Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

لمحہ فکر اختلاف سے نفرت تک کا سفر

پیارے پاکستانیو!تھوڑا وقت نکالیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا سے باہر آئیں۔ دل و دماغ سے سیاسی، نظریاتی اور مذہبی اختلافات کو ایک طرف رکھ دیں۔ آنکھوں سے تعصب اور تفریق کا چشمہ اتاریں۔ اپنے گرد و نواح کا جائزہ لیں۔ گھر کے در و دیوار پر نظر دوڑائیں۔ عمر شعور سے آج تک گزرے وقت اور واقعات کی تصویر ذہن میں لائیں۔ اپنی زندگی کے نشیب و فراز کی کہانی یاد کریں۔سوچیں کہ آپ نے پاکستان کی ترقی اور بہتری میں کیا حصہ ڈالا، اور پاکستان نے آپ کو کیا دیا۔ ایک بیلنس شیٹ بنائیں۔ مجھے یقین ہے کہ مثبت سوچ کے در وا ہوں گے اور منفی خیالات کا دھواں تحلیل ہو جائے گا۔افسوس کہ ہم نے خود احتسابی کی اس مشق کو کبھی آزمایا ہی نہیں۔ اپنی ذات کے گریبان میں کبھی جھانکا ہی نہیں۔ حتیٰ کہ کسی دوست یا دشمن کے متعلق کسی خبر کی حقیقت جاننے کی زحمت بھی نہیں کرتے، جس کے باعث ہماری تحقیقی اور تجزیاتی صلاحیتیں منجمد ہو چکی ہیں۔ ذہن خشک صحرا میں بدلتے جا رہے ہیں، اور اسی وجہ سے بھیڑ چال کا رواج تیزی سے پھیل رہا ہے۔اکثریت لکیر کے فقیر والی کیفیت میں مبتلا ہوتی جا رہی ہے، جو بے لچک رویوں، انتہا پسندی اور کلٹ کلچر کو فروغ دے رہی ہے۔رشتوں کا خوبصورت احساس لرز رہا ہے۔ سیاسی اور نظریاتی تفریق نے خونی رشتوں کا لحاظ ختم کر دیا ہے۔ استاد اور شاگرد کے عظیم تعلق کی چولیں ہلا دی ہیں۔ بچپن کے جگری دوستوں کے دلوں میں وسوسے بھر دئیے ہیں۔ خاندان، محلوں اور سماجی محافل میں مخالف سوچ رکھنے والوں کو یا تو نظر انداز کیا جاتا ہے یا سرد مہری سے پیش آیا جاتا ہے۔ہم خیال لوگوں کی ہاں میں ہاں ملا کر دیرینہ دوستوں تک کی دل آزاری کر دی جاتی ہے۔ ایسے رویوں اور اندازِ تکلم سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بعض لوگوں کی ساری محبت ایک ہی نقطے میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔اب اس کے لئے دنیا بھی وہی نقطہ ہے اور دین بھی وہی۔ اس کا ایمان اور پاکستان بھی اسی ایک نقطے کے گرد گھومتا ہے۔
ترجیحات تاش کے پتوں کی طرح اوپر تلے ہو چکی ہیں، یہاں تک کہ ذاتی اور ریاستی مفاد کے درمیان لکیر بھی دھندلا گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ افراد کو اداروں سے اہم اور ریاست سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں۔ یاد رکھیے، یہ نظریاتی نہیں بلکہ نفسیاتی مسئلہ ہے۔ کوئی صحت مند ذہن اور محبِ وطن دل اپنے ملک کے نقصان پر خوش نہیں ہو سکتا۔ سیاسی اختلافات کے باوجود اپنے مخالف کی خوشی اور غمی میں شریک ہونا ہی انسانیت ہے۔ جہاں اختلافات زیادہ گہرے بھی ہوں، وہاں کم از کم غم کے موقع پر رسمِ دنیا ہی نبھا لی جاتی ہے۔لیکن آج سوچ کی ایک ایسی فصل تیار ہو چکی ہے جس نے وطنیت کے پانیوں میں مسلسل کنکریاں پھینک پھینک کر طلاطم برپا کر رکھا ہے۔ ملک کو ہونے والے نقصان کی انہیں چنداں پرواہ نہیں۔ معیشت کی پہلے سے ڈولتی ہوئی نا منجدھار میں ہے اور یہ اسے ڈبونے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ سمندر پار آسودہ زندگی گزارنے والے ان کے ہم رکاب پاکستان کی سفارتی اور معاشی بحالی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے شب و روز سرگرم ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں بھی شخصیت پرستی، اندھی وابستگی اور گروہی تعصب کے رجحانات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ بعض لوگ سیاسی وابستگی کو عقل، دلیل، قومی مفاد اور سماجی ہم آہنگی پر فوقیت دینے لگے ہیں۔ جب کسی فرد، جماعت یا نظریے کی حمایت اس حد تک بڑھ جائے کہ حقائق، اخلاقیات اور قومی مفاد بھی ثانوی حیثیت اختیار کر جائیں تو معاشرے میں برداشت، مکالمے اور تنقیدی سوچ کی گنجائش کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ نتیجتا اختلافِ رائے دشمنی میں اور سیاسی وابستگی نفرت میں تبدیل ہونے لگتی ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لئے ایک خطرناک علامت ہے۔