Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں غلط اندازوں کی قیمت

کسی نے خوب کہا ہے کہ ایران بالمقابل امریکہ و اسرائیل جنگ میں ہتھیاروں سے زیادہ مغالطے اور غلط تخمینے استعمال ہوئے ہیں۔ ہتھیاروں کی اپنی ایک رینج اور اثر کا دائرہ ہوتا ہے، مگر مس کیلکولیشن کے مضر نقصانات کی کوئی خاص حد نہیں ہوتی۔گزشتہ برس جون میں ایسے ہی غلط اندازوں، توقعات اور تکبر کے ساتھ اسرائیل نے ایران پر جارحیت کا ارتکاب کیا۔ ایران نے اس کا نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ اس کی فوجی طاقت، آئرن ڈوم اور جدید ٹیکنالوجی کے بھی بخیے ادھیڑ دئیے۔ بمشکل بارہ روزہ جنگ کے بعد ہی اسرائیل کو اپنی اوقات اور ایرانی قوت و حوصلے کا اندازہ ہو گیا۔ اس کے بعد امریکہ، اسرائیل کی عملی مدد کے لیے جنگ میں کود پڑا۔ اس نے ایران کی اہم جوہری اور عسکری تنصیبات کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا۔اس کے جواب میں ایران نے قطر میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر میزائل داغ دئیے۔ حالات کی سنگینی، ایران کے نہ جھکنے اور نہ ڈرنے کے عزم، اور خلیجی ممالک کی کمزور پوزیشن کو بھانپتے ہوئے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ امریکہ کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا تھا، جس میں وہ کامیاب ہو چکا ہے، لہٰذا مزید جنگ کی ضرورت نہیں رہی۔ یوں سیزفائر ہوا، جس کے بعد امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔او آئی سی کی چھتری تلے سعودی عرب کے شہر ریاض میں تمام اسلامی ممالک کا اجلاس ہوا، جس میں بائیس عرب ممالک سمیت ستاون اسلامی ریاستوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر سب نے تشویش کا اظہار کیا۔
غزہ میں اسرائیلی ظلم و بربریت اور ایران، اسرائیل تنازع کے تناظر میں مختلف فیصلے کیے گئے۔ چند مسلم ممالک پر مشتمل ایک وفد تشکیل دیا گیا، جس میں بعد ازاں پاکستان کو بھی شامل کیا گیا، تاکہ مسلم امہ بالعموم اور غزہ و مشرقِ وسطیٰ کے مسائل بالخصوص خوش اسلوبی سے حل کئے جا سکیں۔ یہی وفد بعد میں امریکہ جا کر ٹرمپ سے ملا، غزہ کے حوالے سے تجاویز پیش کیں، اور پھر اس کا بیس نکاتی منصوبہ بھی سامنے آیا، جس کے تحت بورڈ آف پیس تشکیل دیا گیا۔ اس دوران ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات بھی جاری رہے، جن کی کامیابی کے مثبت اشارے مل رہے تھے۔لیکن پھر وہی ہوا جس کے باعث ٹرمپ مشہورor بدنام ہے۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے اس نے اچانک یوٹرن لیا اور اٹھائیس فروری کو ایران پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ ایران کے لئے انتہائی خوفناک اور دردناک ثابت ہوا، جس میں اس کے سپریم مذہبی راہنما آیت اللہ خامنائی اور متعدد اعلیٰ عسکری کمانڈرز شہید ہو گئے۔ اس بڑے سانحے کے باوجود ایران نہ بکھرا، نہ کمزور پڑا، بلکہ اس نے ازسرِ نو عزم کے ساتھ اسرائیل اور خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر جوابی حملے شروع کر دئیے۔ایران کے میزائل اور ڈرون بارش کی طرح اپنے اہداف پر برسنے لگے۔ امریکہ اور اسرائیل کو یہ غلط فہمی تھی کہ قیادت کے نقصان کے بعد ایران بد نظمی اور بددلی کا شکار ہو کر ہتھیار ڈال دے گا، مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ اس ردعمل نے دنیا کو حیران کر دیا۔جنگ کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ فریقین کو جانی، مالی اور معاشی نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔ ہر لحاظ سے کمزور سمجھا جانے والا ایران، شدید دبائو اور عالمی تنہائی کے باوجود نہ گھبرایا ہے اور نہ ہی ہار ماننے کو تیار ہے۔ وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر مخالفین کے غرور کو چکنا چور کر رہا ہے۔