جوش مارا ۔ نیچے جھک کر اس نےچوہے کو چونچ سے اٹھا کر اپنی کمر پر ٹھونس لیا اور اڑنے لگا ۔ دریا کا پاٹ کافی چوڑا تھا اور چوہا بوجھ بن گیا۔ بگلے کے نرم گرم پروں کے لمس نے چوہے کو متحرک اور تواناکردیاجس کے بعد جلد ہی اسکی فطرت غالب آگئی اس نے بگلے کے پروں کو کاٹنا شروع کردیا۔ دریاکے پار پہنچنے تک چوہے نے اتنے پر نوچ ڈالےکہ بگلا بمشکل کنارے تک پہنچا اور نیچے گر پڑا۔ چوہا چھلانگ لگا کر جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ اڑنے کےاہل نہ رہنےوالا بگلا شدید دکھ و صدمے کے عالم میں کسی قریب جھاڑی میں چھپ گیا اور چند روزاسی خوف و اضطراب میں گزارے۔ جب نئے پر نکل آئے اور وہ دوبارہ اڑنے کےقابل ہوا تو اس نے بکری کے پاس جا کر اپنا دکھ بیان کرنے کا ارادہ کیا کیونکہ نیکی کے بدلےاسے دردناک جسمانی اور دِلی صدمہ ملا تھا۔ بگلے نے بکری کے قریب اتر کر افسردہ لہجے میں کہا: “آپ نے کہاتھا نیکی کابڑا صلہ ملتا ہےمگر میرے ساتھ تو الٹ حساب ہوامجھے نقصان پہنچا۔” بکری نے نرم مگر صداقت بھری آواز میں پوچھا: “تم نے کس سے نیکی کی؟” بگلا نے پوری کہانی سنائی اور کہا: “میں نے چوہے کی مدد کی۔” بکری بے ساختہ ہنسی اور دانائی سے بولی: “نیکی کرتے وقت یہ بھی دیکھناچاہیےکہ نیکی کس سےکی جا رہی ہے۔ میں نے شیر سے نیکی کی تھی؛ تم نے چوہے سے۔ جب نیکی چوہوں سے کرو گے تو تمہیں صلہ بھی وہ اپنی منحوس فطرت کے مطابق ہی دیں گے ۔
آج یہی کہانی مجھے شدت سے یاد آئی جب افغان طالبان کی حکومت نے بلا اشتعال پاکستان کے خلاف جارحیت کا سلسلہ چھیڑا اور ہمارے درجنوں جوان جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اسی دوران ان کے وزیرِخارجہ ملا متقی نے بھارت کی سرزمین سے ہمیں للکارا اور طنز و تشنیع کےتیرچلائے۔ یادرہے اسی ملامتقی کو محض نو سال کی عمر میں ریاستِ پاکستان نے گودمیں لیاتھا جب اسکا پورا خاندان افغانستان کے خونی حالات سے ڈر کر ہماری پناہ میں آیا تھا ۔ جنھیں ہماری سرزمیں نے پروان چڑھایاآج وہی لوگ اپنی محسن قوم کا خون میں بہا کر احسان فراموشی کی بدترین مثال پیش کر رہے ہیں ۔ پاکستان کے خلاف ان کی خونریز جارحیت ، بغض اور نفرت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم نےبھی چوہوں سے نیکی کی ہےجو پیہم ہماری جان، امن اور سلامتی کے پر کاٹ رہے ہیں ۔
قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی دور میں افغانستان نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور مغربی سرحد ہمیشہ تنازعات کی آماجگاہ رہی۔ اس کےباوجود پاکستان نے برادرِاسلامی جذبے کےتحت فراخدلی دکھائی۔ گذشتہ چالیس برس میں جب دنیا کی دو بڑی طاقتوں نے وہاں فوج کشی کی پہلے سوویت یونین پھرامریکہ ، پاکستان نے افغان عوام کی بھرپور مدد کی، تربیت اوروسائل دیے، حتی کہ عملی مدد میں ہاتھ بڑھایا اور ہزاروں جانوں کی قربانی اوربھاری مالی نقصان اٹھایا۔ جب افغانستان خانہ جنگی میں جل رہا تھا تو لاکھوں افغان یہاں آئے اورپاکستان نے تقریبا تیس لاکھ مہاجرین کے لیے دروازے کھول دیے، دسترخوان دراز کیے اور انہیں بنیادی آزادی و سہولیات دے کر پرامن زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا۔ ہمارے ہسپتالوں میں افغانی مریض آئے،ہمارےتعلیمی اداروں میں انکی اولاد نے سکالر شپ پر تعلیم پائی، اور متعدد خاندانوں نے یہاں بزنس اور جائیدادیں بنائیں۔ مگر افسوس کہ بعض حلقوں نے اسی تھالی میں چھید کرنا شروع کر دیا جس میں وہ کھا رہے تھے۔ انہی مدارس اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جنہوں نے ان کی زندگیوں کو سنوار اور نکھارا تھا ۔
یہ احسان فراموشی اور ناسپاسی حد سےگزر چکی ہے۔ اس طالبان رجیم نے پاکستان کو ناقابلِ تصور جانی و مالی نقصان پہنچایا ایسی مثال کم ہی ملتی ہے۔ اب ہمارے صبر و تحمل کی حد ختم ہو گئی ہے۔ برادرِ اسلامی ممالک کے تصورکی غلط فہمی اور ہماری وہ نرم طبیعت اب ایسے عناصر پر نافذ العمل نہیں رہےگی جو ہمیں دشمنی میں جواب دیتےہیں۔ اینٹ کا جواب پتھر سےدیاجائے گا؛ دہشت گردی کےسرچشموں کو روکنےکےلیے ہرضروری قدم اٹھایا جائے گا۔ اب یہی نیو نارمل ہوگا کوئی ڈھیل نہیں، کوئی ڈیل نہیں۔ ہماری صفوں میں چھپے انکے خیرخواہوں کو بھی اپنی راہ اور روش بدل کر ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کا ساتھ دینا ہوگا۔ ریاست کو سیاست سے مقدم جان کر سارے اختلافات بھلا کر ایک صف میں متحد ہوناہو گا ۔ ورنہ تاریخ کبھی معاف نہیں کرےگی ۔ وطن عزیز اس وقت دو محاذی جنگ میں الجھا ہوا ہے۔ ایک قوم بن کر ہمیں اپنی افواج کےشانہ بشانہ کھڑے ہو کر دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے ۔ سچی حب الوطنی کا یہی تقاضا ہے ۔ اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ چکانا ہے۔ قومی سلامتی اور امن کا ہر قیمت پر تحفظ کرنا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں