Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

قومی وحدت پر کھلا وار

چند روز قبل لاہور میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں زیادہ تر ایک مخصوص سوچ کے افراد مدعو تھے۔ ان کا تعلق کم و بیش ہر شعبہ زندگی سے تھا۔ اختر جان مینگل، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور رکنِ قومی اسمبلی بھی اس میں شریک تھے۔ اسٹیج پر براجمان تمام مہمانوں نے ملکی حالات اور تاریخ پر اظہارِ خیال کیا، مگر جو تقریر اختر جان مینگل نے کی وہ کسی دھماکے سے کم نہ تھی۔ اس نے نہ صرف قومی وحدت کی بنیادوں کو ہلانے کی کوشش کی بلکہ ملکی تاریخ کو مسخ کرنے کی جسارت بھی کی۔انہوں نے جس انداز میں تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا، سنسنی اور کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کی، وہ انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ان کی تقریر کے ایک ایک جملے سے ریاست کے خلاف بدگمانی اور پنجاب دشمنی کی جھلک نمایاں تھی۔ آئیے، ان کے نکات کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہیں۔تقریر کے آغاز ہی میں انہوں نے پاکستان کے یومِ آزادی، 14 اگست، کی حقیقت اور درستی پر سوال اٹھایا۔ نہ کوئی واضح منطق، نہ سیاق و سباق۔ اچانک اٹھتر برس بعد اس قومی اہمیت کی تاریخ پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کا مقصد کیا تھا؟ وہ بھی ایسے وقت میں جب ملک چاروں اطراف سے خطرات کی زد میں ہے، داخلی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے، ہزاروں جانیں دفاعِ وطن میں قربان ہو چکی ہیں، اور قومی اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے حالات میں اس نوعیت کے متنازع بیانات دینا قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔اگر واقعی انہیں اس تاریخ پر کوئی ابہام تھا تو بطور وزیر اعلی اور رکنِ قومی اسمبلی انہوں نے مناسب آئینی فورمز پر یہ معاملہ کیوں نہ اٹھایا؟ وہ خود یومِ آزادی کی تقریبات میں شریک ہوتے رہے، ان کے دورِ حکومت میں یہی تاریخ نصاب کا حصہ رہی اور سرکاری سطح پر پورے جوش و خروش سے منائی جاتی رہی۔
اب اچانک اس پر سوال اٹھانا سیاسی موقع پرستی کے سوا اور کیا ہے؟تقریر کے دوران انہوں نے ایک کاغذ جیب سے نکال کر لہرایا، جسے وہ خان آف قلات اور قائد اعظم محمد علی جناح کے مابین معاہدہ قرار دے رہے تھے۔ چند مندرجات پڑھ کر ریاستِ پاکستان پر معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ خود اقتدار کے ایوانوں میں موجود تھے تو اس دستاویز کو باضابطہ طور پر کیوں پیش نہ کیا؟ بلوچستان کی دیگر ریاستوں کے الحاقی معاہدات کا ذکر کیوں نہ کیا؟ تاریخ کو جزوی حوالوں کے ذریعے پیش کرنا بددیانتی کے مترادف ہے جو بالواسطہ طور پر دہشت گردوں کو ملک دشمن سرگرمیوں کا جواز فراہم کرتا ہے یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ 1973 ء کے متفقہ آئین کے نفاذ کے بعد ریاستی معاملات اسی آئینی ڈھانچے کے تابع ہیں۔ آئین ہی اجتماعی عمرانی معاہدہ ہے، آئین ہی وفاق کی بنیاد ہے، اور آئین ہی حقوق و فرائض کا تعین کرتا ہے۔ پرانی دستاویزات کو سیاق سے ہٹا کر آج کے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے بلکہ قومی استحکام کے خلاف بھی ہے۔اختر مینگل کی تقریر طے شدہ نکات پر مبنی تھی۔ یہ نکات کم اور ریاست کے خلاف الزامات اور پنجاب کے خلاف دشنام طرازی زیادہ تھے۔ لہجے کی تلخی اور اندازِ بیان کی سختی ان کی ذہنی کیفیت کی عکاسی کر رہی تھی۔ بلوچستان کے پیچیدہ سیاسی مسائل کو یک طرفہ انداز میں پنجاب کے کھاتے میں ڈال دینا حقائق کے منافی ہے۔انہوں نے 1971 ء کے سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے ادھر تم، ادھر ہم کا جملہ دہرایا اور اسے آج کے حالات سے جوڑنے کی کوشش کی۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ 1971ء کے واقعات کثیرالجہتی سیاسی بحران کا نتیجہ تھے۔ اسے محض کسی ایک صوبے یا لسانی گروہ سے منسوب کرنا علمی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے غلط ہے۔