اس کی وجوہات کو سمجھنے کے لیے ہمیں گہرائی میں جانا ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے امریکہ اور اسرائیل ایران کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ انقلابِ ایران کے بعد آنے والی مذہبی، سماجی، عسکری اور سفارتی تبدیلیوں نے اس کے مخالفین کو تشویش میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ایران کا جوہری پروگرام، میزائل ٹیکنالوجی میں پیش رفت، اور خطے میں اس کا بڑھتا اثر، مغربی طاقتوں اور خلیجی ممالک کے لیے خطرہ تصور کیا جانے لگا۔اسی تناظر میں ایران پر اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈے قائم کئے گئے تاکہ ممکنہ جنگ کی صورت میں دفاع کو یقینی بنایا جا سکے۔
خلیجی ممالک کو ان اڈوں سے تحفظ کا احساس تھا، مگر یہ سب اندازے غلط ثابت ہوئے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی جغرافیائی سیاست اور سیکورٹی حرکیات تبدیل ہو گئیں۔اب آئیے ان بڑے مغالطوں کا جائزہ لیتے ہیں جن کی بنیاد پر یہ جنگ چھیڑی گئی،پہلا مغالطہ یہ تھا کہ ایرانی عوام اپنی حکومت سے تنگ ہیں اور بیرونی حملے کی صورت میں بغاوت کر دیں گے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ ابتدائی احتجاجی لہروں کو ریاست نے کنٹرول کر لیا اور پوری قوم بیرونی جارحیت کے خلاف متحد ہو گئی۔دوسرا اندازہ یہ تھا کہ ایران طویل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکے گا اور جلد ہتھیار ڈال دے گا۔ یہ مفروضہ بھی غلط ثابت ہوا۔تیسرا یہ کہ خلیجی اور نیٹو ممالک امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے جنگ میں شامل ہو جائیں گے، مگر ایسا بھی نہ ہوا چوتھا بڑا مغالطہ آبنائے ہرمز سے متعلق تھا۔ ایران کی جانب سے اس کی بندش کی دھمکی کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑ رہے ہیں اور نئی تزویراتی صف بندیاں وجود میں آ رہی ہیں۔اس جنگ نے طاقت کے تصور کو بھی بدل دیا ہے۔ مغرب کی اجارہ داری کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور رجحان مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ امریکہ کی ناقابلِ تسخیر حیثیت کا بھرم ٹوٹ چکا ہے۔ نیٹو اور خلیجی ممالک کا جنگ میں شامل نہ ہونا اس کی واضح مثال ہے۔خلیج میں امریکی اڈوں کی افادیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ امریکہ کے اندر بھی سیاسی و سماجی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ایران اس وقت امریکہ کے لیے ایک ایسا کمبل بن چکا ہے جسے وہ چھوڑنا چاہتا ہے، مگر چھوڑ نہیں پا رہا۔جہاں امریکہ کے ابتدائی مقاصد رجیم چینج تھے، وہ اب مذاکرات اور جنگ بندی تک محدود ہو چکے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی اس وقت ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں، اور پاکستان اس میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ایران اور امریکہ دونوں نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جو پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ پاکستان کو اس وقت عالمی سطح پر جو مقام حاصل ہو رہا ہے، وہ اس کی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ بھارت کے خلاف حالیہ کامیابیوں کے بعد پاکستان کی جغرافیائی و سیاسی حیثیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔دوسری طرف ایران، شدید دبائو اور منفی عالمی پروپیگنڈے کے باوجود، اپنی مزاحمتی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ یہ جنگ ہتھیاروں سے زیادہ غلط اندازوں، مفروضوں اور رعونت کا نتیجہ ہے۔ اس میں دنیا کے لئے سبق بھی ہے اور عبرت بھیکہ طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ درست اندازے، حکمت اور حقیقت پسندی میں ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں