شخصیت پرستی اور وطن پرستی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ افراد سے عقیدت اور اداروں کے احترام میں بھی اتنا ہی فاصلہ ہے۔ جب انسانی سوچ ذاتی پسند، جذباتی وابستگی اور گروہی تعصبات کی دلدل میں دھنس جائے تو بصیرت کے چراغ بجھ جاتے ہیں۔ دلیل کی جگہ خواہشیں لے لیتی ہیں اور انسان حقیقی دنیا کے بجائے ایک خیالی کائنات میں جینا شروع کر دیتا ہے۔ ایسی دنیا جہاں منظر، ماحول، ترجیحات حتی کہ سچ صرف اس کے اپنے ذہنی خاکوں کے تابع ہوتے ہیں۔ اس کا دائرہ فکر محدود ہو کر صرف خواہشات اور اپنی ذات تک سمٹ جاتا ہے، اور اس کے باہر کی ہر بات اسے دھندلی یا تاریک دکھائی دیتی ہے۔ یہی کیفیت آہستہ آہستہ ایک نفسیاتی مرض کی صورت اختیار کر لیتی ہے جس پر نہ منطق اثر کرتی ہے نہ حقائق۔
بدقسمتی سے پاکستان بھی گزشتہ چند برسوں سے اسی خطرناک ذہنی انتشار کا شکار ہے۔ ایک منظم طبقے نے سیاست کو ریاست پر مقدم کر دیا ہے۔ اداروں کی عزت افراد کی مقبولیت کے نیچے روند دی گئی ہے۔ اس خطرناک روش نے ملکی وحدت، سلامتی اور قومی یکجہتی کے بنیادی تقاضوں ہی کو مشکوک بنا دیا ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ کہ یہ لوگ ہر اس بیان، عمل یا پروپیگنڈے کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں جو بیرونی یا اندرونی دشمن پاکستان کے خلاف کرتا ہے۔یہاں تک کہ دشمن ملک کی فوج کی تعریف اور اپنی فوج پر غلاظت پھینکنے کے اشتعال انگیز بیانیے بھی اِن کے دل کو تسکین دینے لگے ہیں۔ اس سے بڑی فکری غداری اور کیا ہو سکتی ہے؟
جو نوجوان، سپاہی، آفیسر دھرتی ماں کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، ان کی قربانیوں کا مذاق اڑانا، ان پر بے بنیاد الزامات لگانا اور پروپیگنڈے کی زبان بولنا تو ایسے زخم لگانے کے مترادف ہے جو دشمن بھی نہیں لگاتا۔ اگر ایسی روش اختیار کرنے والے اپنے آپ کو محب وطن سمجھتے ہیں تو یہ خود فریبی کی انتہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل دشمن اب سرحدوں کے اس پار نہیں، بہت سے چہرے ہماری صفوں میں موجود ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے آستین کے سانپوں کا قلع قمع کرے، ورنہ یہی عناصر بیرونی دشمن کے لیے راستے ہموار کر کے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اس سال رب کریم نے پاکستان پر خاص کرم کیا ہے۔ ایک بڑے دشمن کے مقابلے میں نہ صرف غیر معمولی کامیابیاں نصیب ہوئیں، بلکہ بیرونی جنگ کے دوران اندرونی دشمن بھی بے نقاب ہو کر سامنے آ گئے۔ جنگ کے بادل چھٹ چکے ہیں، لیکن پراکسی وار بدستور جاری ہے۔ اب منظر واضح ہے۔دوست بھی پہچان میں آ رہا ہے اور دشمن بھی۔ جو ریاست کے ساتھ دل و جان سے کھڑے ہیں، ان پر ذاتی حملے کیے جا رہے ہیں، جب کہ ریاست مخالف بیانیہ اختیار کرنے والوں کی حمایت میں بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی موجودہ رجیم تک کھلم کھلا سامنے آ چکی ہے۔
یہ وہی دشمن میڈیا چینلز ہیں جنہوں نے پاکستان کے خلاف معرکہ حق کے دوران غلیظ پروپیگنڈا مہم چلائی۔ جھوٹی خبریں، بربادی کے افسانے، اور خوف پھیلانے کی ناکام کوششیں لیکن اب وہی پلیٹ فارمز پاکستانی عناصر کو کھل کر سپیس دے رہے ہیں جہاں وہ اپنی ہی ریاست کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ ایسے دشمن چینلز سے روابط، ان کے اسکرپٹ پر انٹرویوز، ملکی فوج کے خلاف ہرزہ سرائی اگر غداری نہیں تو پھر اور کیا ہے؟
سوال یہ ہے کہ جب کوئی گروہ ملک کے خلاف وہی زہریلی باتیں دہرائے جو دشمن کرتا ہے تو ریاست کیوں نہ کارروائی کرے؟ اگر کوئی گروہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے بیانیے کو تقویت دے، سیکیورٹی فورسز کے قاتلوں کی وکالت کرے، ملک دشمن عناصر کو سپورٹ کرے تو پھر اس کے اور دہشت گردوں کے درمیان کیا فرق باقی رہ جاتا ہے؟ کیوں نہ قانونِ نافذہ ان پر لاگو کیا جائے؟ ریاست کی رٹ بحال کرنا ضروری ہے، ورنہ دشمن کا کھیل مزید طاقت پکڑ لے گا۔
اصل حیرت تو یہ ہے کہ ملک دشمنی پر مبنی اس مسلسل مہم کا مقصد آخر کیا ہے؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کو جھکا لیں گے؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ عوام اور فوج کے درمیان بدگمانیاں زیادہ ہو جائیں؟ اس سے انہیں کیا ملے گا ؟ کیا اقتدار ؟ ہرگز نہیں۔کھوئی ہوئی عزت؟ ممکن نہیں۔بین الاقوامی حمایت؟ بکل صرف وہ قوتیں دیں گی جو پاکستان کی تباہی چاہتی ہیں۔ خاکم بدہن وطن عزیز کی تباہی اور بربادی کے مذموم عزائم رکھنے والی قوتوں کی حمایت اور سہولت کاری اگر غداری نہیں تو اور کیا ہے ۔ ؟
چنانچہ دشمنوں کے ایجنڈے پہ کام کرنے والے اب جان لیں کہ ریاست فیصلہ کر چکی ہے۔ نہ غداروں کو اسپیس ملے گی نہ سہولت کاروں کو مہلت۔ دشمن کی ہر چال ناکام بنانے کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔
قومی وحدت وقت کی ضرورت ہے۔ شخصیت پرستی، گروہی تعصب، جھوٹے بیانیے اور بیرونی سازشوں کے مہرے بن کر کوئی ملک ترقی نہیں کرتا۔ وطن پرستی کا تقاضا ہے کہ اداروں کو مضبوط کیا جائے، ریاست کی رٹ کو تسلیم کیا جائے اور دشمن کے پروپیگنڈے کا حصہ بننے سے گریز کیا جائے۔ملک ہم سب کا ہے ۔اگر دشمنوں کے ہاتھوں کمزور ہوا تو خسارہ سب کا ہوگا۔ لیکن اگر ریاست اور عوام ایک صف میں کھڑے رہے تو کوئی طاقت پاکستان کے پائوں کی زنجیر نہیں بن سکتی ۔