پاکستان اس وقت ایک پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال سےگزررہاہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور اب آزاد جموں و کشمیر ایسے خطے ہیں جو نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے حساس ہیں بلکہ قومی سلامتی کے تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے دشمن بخوبی جانتے ہیں کہ وہ روایتی جنگ میں پاکستان کو آسانی سے نقصان نہیں پہنچا سکتے، اس لئےوہ طویل عرصےسے غیر روایتی جنگ، پراکسی عناصر، دہشت گردی، نفسیاتی مہمات اور داخلی انتشار کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔افواجِ پاکستان اور سیکورٹی ادارے ملک کے دفاع کے لئے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن پاکستان کو اندر سے کمزورکرنےکے لئے ہر ممکن حربہ استعمال کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں قومی یکجہتی اور داخلی استحکام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکے ہیں۔بھارت کی موجودہ قیادت اور اس کے بعض پالیسی سازپاکستان کو علاقائی سطح پردبائو میں لانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ گزشتہ برس کے واقعات نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان روایتی جنگ میں اپنا موثر دفاع کرنےکی بھرپورصلاحیت رکھتا ہے۔یہی وجہ ہےکہ اب غیر روایتی ذرائع، پراکسی گروہوں اوراطلاعاتی جنگ کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔اس پس منظر میں آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ آزاد کشمیر ہمیشہ سے پاکستان کا ایک پرامن اور وفادارخطہ رہا ہے۔ یہاں کےعوام نےہرقومی موقع پرپاکستان کےساتھ اپنی وابستگی اورقربانیوں کاثبوت دیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کو صرف ایک انتظامی اکائی نہیں بلکہ پاکستان کی نظریاتی اور جذباتی سرحد بھی سمجھا جاتا ہے۔گزشتہ دو برسوں کے دوران آزاد کشمیر میں عوامی مسائل کے حوالے سے احتجاجی تحریکیں سامنے آئیں۔
مہنگائی، بجلی کے نرخوں اور دیگر معاشی معاملات پر عوامی مطالبات اٹھائے گئے جنہیں بڑی حد تک حکومت نے تسلیم بھی کیا۔ اس کے باوجود احتجاجی سرگرمیاں وقفے وقفے سے جاری رہیں اوربعض مواقع پرحالات کشیدہ بھی ہوئے۔سڑکوں کی بندش،کاروباری سرگرمیوں کی معطلی اور بعض افسوسناک واقعات نےصورتحال کومزید حساس بنا دیا۔اب جبکہ آزاد کشمیر میں قانون سازاسمبلی کے عام انتخابات قریب ہیں اور انتخابی عمل شروع ہونےجارہا ہے، ایک بارپھراحتجاج کی کال دی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش بھی سامنے آئی،تاہم اطلاعات کےمطابق بات چیت کا عمل مطلوبہ پیش رفت حاصل نہیں کر سکا۔ ایسے وقت میں یہ سوال اہمیت اختیار کرجاتا ہےکہ کیا موجودہ حالات مزید کشیدگی کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ریاستی اداروں کا موقف ہے کہ بعض سرگرمیوں کے پس منظرمیں ایسےعوامل موجودہوسکتےہیں جو قومی مفادات اور کشمیر کاز کے لئے نقصان دہ ثابت ہوں۔ اگرایسی تشویشات واقعی موجودہیں توانکا سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ تاہم کسی بھی جمہوری معاشرے میں الزامات اور شکوک و شبہات کا بہترین جواب شفافیت، قانون اور مکالمے کے ذریعے ہی دیاجاسکتا ہے۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ اختلافِ رائے ہرجمہوری معاشرے کا حصہ ہوتا ہے۔ عوام کو اپنے مسائل اجاگر کرنے اور مطالبات پیش کرنے کا حق حاصل ہےلیکن احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کو ایسے دائرے میں رہناچاہیےجہاں ریاستی نظام، عوامی زندگی اور قومی مفادات متاثر نہ ہوں۔ اسی طرح حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی شکایات کو سنجیدگی سے سنے اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے۔آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کو محض ایک مقامی سیاسی مسئلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ خطہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے بین الاقوامی اہمیت رکھتا ہے اور یہاں پیداہونے والی ہرکشیدگی کو پاکستان مخالف قوتیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام فریقوں کو غیر معمولی تحمل، بردباری اور دوراندیشی کامظاہرہ کرنا ہوگا۔پاکستان پہلےہی متعددسیکیورٹی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں کسی نئے داخلی بحران کی گنجائش نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہےکہ سیاسی قیادت، حکومت،احتجاجی حلقےاورریاستی ادارے سب قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئےمسائل کےحل کی طرف بڑھیں۔ تصادم کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں جبکہ مکالمہ اور افہام و تفہیم دیرپا استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔آج کا تقاضا یہی ہےکہ جذبات کے بجائے دانشمندی سے کام لیا جائے۔ آزاد کشمیر کے عوام، حکومت اور تمام متعلقہ حلقے اس حقیقت کو مدنظر رکھیں کہ قومی اتحاد ہی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر ہم نےاختلافات کوتدبراورمکالمے سے حل کر لیا تو نہ صرف ایک ممکنہ بحران ٹل سکتا ہے بلکہ دشمن کی ان تمام امیدوں پر بھی پانی پھر جائے گا جو پاکستان کے اندر انتشار دیکھنے کے خواب دیکھتےہیں ۔ جس دشمن نے کشمیر کی جنت نظیر وادی میں بد امنی کی آگ بھڑکائی ہےوہ اپنے مہروں کے زریعے اس پر مزید تیل چھڑکنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ سوشل میڈیا کے میدان میں اس نے نفسیاتی اورہائبرڈجنگ کے تمام گھوڑے اتار دیے ہیں ۔ جس سے متاثر ہوکر ہمارے کچھ کم علم اورسیزپاکستان کےخلاف مہم چلا رہے ہیں ۔ دشمن ہماری آپسی غلط فہمیوں اور نفرت انگیز بیانات سے شاد ہو رہا ہے ۔ دشمن کی چالوں کوسمجھو،ایسے قول و فعل سے اجتناب کرو جس سے ہمارا حساس قومی سٹرکچر کمزور ہوتا ہےکیونکہ دشمن آپ کو اندر سے کمزور کر کے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل چاہتا ہےجس عالمی توجہ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی طرف ہونا چاہئے تھا عوامی ایکشن کمیٹی کی انتشارانگیزتقریروں،غیرمنطقی مطالبات اورپرتشدد کارروائیوں نے اسے آزاد کشمیر کی طرف موڑدیا ہے۔اگریہ سلسلہ جاری رہااورشدت اختیارکرلیتا ہے،خانہ جنگی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے ، انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں ، تو کشمیر پر پاکستان کے موقف کو شدید نقصان اور بھارت کو بہت فائدہ ہو گا ۔ اس سے پہلے کہ ہمارا دشمن اور اس کے مہرے اپنی مذموم سازش میں کامیاب ہوں، آو مل کر اس کو باہمی اتحاد، اعتماد اور یکجہتی سے ناکام بنائیں ۔ یہ وقت کاتقاضا اور ہمارا قومی فریضہ بھی ہے کیونکہ:
یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے تم ہو نغمہ خواں اس کے