سب سے سنگین بات وہ تھی جب انہوں نے کہا کہ ہم ناقابلِ واپسی مقام سے آگے جا چکے ہیں، ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے، شاید علیحدگی کے بعد اچھے پڑوسی بن سکیں۔ یہ الفاظ محض بیان نہیں تھے؛ یہ ملکی سالمیت، آئینی ڈھانچے اور قومی وحدت پر براہِ راست وار تھا۔ یہ کھلم کھلا بغاوت کے مترادف اعلان تھا۔ ایسے بیانات کی سنگینی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جمہوریت میں نمائندگی کا معیار ووٹ ہوتا ہے۔ کیا بلوچستان کی واضح اکثریت اس بیانیے کی حامی ہے؟ کیا چند نشستیں جیت لینے سے پورے صوبے کے مستقبل کا فیصلہ صادر کیا جا سکتا ہے؟ کسی بھی رہنما کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پورے صوبے کی قسمت کو ذاتی سیاسی بیانیے کے تابع کر دے۔مزید یہ کہ ایک ایسا شخص جو بلوچستان کے ایک محدود اور چھوٹے سے حلقے کی نمائندگی کرتا ہو، جس نے کبھی پورے صوبے میں کلین سویپ نہ کیا ہو، جب خود کو شیخ مجیب الرحمن کے ہم پلہ سمجھ کر گفتگو کرے تو یہ حیران کن بھی لگتا ہے اور مضحکہ خیز بھی۔ مجیب صحیح تھا یا غلط، اس بحث سے قطع نظر، مشرقی پاکستان کی تقریباً نوے فیصد آبادی اس کی پشت پر کھڑی تھی۔ اس حمایت کا عکس انتخابی نتائج میں واضح تھا۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو نے مغربی پاکستان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں۔ وہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ بات کر رہے تھے۔ آپ اپنے سیاسی قد، مقبولیت اور ووٹ کے تناسب کا ان سے موازنہ کریں تو حقیقت خود آشکار ہو جائے گی۔آپ کو بھی علم ہے کہ اتنے بڑے صوبے میں آپ کی پہچان اور مقبولیت آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ لہٰذا آپ کی دھمکیاں اور ملک دشمن بیانیہ وطنِ عزیز کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔ البتہ یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے دم توڑتی ہوئی کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے بیانیے کو سیاسی آکسیجن فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ریاست مخالف اور مذموم بیانیے کو جِلا دے کر آپ نے ایک مردہ جسد میں جان ڈالنے کی سعی لاحاصل کی ہے۔پاکستان کے سول شہریوں، پولیس، فوج اور رینجرز کے شہداء کے لیے نہ آپ کے الفاظ میں درد جھلکتا ہے نہ افسوس، لیکن دہشت گردوں کی ہلاکتیں آپ کو مغموم کر دیتی ہیں۔ آپ کھل کر ان کی حمایت میں بیانات دیتے ہیں، ریاست کے خلاف آتشی گفتگو کرتے ہیں اور نوجوانوں کو اکسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اب ایسا نہیں چلے گا۔پاکستان محض ایک جغرافیہ نہیں، یہ لاکھوں قربانیوں کی امانت ہے۔ اس کی سالمیت پر حملہ سیاسی اختلاف نہیں بلکہ قومی احساسات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر علیحدگی کی بازگشت کھلی بغاوت ہے۔ دہشت گردوں کے سیاسی چہرے اور ونگ اب بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ریاست، قانون اور عوام سب دیکھ رہے ہیں۔ جو عناصر دانستہ طور پر ملک دشمن بیانیے کو ہوا دیں گے، انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہوگا۔ پاکستان کی وحدت، سالمیت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ پہلے ہوا ہے، نہ آئندہ ہوگا۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

یہ بھی پڑھیں