Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

مودی کی دھمکی اعتراف شکست

پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز جنگی شکست کے بعد بھارت سرکار مسلسل صدمے میں مبتلا ہے ۔ جس کی شدت داخلی اور خارجی دبائو سے مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ ریاست کے اہم ذمہ داران کی ذہنی اور نفسیاتی حالت غیر متوان ہو چکی ہے ۔ جن کو اپنے اور غیر سب ہدف تنقید اور تحقیر بنا رہے ہیں ۔ ان کی سیاسی بقا ء اور وقار کی نائو فرسٹریش کی دلدل میں الجھی ہوئی ہے ۔ اس سے نکلنے کی بے ہنگم اور مضحکہ خیز حربے آزما رہے ہیں ۔ چھ ماہ کی خاموشی اور حالت انکار میں رہنے کے بعد آپریشن سندور کے نتائج اپنے حق میں ثابت کرنے کے لئے فرضی داستانیں گھڑ رہے ہیں ۔ جن کو نہ صرف بھارتی عوام بلکہ بین الاقوامی دنیا بھی مسترد کر رہی ہے ۔ اجیت دوول ائیر چیف اور پردھان منتری کے اس بابت جھوٹے اور غیر منطقی دعوئوں پر ہنس رہی ہے ۔ وزیراعظم ، وزیر دفاع ، آرمی چیف اور ائیر چیف کی تازہ دھمکی آمیز بونگیوں سے سب ششدر ہیں ۔ درد اور داغ شکست مٹانے کیلئے مودی نے ایک بار پھر پاکستان کو حملے اور بدلہ چکانے کی دھمکی دی ہے ۔ جو دراصل اس کی شکست کا اعتراف ہے جسے گذشتہ چھ ماہ سے وہ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔
جو عظمت اور طاقت وہ دنیا کو دکھا رہا تھا، وہ پردے میں چھپی کمزوری کی عکاس نکلی۔ خطے کا چوہدری بننے کے خواب نے اسے بیچ دورائے چھوڑ دیا اور اب وہ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے جارحانہ بیانات دے رہا ہے۔ مگر دھمکیوں کا شور اب اسے بچا نہیں سکتا۔ اس کی عسکری اور سیاسی موت نوشتہ دیوار ہے ۔
پاکستان نے جنگ کی تباہی سے بچنے اور امن برقرار رکھنے کی خاطر سنجیدہ اور مخلص کوششیں کیں۔ متعدد بار معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی استدعا کی گئی، مگر ہمیشہ کی طرح اس نے رعونت سے اسے ٹھکرا دیا۔ مقصد واضح تھا ، پاکستان کو دبانا، اس کی خود مختاری اور عسکری طاقت کو آزمانا۔ اسی سوچ نے رواں سال مئی میں حملہ کی شکل اختیار کی اور ہماری شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ معصوم لوگ، بوڑھے اور بچے شہید اور زخمی ہوئے یہ انسانی المیہ تھا جس نے پوری قوم کو جھنجھوڑ دیا۔
قوم نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ افواجِ پاکستان نے صبر، مہارت اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ ہماری فضائی اور زمینی کارروائیوں نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ چند گھنٹوں میں دشمن کے اہم اڈوں اور حساس تنصیبات کو تباہ کر کے اس کا غرور خاک میں ملا دیا ۔ ہماری بہادری اور حکمت عملی نے دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان نہ صرف دفاعی طور پر مزاحم ہے بلکہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ عالمی برادری نے ہماری افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت کی تعریف کی اور ہمارے موقف کو تسلیم کیا۔
مودی کی بیرونی پالیسی کے پیچھے داخلی مشکلات بھی ہیں۔ اس کے سیاسی دبائو، اقتصادی مسائل اور عوامی نفاق نے اسے جارحیت کی طرف دھکیل دیا۔ جب اندرونی سطح پر مشکلات بڑھ جائیں تو لیڈر اکثر بیرونی دشمن بنا کر توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت گزشتہ کارروائیاں عمل میں لائی گئیں اور اب دھمکی دی جا رہی ہے کہ وہ مزید آپریشنز کرے گا۔ مگر یہ دھمکی خود اس شکست کا اعتراف ہے وہ جس کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا، اب اس کی زبان سے نکل رہا ہے۔
ہمیں دشمن کے بیانات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ دفاعی چوکسی، سرحدی تیاری اور انٹیلی جنس مضبوط رکھنا ہمارا فرض ہے۔ مگر صرف عسکری تیاری کافی نہیں۔ سفارتی محاذ پر بھی ہمارا موقف مضبوط ہونا چاہئے۔ حقائق اور شواہد کے ساتھ بین الاقوامی فورمز پر اپنا کیس پیش کرنا ہوگا تاکہ دنیا حقیقت جان سکے اور جارحیت کے نتائج واضح ہوں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جنگ کا نتیجہ دونوں طرف تباہ کن ہوگا۔ اسی لیے جنگ کو آخری آپشن سمجھنا چاہیے۔ مذاکرات، ثالثی اور سفارتکاری کی راہوں کو برقرار رکھنا قومی مفاد ہے۔ مگر اگر دشمن جارح ہو تو بروقت اور فیصلہ کن جواب دینا بھی ضروری ہے تاکہ آئندہ کے لیے سبق بن جائے اور دوبارہ حملے کا خطرہ ختم ہو۔
مودی کی دھمکی کا مقصد صرف پاکستان کو ڈرانا نہیں؛ وہ اپنی سیاسی بقا کے لیے عوام میں کسی کامیابی کا تاثر دینا چاہتا ہے۔ بھارتی اندرونی سیاست میں بڑھتی تنقید، ریاستوں میں پیدا ہونے والی علیحدگی پسند تحریکوں میں تیزی اور معیشت کی کمزوری نے اسے پشیمانی میں ڈال رکھا ہے۔ بہار کے الیکشن میں واضع نظر آتی شکست نے اسکے حواس باختہ کر رکھے ہیں ۔ ایسے حالات میں جارحانہ بیانات اندرونی ناراضی کو دبانے کی کوشش ہوتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ دھمکی سے اصل مسئلہ حل نہیں ہوتا وہ مسئلے داخلی سیاسی، اقتصادی اور سماجی ہیں جن کا سامنا اسی قوم کو خود کرنا ہوگا۔
ہماری حکمت عملی تین ستونوں پر مبنی ہونی چاہیے۔ پہلا، قوم کا اتحاد؛ سیاسی اختلافات کو قومی مفاد کی خاطر بھلا کر ایک مضبوط صف بنانی ہوگی۔ دوسرا، مسلح افواج کو مکمل وسائل اور جدید تکنیکی مدد کی بلاتعطل فراہمی تاکہ وہ ہر طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔ تیسرا، سفارتی سطح پر مثر کارروائی، دنیا کو حقائق کے ساتھ واضع پیغام دینا ہوگا کہ پاکستان دفاعی موقف پر قائم ہے مگر امن کی راہ اس کی پہلی پسند ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ مودی کی دھمکی خود اس کی شکست کا بیان ہے۔ جب کسی کی حالت کمزور ہو اور اندرونی دبائو بڑھ جائیں تو وہ بیرونی دشمن بنا کر اپنی کمزوری چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر عالمی منظر نامے پر حقائق سامنے ہیں، اور پاکستان نے اپنی پوزیشن ثابت کر دی ہے۔ اب بات یہ ہے کہ ہم امن کو ترجیح دیں مگر اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن تیار رہیں۔ انشااللہ دشمن کی تمام مذموم چالیں خود بخود دم توڑ دیں گی ۔

یہ بھی پڑھیں