Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سفارتی کمال : تباہی کے سائے میں پاکستان کی روشنی

دنیا اس وقت جس بے یقینی، خوف اور اضطراب کے دور سے گزر رہی ہے، اس کی مثال حالیہ تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ عالمی معیشت کے ستون لرز رہے تھے، مواصلاتی نظام دباؤ کا شکار تھا، سینکڑوں پروازیں معطل ہوچکی تھیں، تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں اور سرمایہ کاری کے دروازے بند ہوتے جا رہے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ انسان نے اپنی مادی خواہشات، طاقت کے خمار اور بالادستی کی اندھی دوڑ میں خود کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔طاقت کے توازن میں تبدیلی کی آہٹ واضح سنائی دے رہی تھی۔ بڑی طاقتوں کے درمیان عالمی بالادستی کی جنگ نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کو بےمعنی کر دیا بلکہ اخلاقیات اور انسانیت بھی اس کشمکش کی بھینٹ چڑھتی نظر آئی۔ اس ماحول میں امریکہ کی پالیسیوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت نے دنیا بھر میں بے چینی کی نئی لہر پیدا کر دی۔ٹرمپ کی ’’امریکہ فرسٹ پالیسی‘‘، جسے ’’میک امریکہ گریٹ اگین‘‘ کے نعرے سے تقویت دی گئی، بظاہر ایک داخلی سیاسی حکمت عملی تھی، مگر اس کے اثرات عالمی سطح پر نہایت گہرے اور خطرناک ثابت ہوئے۔ امیگریشن سے لے کر تجارتی محصولات، گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش سے لے کر کینیڈا کو امریکہ میں ضم کرنے جیسے بیانات تک، ہر قدم عالمی نظام کے پرامن توازن کو بگاڑنے کا باعث بنا۔مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی کشیدگی اپنے عروج پر تھی، مگر ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے حالات کو دھماکہ خیز بنا دیا۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملے نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو جنگ کےدہانے پرلا کھڑا کیا۔ اندازہ یہ تھا کہ ایران چند دنوں کے دباؤ میں آ کر ہتھیار ڈال دےگامگر یہ اندازہ یکسر غلط ثابت ہوا۔ایران نے نہ صرف بھرپور مزاحمت کی بلکہ اپنی عسکری صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ آبنائے ہرمز جو عالمی معیشت کی شہ رگ ہے اس کشیدگی کے باعث خطرے میں آ گئی۔ تیل کی ترسیل متاثر ہونے لگی، عالمی منڈیاں لرز گئیں اور دنیا بھر میں معاشی بحران کے بادل گہرے ہونے لگے۔ایسے نازک اور خطرناک وقت میں دنیا کو ایک ایسے کردار کی ضرورت تھی جو نہ صرف حالات کی سنگینی کو سمجھ سکے بلکہ فریقین کے درمیان اعتماد کا پل بھی بن سکے۔ یہ کردار پاکستان نے ادا کیا۔پاکستان نے نہایت خاموش مگر مؤثر سفارتکاری کے ذریعے وہ کام کر دکھایا جسے بظاہر ناممکن سمجھا جا رہا تھا۔ بیک ڈور چینلز کے ذریعے وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور عسکری قیادت نے شبانہ روز کوششیں جاری رکھیں۔ یہ ایک ایسا مرحلہ تھا جہاں ایک معمولی غلطی بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی تھی مگر پاکستان نے نہایت حکمت، صبر اور تدبر کا مظاہرہ کیا۔بالآخر وہ لمحہ آیا جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا۔ یہ صرف ایک سیز فائر نہیں تھا بلکہ ایک عالمی سانحے کو ٹالنے کا لمحہ تھا۔ لاکھوں انسانی جانیں بچ گئیں، عالمی معیشت کو سنبھلنے کا موقع ملا اور دنیا ایک بڑی تباہی سے محفوظ ہو گئی۔پاکستان کی یہ کامیابی محض سفارتی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی کامیابی بھی ہے۔ اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ دانش، صبر اور حکمت سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور قابل اعتماد ریاست کے طور پر منوایا ہے۔یہ سفارتی کامیابی پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ایک نئی پہچان کا باعث بنی ہے۔ اب دنیا پاکستان کو صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ عالمی امن کے ضامن کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو برسوں کی قربانیوں، جدوجہد اور استقامت کے بعد حاصل ہوا ہے،جنگ کی تباہی کے گہرے ہوتے مہیب سائے میں پاکستان شمع امن بن کر ابھرا ہے ۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بیرونی محاذ پر کامیابی کے ساتھ ساتھ اندرونی استحکام بھی ناگزیر ہے۔ دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی چیلنجز جیسے مسائل کو حل کیے بغیر یہ کامیابیاں دیرپا ثابت نہیں ہو سکتیں۔ امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ ہم داخلی سطح پر بھی اتحاد، استحکام اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اس کامیابی کو سراہیں، اپنی قیادت پر اعتماد کریں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیےمتحد ہو جائیں۔بلاشبہ، یہ تاریخ کا وہ لمحہ ہے جب پاکستان نے دنیا کو تباہی کےدہانےسے واپس کھینچ لیا اور یہی وہ کردار ہے جو قوموں کو عظمت بخشتا ہے۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد

یہ بھی پڑھیں