حب الوطنی کی مسلمہ تعریف کیا ہے، اس بحث میں الجھنے کی بجائے ہم اس کو حقیقی روح کے ترازو میں تول کر جاننے کی کوشش کرتے ہیں سادے لفظوں میں وطن سے محبت کو حب الوطنی کہتے ہیں مگر یہ جذبہ پیدا کرنا، اس کو فروغ دینا اور اس کے اثر میں اپنی مٹی پر مرمٹ جانا بڑا مشکل عمل ہے۔
حب الوطنی شہریوں کا ایمان کا حصہ ہوتا ہے، اس کو مضبوط کرنے کے لئے کسی شرط ، مفادات، لالچ یا خوف کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ایک فطری جذبہ ہے جو انسان کی فطرت میں اتر کر اس کے قول و فعل سے منعکس ہوتا ہے۔ محض زبانی دعوئوں اور نعروں سے اس کے معیار کو چھواجاسکتا ہے نہ اس سے منسلکفرائض اور حقوق کی ادائیگی کی جاسکتی ہے ریاست سے وابستگی، حکومت سے تعلق اور مٹی سے محبت تینوں مختلف چیزیں ہیں۔ ریاست اور حکومت سے ہمدردی وقتی یا عارضی ہوسکتی ہے مگر مٹی سے محبت لازوال اور غیر مشروط ہوتی ہے۔ درحقیقت ریاست اور حکومت کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے اس سے قطع نظر، وطن کی محبت اگر قائم و دائم رہتی ہے تو حب الوطنی کی شکل اختیار کرتی ہے۔ اگر معاملات اس کے برعکس اور الٹی ترتیب میں ہوں تو یہ شکوک و شہبات کی زد میں آجاتے ہیں۔کوئی فردیاگروہ ذاتی مفادات کی راہوں سے گزر کر حب الوطنی کے زینے پہ پہنچتا ہے تو یہ حب الوطنی نہیں بلکہ مشروط سودے بازی ہے۔
اپنی مٹی اور وطن سے محبت سمندر میں لہروں کی مانند ہے، ہوا کے جھونکوں کی طرح ہے، آگ کے شعلوں اور روشن آفتاب کی طرح ہے،اس کو چھپایا جاسکتا ہے نہ مصنوعی طور پر اپنایا جاسکتا ہے۔ اس کو پرکھنے اور سمجھنے کے لئے چند عام سی علامات اور اشارے ہی کافی ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ کے ملک کو کوئی برا کہے تو آپ کو برا لگے، آپ کے ملک کو کوئی نقصان پہنچائے تو آپ کو دکھ ہو ،خون کھولے اور اگر کوئی بیرونی اندرونی دشمن اس کی بقاء اور سالمیت پر حملہ کرے تو آپ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ریاست کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں۔ عملی طور پر جہاد کا حصہ بننے کی صلاحیت نہ بھی ہو تو سیاسی، اخلاقی اور مالی طور پر ملکی طاقت کے دفاع کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، لیکن شرط یہ ہےکہ یہ سب کچھ نمائشی یا فرمائشی نہ ہو بلکہ مکمل وطنی محبت کے جذبے کے تحت ہو، تو انہیں آپ بے شک خالص حب الوطنی کے مظاہر گردان سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر اپنے ملک کی کامیابی و نصرت آپ کے لئے بے ساختہ فخر و افتخار کا سبب بنے، آپ میں جوش و خروش اور احساس تقاخر برپا کرے تو یہ بھی اپنے وطن سے سچی اور پرخلوص محبت کی علامت ہے۔اس کے برعکس، اگر ملک کے خلاف جارحیت اور جارح آپ کو برا نہ لگے، ملک کی سالمیت اور بقاء کو نقصان پہنچانے والے آپ کی نفرت اور تنقید کا نشانہ نہ بنیں، ملکی نقصان اور بدنامی آپ کو پریشان نہ کرے بلکہ آپ اس کو جواز بنا کر اپنی ہی ملک کی تضحیک کریں، ملک دشمن قوتوں کے بیانیے کی تائید اور اپنے ریاستی موقف کی مخالف کریں۔ جب سرحد پار سے دشمن ملک میں تباہی اور معصوم شہریوں کا خون کرے تو ان کی مذمت یا مخالفت کےبجائے آپ اپنے سیکورٹی اداروں کو ہدف تنقید و تشنیع بنائیں۔ جب دشمن جوابی وار کرے تو آپ اس کی مخالفت اور دشمن کی حمایت میں کھل کر سامنے آجائیں تو اس کو حب الوطنی نہیں بلکہ ملک دشمنی کہا جائے گا۔ اس قول و فعل کے ساتھ آپ حب الوطنی کے ہزار دعوے کریں، چوبیس گھنٹے راگ الاپیں، آپ سب کچھ ہوسکتے ہیں مگر محب وطن نہیں۔