Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

اِٹس اوور ایک کالم، ایک شور، اور ہمارا فکری انتشار

انگریزی زبان کے ایک اخبار میں شائع ہونے والا کالم، جسے امریکہ میں پی ایچ ڈی کرنے والے ایک نوجوان طالب علم نے تحریر کیا، بظاہر ایک معمول کی تحریر تھی۔ مگر اس کا منظرِ عام پر آنا اور پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اچانک غائب ہو جانا، سماجی اور سیاسی فضا میں کسی زلزلے سے کم ثابت نہ ہوا۔یہ تحریر سوشل میڈیا پر پہنچی تو تبصروں کا سیلاب امڈ آیا۔ عام زندگی کی محفلیں ہوں یا ڈیجیٹل دائرے، ہر جگہ اسی کالم کا ذکر ہونے لگا۔یہ بات اپنی جگہ دلچسپی سے خالی نہیں کہ ایک انگریزی اخبار، جس کی گردش اور حلق فہم محدود سمجھا جاتا ہے، اس کا ایک کالم اس قدر وسیع سطح پر زیرِ بحث آ گیا۔ مگر اصل مسئلہ کالم کی غیر معمولی قوت نہیں، بلکہ ہماری غیر معمولی حساسیت ہے۔کالم کی پوٹلی سے ہر شخص نے اپنی منشا، اپنی فکری وابستگی اور اپنے سیاسی رجحان میں لپٹا ہوا ترجمہ نکالا۔کسی نے اسے گھٹن اور حبس زدہ ماحول میں ابرِ انقلاب کا قطر اول قرار دیا۔کسی نے اسے جنریشن زی کی طرف سے طاقتور حلقوں کے در پر دستک سے تعبیر کیا۔
اور کسی نے اسی معمول کے مواد پر مبنی تحریر کو چائے کے کپ میں طوفان کہہ کر مسترد کر دیا۔حقیقت یہ ہے کہ اس تمام تبصرہ آرائی اور فکری دھینگا مشتی نے اس کالم کو غیر معمولی اہمیت دے دی۔ تحریر کے غیر واضح مقصد اور مبہم مخاطب کو مخصوص حلقوں سے جوڑ کر اس سے مخصوص نتائج کشید کرنے کی کوشش کی گئی۔وطنِ عزیز میں پہلے سے سلگتی ہوئی آتشِ پروپیگنڈا پر اسے بطورِ تیل استعمال کرنے کی سعی کی گئی۔
کالم کو یوں پیش کیا گیا جیسے کوئی نیوکلیئر میزائل ہو، جسے سیاسی فضا میں اس امید پر چھوڑا گیا ہو کہ یہ اپنے طے شدہ اہداف کو نیست و نابود کر دے گا، اور یوں اس کا عنوان ہی اس کی حقیقت بن جائے Its Over۔
ممکن ہے کالم نگار کو کرکٹ سے شغف ہو۔ کالم کا عنوان کرکٹ والے over کو ذہن میں رکھ کر چنا ہو ۔
یہ بھی بعید نہیں کہ وہ اپنے دلائل سمجھانے کے لیے کرکٹ کی اصطلاحات استعمال کرنے کا عادی ہو۔ ہو سکتا ہے تحریر کے لمحے اس کے ذہن کے آئینے میں کسی پسندیدہ کھلاڑی کا عکس موجود ہو۔
لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ استعارہ کہاں سے آیا، بلکہ یہ ہے کہ تحریر کا مخاطب کون تھا؟
یہ کس کے لیے خبرداری کا پیغام تھا؟
اور کس کے لیے حتمی اعلان؟
کیونکہ کرکٹ کی اصطلاحات کے غیر واضح اور علامتی معنی وہی شخص درست پیرائے میں سمجھ سکتا ہے جو کھیل کے مزاج، اس کے اتار چڑھا اور اس کی نفسیات سے واقف ہو۔تو پھر یہ اشارہ کس کے لیے تھا؟زیرِ عتاب سیاسی جماعت کے پیروکاروں کو اس کالم کے شیشے میں مقتدرہ کا عکس نظر آیا۔ نوجوان لکھاری کی سوچ اور کاوش کو اس بھٹی کی چنگاری سمجھا گیا جہاں سے انقلاب جنم لیتا ہے۔ اسے جنریشن زی کے حقیقی جذبات کی نمائندگی قرار دیا گیا، اور نیپال و بنگلہ دیش میں حالیہ برسوں کے نوجوانوں کی نظام مخالف تحریکوں سے جوڑ کر دیکھا گیا۔
دوسری طرف مخالف رائے رکھنے والے بھی اپنے اپنے مفاہیم کی توپیں لے کر میدانِ کارزار میں اتر آئے۔ کالم اور کالم نگار دونوں کو غیر اہم، ناپختہ اور غیر سنجیدہ قرار دیا گیا۔ اس کی عبارت، ساخت اور فکری ربط پر تنقید کے گولے برسائے گئے۔امریکہ میں مقیم کالم نگار کو بیرونِ ملک بیٹھ کر ریاست مخالف بیانیہ تشکیل دینے والے سمندر پار گروہوں سے جوڑنے کی کوشش بھی کی گئی۔دونوں جانب سے اس کالم کو اس شدت سے نشانہ بنایا گیا کہ اس کی شہرت واقعی آسمانوں کو چھونے لگی۔
حقیقت یہ ہے کہ بلاوجہ کے ردِعمل نے ایک عام تحریر کو بلا بنا دیا۔
اگر اس کالم کو سنجیدگی سے نظر انداز کر دیا جاتا، خاموشی سے گزر جانے دیا جاتا، تو یہ تحریر شاید چند دنوں میں نظروں اور یادوں سے اوجھل ہو جاتی۔
مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب تک ہم سوئے ہوئے سانپ کو چھیڑ نہ لیں، خاموش تالاب میں سنگ باری کر کے تماشہ نہ لگائیں، ہمیں قرار نہیں آتا۔
ہم من حیث القوم پانی میں مدھانی ڈال کر گھمانے کے عادی ہیں۔
ہمیں نتیجے سے زیادہ فضول مشق، شور اور وقت کے ضیاع میں مزہ آتا ہے۔
ہر شب ہم خیالوں میں انقلاب کا منظر دیکھ کر سوتے ہیں، موجودہ نظام بدل کر اپنی من مرضی کا نظام قائم کر لیتے ہیں۔
اپنی امیدوں اور خواہشوں کے چراغ روشن رکھنے کے لیے ہم ہر اس تحریر کا سہارا لیتے ہیں جو موجودہ نظام کے خلاف ہو اور ہمارے سیاسی نظریات سے میل کھاتی ہو۔ زیرِ بحث کالم بھی اسی نفسیاتی کیفیت کا شاخسانہ ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ جب بات مارچنگ کالم سے تحریری کالم تک آ جائے،
جب جدوجہد عملی سے لفظی ہو جائے،
اور جب سیاست مثبت تعمیر سے منفی انتشار کی طرف مڑ جائے۔
تو سمجھ لیجیے کہ نظام کے لیے نہیں، بلکہ نام نہاد انقلابی سوچ کے لیے واقعی Its Over ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں