Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

بقاء اور انا کی جنگ

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف عالمی سپر پاور ہے جس کے پاس بے پناہ عسکری طاقت، مضبوط معیشت اور عالمی اثر و رسوخ ہے، جبکہ دوسری جانب ایک قدیم تہذیب کا وارث ملک ہے جو معاشی دبائو، سفارتی تنہائی اور پابندیوں کے باوجود اپنے وجود اور نظریے کے تحفظ کے لیے برسرِ پیکار ہے۔ یہ محض دو ریاستوں کا تصادم نہیں، بلکہ یہ انا اور بقا کی وہ جنگ ہے جو نصف صدی سے مختلف شکلوں میں جاری ہے۔امریکہ اور اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے آئے ہیں۔ ماضی میں جن ممالک کو ایکسز آف ایول قرار دیا گیا، ان میں عراق، شام اور ایران شامل تھے۔ وقت نے دیکھا کہ عراق اور شام کو مختلف حکمت عملیوں کے ذریعے کمزور کر کے غیر موثر بنا دیا گیا، جبکہ ایران اب بھی اپنی مزاحمتی صلاحیت کے باعث ایک مضبوط چیلنج کے طور پر موجود ہے۔ ایک وسیع تر تزویراتی منصوبے کے تحت ان ممالک کو غیر مستحکم کرنا اور بالآخر اپنے زیر اثر لانا ایک دیرینہ ہدف رہا ہے۔حالیہ کشیدگی میں جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر دبائو بڑھایا تو یہ خیال کیا گیا کہ کمزور معیشت اور پابندیوں میں جکڑا ایران زیادہ دیر مزاحمت نہیں کر سکے گا۔ مگر یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔ شدید میزائل حملوں، اہم عسکری و روحانی شخصیات کی شہادتوں اور مسلسل دبائو کے باوجود ایران نے نہ صرف اپنی مزاحمت برقرار رکھی بلکہ بھرپور جوابی کارروائیاں کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔
امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا اور جدید دفاعی نظاموں کو چیلنج کرنا اس بات کا ثبوت تھا کہ یہ جنگ یکطرفہ نہیں رہی۔یہاں سے صورتحال ایک پیچیدہ موڑ اختیار کر گئی۔ ایک طرف امریکہ اپنی عالمی برتری اور ساکھ کو بچانے کے دبائو میں ہے، جبکہ دوسری طرف ایران ہر قیمت پر اپنے وجود اور نظرئیے کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یوں یہ تصادم صرف عسکری نہیں رہا بلکہ نفسیاتی، سیاسی اور نظریاتی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہیایک طرف انا، دوسری طرف بقا۔آبنائے ہرمز کی بندش نے اس کشیدگی کو عالمی بحران میں بدل دیا۔ چند ہفتوں کی رکاوٹ نے عالمی توانائی کی ترسیل کو شدید متاثر کیا اور تیل کی قیمتوں میں بے یقینی پیدا کر دی۔ ایران نے اسے ایک موثر دبائو کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، مگر امریکہ نے براہِ راست تصادم کے بجائے بالواسطہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے عمان کی سمت سے سمندری راستوں پر کنٹرول بڑھا دیا اور ایرانی بندرگاہوں کو عملی طور پر محدود کر دیا۔ اس چال نے ایران کی برتری کو جزوی طور پر بے اثر کر دیا اور دونوں فریق ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئے۔اس ساری صورتحال میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور قابلِ ذکر ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان نے نہ صرف حالات کی سنگینی کو بھانپا بلکہ فوری سفارتی اقدامات کرتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان فائر بندی ممکن بنائی۔ اسلام آباد میں مذاکرات کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا، جو اگرچہ فوری نتائج نہ دے سکا، تاہم ایک مثبت آغاز ضرور ثابت ہوا۔پاکستان کی اس کوشش کے پیچھے محض خیر سگالی نہیں بلکہ ٹھوس قومی مفادات بھی کارفرما ہیں۔ سب سے پہلے جغرافیائی حقیقت ہیایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور کسی بھی قسم کی بدامنی کے اثرات براہِ راست پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں۔ دوسرا اہم پہلو مذہبی و سماجی ہے، کیونکہ ایران میں عدم استحکام کے اثرات پاکستان کے داخلی ماحول پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
تیسرا پہلو توانائی کا ہے، جہاں پاکستان کی بڑی ضروریات خلیجی خطے سے وابستہ ہیں اور آبنائے ہرمز کی بندش براہِ راست معاشی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ چوتھا اور اہم پہلو سیکورٹی کا ہے، کیونکہ سرحدی عدم استحکام دہشت گردی کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔اگرچہ حالیہ اطلاعات کے مطابق دونوں فریق ایک بار پھر مذاکرات کی جانب مائل دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے سخت موقف اس عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ایران خود کو مضبوط پوزیشن میں سمجھتا ہے، جبکہ امریکہ یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ اس نے اپنے مقاصد کا بڑا حصہ حاصل کر لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی صلاحیتوں اور ارادوں کا مکمل ادراک کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث یہ کشمکش طول پکڑ رہی ہے۔دنیا اس وقت ایک نازک توازن پر کھڑی ہے۔ اگر یہ تصادم مزید بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑے بحران، حتی کہ تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بھی بن سکتے ہیں۔ ایسے میں دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ تمام فریق جذبات کے بجائے عقل و تدبر سے کام لیں۔ابھی جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، ٹی وی اسکرین پر خبریں چل رہی ہیں کہ ایرانی وزیر خارجہ کی سربراہی میں ایک وفد آج رات اسلام آباد پہنچنے والا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسبتھ کی پریس کانفرنس سے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکی وفد بھی اسلام آباد آنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت اگرچہ نازک ہے مگر امید کی ایک نئی کرن بھی ہے۔پاکستان کی جاری سفارتی کوششیں اسی امید کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش ہیں۔ اگر یہ کاوشیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف ایک ممکنہ تباہی ٹل سکتی ہے بلکہ خطے میں استحکام کی نئی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر، انا کی یہ جنگ بقا ء کی تمام امیدوں کو نگل سکتی ہیاور تاریخ ایک بار پھر انسان کی نادانی پر نوحہ کناں نظر آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں