سیاسی تقسیم، نظریاتی اختلاف اور سوشل میڈیا کے بے محابا استعمال نے انسانی قربت اور محبت کے جذبوں کو دھندلا دیا ہے۔ غیر محسوس انداز میں دلوں کے درمیان فاصلے اور بدگمانیاں جنم لے چکی ہیں۔ بے تکلفی، جو کبھی رشتوں کی پہچان ہوا کرتی تھی، اب آہستہ آہستہ تکلف کی دبیز چادر میں لپٹتی جا رہی ہے۔ جہاں کبھی قہقہوں اور لطیفوں کا تبادلہ ہوا کرتا تھا، وہاں اب محتاط، نپا تلا اور سنجیدہ مکالمہ رواج پا رہا ہے۔
دوستی کے رنگ کیوں پھیکے پڑ گئے ہیں؟
سماجی محفلیں اور روایتی گپ شپ کیوں ماند پڑ گئی ہیں؟
اکثریت گھروں میں محدود ہو کر ٹی وی اسکرین اور سوشل میڈیا تک ہی کیوں سمٹ کر رہ گئی ہے؟
اس کی بنیادی وجہ سماج میں جنم لینے والی وہ دراڑیں ہیں جنہوں نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے۔ سیاسی اور نظریاتی اختلاف دلوں میں فاصلے اور بدگمانیاں پیدا کرنے کا سب سے بڑا سبب بن چکا ہے۔ اس پر مستزاد سوشل میڈیا پر جاری نظریاتی دنگل، باہمی دل آزاری اور تضحیک نے رشتوں اور سماجی فضا کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دوستی اور بے تکلفی کے جذبے اس قدر سرد پڑ چکے ہیں کہ ماضی کے برعکس دوستوں کے چٹکلے بھی بے اثر اور بانجھ محسوس ہونے لگے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے تک یاروں کی محفلیں بڑے اہتمام اور شوق سے سجتی تھیں۔ قہقہوں سے فضا گونجتی رہتی، ایک دوسرے پر طنز و مزاح کے وار ہوتے، مگر ان میں خلوص کی ایسی آمیزش ہوتی کہ کسی کے دل میں بیزاری جنم نہ لیتی۔ خود پر ہونے والی مزاحیہ تیر اندازی کو فراخ دلی سے سہہ لیا جاتا اور سب مل کر مسکراتے۔ ایسی محفلیں ذہنی تنا اور روزمرہ زندگی کی تھکن اتارنے کا بہترین ذریعہ ہوتی تھیں۔ میل جول اور سماجی سرگرمیوں کی صحت افزا روایت زندہ رہتی تھی۔
پھر عوام میں شعور اور آگاہی کی نام نہاد مہم کا آغاز ہوا۔ ایک مخصوص بیانیے کے تحت ایک کے سوا سب کو نااہل، ناکارہ اور قومی مجرم بنا کر پیش کیا گیا۔ ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے دعوے کیے گئے اور ایک ایسے شخص کو امیدوں کا محور بنا دیا گیا جس کا ماضی اور کردار سب پر عیاں تھا۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے اس بیانیے کو بھرپور تقویت دی۔ گھنٹوں طویل پروگرام، مباحثے اور توصیفی کلمات کے ذریعے اسے فرشتہ صفت، راست باز اور مسیحا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ مخالفین کی کردار کشی میں تمام حدیں پار کر دی گئیں۔
جھوٹے الزامات، من گھڑت مقدمات اور فرضی کرپشن اسکینڈلز کو اس تواتر سے دہرایا گیا کہ جھوٹ سچ کا لبادہ اوڑھنے لگا۔ کچے اذہان، نوجوان، حتی کہ ہر شعب زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ اس ذہن سازی کی زد میں آ گئے۔ یہ نفرت آمیز تقسیم اس حد تک بڑھی کہ تاریخ میں پہلی بار عسکری حلقے بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے۔ مخصوص چینلز اور پروگراموں کی بے روک ٹوک رسائی نے نظم و ضبط، اتحاد اور بھائی چارے کی فضا کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔
پاک فوج شاندار روایات اور اقدار کی حامل ادارہ ہے۔ یہاں دوستی محض تعلق نہیں بلکہ عہد ہوتی ہے۔ ابتدائی تربیت کے کٹھن مراحل، جان جوکھوں میں ڈالنے والے لمحات اور میدانِ جنگ میں ایک دوسرے کی ڈھال بننے کا تجربہ رشتوں کو چٹان کی طرح مضبوط کر دیتا ہے۔ میں خود ایک ویٹرن فوجی افسر ہوں۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کی سخت تربیت، کورس میٹس کی باہمی قربانیاں، ایک دوسرے کے لیے سزا سہہ لینا. یہ سب ایسی لازوال دوستیوں کی بنیاد بنتا ہے جو عمر بھر قائم رہتی ہیں۔
سوشل میڈیا آیا تو رابطوں کو نئی جہت ملی۔ واٹس ایپ گروپس بنے، یادیں تازہ ہوئیں، خوشی غمی کی خبریں شیئر ہوئیں۔ مگر جلد ہی سیاست نے یہاں بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لیں۔ نظریاتی شدت پسندی نے ہنسی مذاق کی جگہ تلخ مباحثے لے لیے۔ ناراضیاں بڑھتی گئیں، شمولیت کم ہوتی گئی، حتی کہ صدیوں سے چلی آنے والی سالانہ کورس گیٹ ٹوگیدرز کی رونق بھی ماند پڑنے لگی۔
گزشتہ چند برسوں میں سیاست کی اس سونامی نے دوستیوں کے بڑے بڑے تناور شجر اکھاڑ دیے ہیں۔ اس کا نقصان صرف انفرادی رشتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ قومی یکجہتی اور اجتماعی ہم آہنگی بھی اس کی زد میں آ چکی ہے۔
قوم کے مفاد کا تقاضا ہے کہ جن عناصر نے ذاتی اور سیاسی مفادات کی خاطر قوم کو ورغلایا، سماجی فضا مکدر کی اور باہمی رشتوں میں خلیج پیدا کی، وہ آگے بڑھ کر اعتراف کریں۔ جن کہانیوں اور نعروں پر اندھی تقلید کی بنیاد رکھی گئی، ان کی حقیقت عوام کے سامنے لانا ہوگی۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں سے لگائی غلط گرہوں کو اکثر دانتوں سے کھولنا پڑتا ہے۔ اور یہ عمل ہمیشہ تکلیف دہ، طویل اور نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