بلاشبہ سال 2025ء پاکستان کی سیاسی، عسکری اور سفارتی تاریخ میں ایک فیصلہ کن اور تاریخ ساز سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ سال ہے جس نے مایوسی کو امید، کمزوری کے تاثر کو اعتماد، اور سفارتی تنہائی کو عالمی اہمیت میں بدل کر رکھ دیا۔مئی 2025ء سے قبل پاکستان کو عالمی برادری میں ایک غیر مثر اور کمزور ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ داخلی سیاسی عدم استحکام، معاشی ابتری اور بگڑتے ہوئے خارجی تعلقات نے ریاست کو ایک ہمہ گیر بحران میں مبتلا کر رکھا تھا۔ سیاسی کشمکش کی آندھی نے ریاستی نظم و نسق کو متزلزل کر دیا تھا۔ قومی اتحاد و یکجہتی کمزور پڑ چکی تھی، جبکہ معیشت کی کشتی مشکلات کے گرداب میں ہچکولے کھا رہی تھی۔مایوسی، خوف اور غیر یقینی کیفیت نے عوام کو ذہنی طور پر منتشر کر دیا تھا۔ گہری سیاسی تقسیم نے نفرت اور دشمنی کو جنم دیا۔ وطن پرستی پر شخصیت پرستی غالب آ چکی تھی۔ قومی مفاد کے بجائے ذاتی اور گروہی مفادات کو فوقیت دی جا رہی تھی۔ اقتدار کی خواہش میں ریاستی اداروں کو متنازع بنانے کی منظم کوششیں کی گئیں۔ ایک تنگ نظر اور عاقبت نااندیش گروہ نے سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے سلامتی کے اداروں، بالخصوص افواجِ پاکستان، کے خلاف زہر آلود مہم شروع کی۔
سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز سے مسلسل جھوٹ، آدھے سچ اور گمراہ کن بیانیے پھیلائے گئے۔ نئی نسل کے اذہان میں نفرت اور اشتعال کا بارود بھرا گیا۔ سبز باغ دکھا کر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔اسی ذہنی انتشار اور غلط فہمیوں کے بطن سے نو مئی جیسے افسوس ناک واقعات نے جنم لیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے، شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی ایسا سانحہ جس کی مثال ہماری قومی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس نازک مرحلے پر ریاست اور عسکری قیادت نے غیر معمولی تدبر، تحمل اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ طاقت کے اندھے استعمال کے بجائے صبر اور قانون کی بالادستی کو ترجیح دے کر ایک بڑے سانحے اور ممکنہ خونریزی کو روکا گیا۔ قیادت بخوبی جانتی تھی کہ سڑکوں پر نکلنے والوں کی اکثریت گمراہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جنہیں اقتدار کے پجاریوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اسی لئے بندوق کے بجائے برداشت کا راستہ اختیار کیا گیا۔ حالات پر قابو پانے کے بعد قانون حرکت میں آیا اور ریاست دشمن عناصر کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا۔اس دوران بیرونِ ملک بیٹھے کرداروں نے سوشل میڈیا پر پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف منظم مہم تیز کر دی۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ عوام اور فوج کے درمیان خلیج پیدا ہو چکی ہے اور آئندہ کسی بڑے چیلنج کی صورت میں افواجِ پاکستان کو قومی حمایت حاصل نہیں رہے گی۔ یہی وہ سنگین غلط فہمی تھی جس کا سب سے بڑا شکار ہمارا ازلی دشمن بھارت بنا۔بھارت نے اس فضاء کو پاکستان پر جارحیت کے لیے سازگار سمجھا۔ منصوبہ بندی کے تحت پہلگام فالس فلیگ آپریشن رچایا گیا اور اس کا الزام پاکستان پر عائد کر کے جنگی جواز پیدا کیا گیا۔ مئی 2025ء میں بھارت نے بلا اشتعال پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت پر حملہ کیا۔ شہری آبادی، مساجد اور مدارس کو نشانہ بنایا گیا اور معصوم جانیں ضائع ہوئیں۔پاکستان نے اپنے دفاعی حق کو استعمال کرتے ہوئے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ اس کے ہوش اڑ گئے۔ چند ہی گھنٹوں میں سرحد کے طول و عرض میں موجود بھارتی فوجی تنصیبات تباہ کر دی گئیں۔ فضا میں اس کے جنگی جہاز مار گرائے گئے۔ سیٹلائٹ، سائبر اور برقی نظام مفلوج ہو گئے۔ تباہی کے مناظر بھارت کے لیے قیامت کا سماں تھے۔ بالآخر بے بسی کے عالم میں اسے عالمی طاقتوں، بالخصوص امریکی صدر، کے ذریعے جنگ بندی کی درخواست کرنا پڑی۔اللہ تعالی کے فضل و کرم سے پاکستان نے چھ گنا بڑے دشمن کو عبرتناک شکست دی۔ اس فتح نے نہ صرف عسکری میدان میں پاکستان کی برتری ثابت کی بلکہ اس کے جیوپولیٹیکل قد کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔
دنیا حیران رہ گئی۔ امریکہ جیسی سپر پاور نے پاکستان کو اپنی سیکورٹی اسٹریٹجی میں مرکزی اہمیت دی۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل کو وائٹ ہاس مدعو کیا گیا اور غیر معمولی پروٹوکول دیا گیاجو عالمی اعتماد کا واضح اظہار تھا۔جنگی کامیابی کے بعد سفارتی محاذ پر بھی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ طے پایا۔ مسلم دنیا میں پاکستان کو ایک قائدانہ حیثیت حاصل ہوئی۔ لیبیا، مصر، اردن، وسطیٰ ایشیاء، ملائیشیاء اور انڈونیشیاء سمیت متعدد ممالک کے اعلی سطحی وفود نے پاکستان کا دورہ کیا اور دفاع، تجارت اور تعاون کے نئے در وا ہوئے۔ یورپ اور برطانیہ نے ویزا پالیسی میں نرمی کی، جبکہ پی آئی اے کی براہِ راست پروازوں کی بحالی نے عالمی اعتماد کو مزید تقویت دی۔افغانستان کے محاذ پر بھی پاکستان نے اپنی عسکری صلاحیت کا واضح اظہار کیا۔ دہشت گردی کے بپھرے ہوئے عفریت کو بڑی حد تک قابو میں کیا گیا۔ اگرچہ اس سال قیمتی جانوں کی غیر معمولی قربانیاں دینا پڑیں، مگر ریاست نے اپنی سمت درست کر لی۔ بہتر معاشی پالیسیوں کے ذریعے معیشت کی ڈولتی کشتی کو سنبھالا گیا۔یوں سال 2025ء پاکستان کے لیے دفاعی استحکام، سفارتی وقار اور معاشی بحالی کی بنیاد رکھ گیا۔ یہ سال اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اگر قومی اتحاد برقرار رکھا جائے، اداروں پر اعتماد کیا جائے اور ذاتی مفاد کے بجائے قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے تو پاکستان نہ صرف بحرانوں سے نکل سکتا ہے بلکہ عروج کی نئی داستان بھی رقم کر سکتا ہے۔اب ضرورت صرف اس عزم کو برقرار رکھنے کی ہے۔ تھوڑی سی مزید محنت، یکسوئی اور قومی ہم آہنگی کے ساتھ، ان شا اللہ آنے والا سال پاکستان کی اڑان کو مزید بلند کرے گا۔