ایک طرف جھوٹی خبروں اور زہر آلود پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کو اپنی ریاست اور اداروں کے خلاف اکساتے ہیں، اور دوسری طرف دشمن ممالک کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ انہیں نہ اس خطرناک روش کے نتائج کا احساس ہے اور نہ پرواہ۔ اگر یہ نفسیاتی مسئلہ نہیں تو پھر اور کیا ہے؟سیاست کا بنیادی مقصد ریاست کی بہتری، استحکام اور ہر قسم کے خطرات سے تحفظ کی پالیسی مرتب کرنا ہوتا ہے۔ جس سیاست میں یہ دو عناصر غائب ہو جائیں، وہ مخاصمت اور وطن دشمنی کا روپ دھار لیتی ہے۔کوئی ذی شعور اور محبِ وطن شہری ذاتی مفادات یا سیاسی نظریات کی خاطر ملکی تحفظ اور امن کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اگر کبھی ایسا کرنے کا سوچے بھی، تو وطنی محبت کا جذبہ اسے روک لیتا ہے۔ بدقسمتی سے جو اس عظیم جذبے سے محروم ہوتے ہیں، وہ اپنے قول و فعل سے پہچانے جاتے ہیں۔گزشتہ چند برسوں میں ہمارے بہت سے سمجھدار اور وطن سے محبت کرنے والے بہن بھائی بھی اس نفسیاتی مرض کا شکار ہو چکے ہیں۔ اکثریت کو غلط فہمیوں اور کم علمی نے اس نہج تک پہنچایا، جبکہ ایک مخصوص طبقہ جذباتی سحر اور اندھی وابستگی کی گرفت میں آ گیا۔ان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس نے ریاست مخالف بیانیے کا باقاعدہ سپر اسٹور کھول رکھا ہے۔ جتنا زیادہ مصالحہ لگا کر وہ جھوٹی کہانیاں بیچے گا، اتنے ہی زیادہ ڈالرز اسے یوٹیوب اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز سے ملیں گے۔
ہزاروں میل دور بیٹھ کر وہ ایسی ایسی راز کی باتیں بتاتے ہیں جن کا علم یہاں متعلقہ اداروں میں موجود لوگوں کو بھی نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کی ون ٹو ون ملاقاتوں کی اندرونی گفتگو بھی اس انداز میں بیان کرتے ہیں جیسے وہ خود وہاں موجود تھے۔ ظاہر ہے، کوئی بیدار مغز اور باشعور انسان ایسی باتوں پر یقین نہیں کرے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو لوگ ان لچھے دار قصوں اور خود ساختہ داستانوں کو سچ مان لیتے ہیں، ان سے متاثر ہوتے ہیں، اور انہی کو اپنے دلائل کی بنیاد بناتے ہیں، کیا وہ نفسیاتی الجھن کا شکار نہیں؟اب آتے ہیں اس طبقے کی طرف جو سیاست کی آگ میں جھلس کر شدید ذہنی انتشار کا شکار ہو چکا ہے۔ انہیں ہر طرف اندھیرا، غداری اور سازش نظر آتی ہے۔ نہ پاکستان کی کسی کامیابی پر خوشی ہوتی ہے اور نہ کسی قومی سانحے پر دکھ۔ دونوں صورتوں میں ان کے تعصب اور بغض کے تیر ریاست اور اس کے حساس اداروں کی ساکھ پر ہی برستے رہتے ہیں۔اس کی تازہ مثال کوئٹہ میں مسافر ٹرین پر دہشت گرد حملے کے بعد بعض یوٹیوبرز کے تبصروں سے ملتی ہے۔ مجال ہے کہ انہوں نے اتنے بڑے اندوہناک واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہو، دہشت گردوں کی مذمت کی ہو یا اس میں ملوث عناصر پر دو لفظ کہے ہوں۔ جونہی واقعہ پیش آیا، انہوں نے ریاست اور فوج کے خلاف مورچہ سنبھال لیا۔پھر اپنی زبان سے ایسے منفی، دل آزار اور بے حس تبصرے کیے کہ محسوس ہوتا تھا جیسے شہدا کی لاشیں بھی یہ سن کر کروٹیں لے رہی ہوں کہ ہم نے کن بے وفائوں کے لئے اپنی جانیں قربان کیں۔آپ خود فیصلہ کریں، جو لوگ اپنے ہی شہریوں، عورتوں، بچوں اور سپاہیوں کی شہادت پر افسوس کے بجائے تمسخر اور تضحیک کریں، کیا وہ نفسیاتی بگاڑ کا شکار نہیں؟مجھے خوف ہے کہ اگر یہ ذہنی اور فکری بیماری مزید پھیلی تو ایک بڑی اکثریت اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔ اس لئے ملکی قوانین کے مطابق اس کے تدارک کے لئے جس قدر جلد حکمت عملی بنا لی جائے بہتر ہے ۔ ریاست اور سماج کو مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہو گا ورنہ یاد رہے ہمارے دشمن اس فالٹ لائن کا بھر پور فائدہ اٹھا کر ہمیں کسی بڑے سانحہ سے دوچار کر سکتے ہیں ۔
خدا کرے میری ارض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

یہ بھی پڑھیں