فطری و جذباتی روہے کے علاوہ حب الوطنی کا ایک دوسرا رنگ آئینی اور قانونی بھی ہے،ملکی آئین کی پاسداری،قانون کا احترام اور نظم و نسق میں ذمہ داری کا احساس بھی اسی میں شامل ہے۔ ملکی آئین آپ سے ملکی دفاع اور وفاداری کا متقاضی ہوتا ہے،اسی لئے اہم ریاستی مناصب اور عہدوں کے حامل افراد سے منصبی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل حلف لیا جاتا ہے،اسی حلف کا نچوڑ وطن کو اولیت دیناہے۔ ہمارے کیس میں پاکستان فرسٹ ہے،یعنی پاکستان کی حرمت، محبت، حفاظت اور اہمیت دیگرتمام سیاسی، مذہبی اور عقیدتی وابستگیوں سے بالاتر ہے۔ اگر پاکستان فرسٹ کے اصول اور پالیسی کو صدق دل سے فالو نہ کیا جائے تو نہ صرف ملکی اتحاد کمزور ہو جائے گا بلکہ وطن کی مٹی بھی مطلوبہ وفا اور وارثین سے محروم ہو جائے گی،ایسی صورتحال میں کوئی معاشرہ اور ملک قائم نہیں رہ سکتا،کیونکہ تاک میں بیٹھے ملک دشمنوں کے لئے وار کرنے کے لئے ایسا ماحول موزوں ترین ہوتا ہے۔ اس لئے دانش مندی اور حکمت کا یہی تقاضا ہے کہ حالات کی حساسیت اور سنگینی کا سنجیدگی سے ادراک اور احساس کرتے ہوئے اپنے اطوار درست کئے جائیں۔کھوکھلی حب الوطنی کا ایک اور بدترین نمونہ وہ ہوتا ہے،جب آپ اس کو مخصوص چہروں سے مشروط و منسوب کر دیتے ہیں۔ اگر وہ اقتدار میں ہیں تو سب اچھا اگر وہ نہیں تو سب برا، یہ ذہنی اور نفسیاتی روش بھی ملکیتی سالمیت، یکجہتی اور روشن مستقبل کے سر پر لٹکتی تلوار ہے۔
آج کل مخصوص طبقات اپنی مٹی سے جڑت اور محبت پر خاص سیاسی اور مذہبی سوچ کے تحت دوسرے مسالک سے ہمدردی کو ترجیح دے رہے ہیں جو نہ صرف پاکستان فرسٹ اصول کے منافی ہے بلکہ قومی اتحاد اور وحدت کے لئے بھی انتہائی خطرناک ٹرینڈ ہے۔ ذرا سوچیں، اگر پاکستان میں بسنے والے مختلف مذاہب کے لوگ پڑوس میں اپنے ہم عقیدہ ممالک سے پاکستان کےمقابلے میں زیادہ ہمدردی اور جھکائو رکھنا شروع کر دیں تو پاکستان کا والی وارث کون ہوگا؟ مثلاً مسیحی امریکہ، ہندو بھارت ، شیعہ ایران، دیوبندی طالبان اور سعودی عرب کی محبت سے سرشار ہو کر پاکستانیت کو پس پشت ڈال دیں تو پاکستان سے محبت،اس کی حفاظت کرنے کے لئے کون بچےگا؟ اس تصور اور خطرے کے پیش نظر حلف برداری اور پاکستان فرسٹ کی پالیسی رائج ہے اور اس پر عمل پیرا ہونا ہی آئینی اور قومی فرض ہے۔
ملک پاکستان چہار اطراف سے خطروں میں گھرا ہوا ہے۔ علاقائی اور عالمی سطح پرجاری جنگوں کے سائے ایک الگ خطرہ ہیں،وطن عزیز نازک ترین حالات سے گزر رہا ہے۔ بھارت کے خلاف نصرت خداوندی نے ہمیں اقوام عالم میں اہم مقام عطا کیا ہے،ہماری فوجی اور سفارتی کوششوں کو بڑی قدر کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ عالمی اور علاقائی ممالک کی نظریں ہمارے کلیدی کردار پر جمی ہیں۔ ہمارے لئے یہ صورتحال سنہری مواقع لے کر آئی ہے۔ حکمت اور دانش مندی سے ہم اس سے بھرپور معاشی، سفارتی اور اقتصادی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس خواب اور خواہش کی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم، اندرونی طور پر متحد اور مضبوط نہیں ہوں گے۔ متحد اور مضبوط ہونے کے لئے ہمیں صرف ایک کام کرنا ہے،تمام اختلافات،تعصبات اور تفرقات کو بھول کر جتنی جلدی ممکن ہو سکےحب الوطنی کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہے۔یہ عظیم قدم اٹھائیں ورنہ تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی۔