انسانی تاریخ کا اگر گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ قومیں اور ادارے ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں، وسائل اور توانائیوں کو انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کیا۔ دولت، اقتدار اور شہرت وقتی چیزیں ہیں، مگر انسانوں کے چہروں پر بکھری ہوئی مسکراہٹیں، پیاسے ہونٹوں کی سیرابی، بے آسرا لوگوں کی دعائیں اور مظلوم دلوں کی خوشی وہ سرمایہ ہے جو دنیا میں بھی عزت بخشتا ہے اور آخرت میں بھی نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہی وہ عظیم جذبہ ہے جسے اسلام نے عبادت کا درجہ عطا کیا ہے اور جسے ہمارے اسلاف نے اپنی زندگیوں کا مقصد بنایا۔ قرآنِ کریم انسانوں کو خیر، بھلائی، ایثار اور خدمت کا درس دیتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔ یہی وہ فکر ہے جس نے اسلامی تہذیب کو رفاہ، محبت اور انسان دوستی کی ایسی روشن مثال بنا دیا جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔اسی عظیم اسلامی روایت کو زندہ رکھنے میں ادارہ معارف القرآن اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ مصروفِ عمل ہے۔ یہ ادارہ محض دینی و عصری علوم کی تعلیم، قرآنِ کریم کی اشاعت اور دعوتِ دین تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی خدمت انسانیت کا ایسا درخشاں باب رقم کر رہا ہے، جس کی خوشبو دور دور تک محسوس کی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور مخیر حضرات کے بے لوث تعاون سے ادارہ ملک کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی، رفاہی خدمات اور عوامی فلاح کے بے شمار منصوبے کامیابی سے مکمل کر چکا ہے۔ یہ منصوبے اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ جب نیت خالص ہو، مقصد رضائے الٰہی ہو اور قدم انسانیت کی خدمت کے لئے اٹھیں تو اللہ تعالیٰ راستے آسان فرما دیتے ہیں۔’’پانی‘‘اللہ تعالیٰ کی سب سے عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ قرآنِ کریم نے فرمایا: ’’اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا۔‘‘یہی پانی زندگی کی علامت، زمین کی رونق، کھیتوں کی سرسبزی، گھروں کی خوشحالی اور انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن جب یہی نعمت ناپید ہو جائے تو زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔
میلوں پیدل چل کر پانی لانا، گھنٹوں قطاروں میں کھڑا رہنا، پیاس سے بلکتے بچے، خشک کنویں، بنجر زمینیں اور مویشیوں کی بے بسی ایسے دردناک مناظر ہیں جنہیں صرف وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جو اس آزمائش سے گزرتے ہیں۔ضلع کرک کے علاقے تخت نصرتی کے مکین بھی ایک طویل عرصے سے اسی کربناک صورتحال سے دوچار تھے۔ تقریبا ڈیڑھ سو گھروں پر مشتمل یہ بستی پانی کی شدید قلت کا شکار تھی۔ دو مدارس، دو مساجد، سینکڑوں مرد، خواتین، بچے اور بے زبان مویشی روزانہ پانی کی کمی کی اذیت سہتے تھے۔ زندگی کا ہر دن ایک نئی آزمائش بن چکا تھا۔ عبادت، تعلیم، گھریلو ضروریات، صفائی ستھرائی حتی کہ روزمرہ زندگی کا ہر شعبہ پانی کی قلت سے متاثر تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں پر کرم فرماتے ہیں تو ایسے اسباب پیدا فرما دیتے ہیں جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ادارہ معارف القرآن نے ایک عظیم منصوبے پر کام کا آغازکیا اورتقریبا ایک ہزار فٹ گہری بورنگ کی گئی، پائپ لائن بچھا کر پانی کو گھروں تک پہنچانے کا بندوبست کیا گیا۔یہ منصوبہ ادارہ معارف القرآن کی 132ویں کامیاب خدمت ہے، جو اس بات کا اعلان ہے کہ خدمت کا یہ سفر رکا نہیں بلکہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ ہر مکمل ہونے والا منصوبہ ایک نئی دعا، ایک نئی مسکراہٹ اور ایک نئی کامیابی کی داستان سناتا ہے۔ یہ تعداد صرف ایک عدد نہیں بلکہ سینکڑوں خاندانوں کی دعاں، ہزاروں انسانوں کی خوشیوں اور بے شمار امیدوں کا عنوان ہے۔یقینا ایسے منصوبے صرف مالی وسائل سے مکمل نہیں ہوتے، بلکہ ان کے پیچھے ایمان، اخلاص، قربانی، مسلسل جدوجہد اور انسانیت سے بے لوث محبت کارفرما ہوتی ہے۔ وہ مخیر حضرات جو اپنی کمائی کا ایک حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، وہ کارکنان جو سخت گرمی، دشوار گزار راستوں اور بے شمار مشکلات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں، وہ انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور رضاکار جو دن رات محنت کرتے ہیں، اور وہ افراد جو خاموشی سے دعا کرتے رہتے ہیں، سب اس عظیم کارِ خیر کے برابر کے شریک ہیں۔ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ صدق جاریہ وہ سرمایہ ہے جس کا اجر انسان کی وفات کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ پانی پلانا انہی عظیم اعمال میں سے ایک ہے۔ ایک کنواں، ایک بورنگ، ایک نلکا یا پانی کا ایک منصوبہ نہ جانے کتنی نسلوں کو فائدہ پہنچاتا رہتا ہے، اور ہر پینے والے انسان، ہر وضو کرنے والے نمازی، ہر تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم اور ہر سیراب ہونے والے جانور کے ساتھ ثواب کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس سے بڑھ کر خوش نصیبی اور کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اپنی زندگی میں ایسا کام کر جائے جس کا اجر اس کی دنیا سے رخصتی کے بعد بھی مسلسل بڑھتا رہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کا ہر صاحبِ استطاعت فرد اس عظیم مشن کا حصہ بنے۔ اگر ہر خوشحال انسان ایک ضرورت مند خاندان کی زندگی آسان بنانے کا عزم کر لے، اگر ہر صاحبِ خیر اپنے وسائل میں سے کچھ حصہ انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دے، اگر ہر دل میں دوسروں کے درد کا احساس پیدا ہو جائے، تو یقینا ہمارے معاشرے سے بے شمار محرومیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ پانی، تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات ہر انسان تک پہنچ سکتی ہیں، اور یہی ایک حقیقی اسلامی اور فلاحی معاشرے کی پہچان ہے۔ہم اللہ رب العزت کے حضور دست دعا بلند کرتے ہیں کہ وہ ادارہ معارف القرآن کی تمام دینی، تعلیمی اور رفاہی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اس ادارے کے ذمہ داران، کارکنان، معاونین، مخیر حضرات اور تمام دعا کرنے والوں کی ہر قربانی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، ان کے مال، جان، وقت اور اولاد میں برکتیں عطا فرمائے، اور انہیں دنیا و آخرت کی بے شمار کامیابیوں سے نوازے۔ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا ہے کہ خدمتِ انسانیت کا یہ مبارک سفر اسی جذب اخلاص، محبت اور خیر خواہی کے ساتھ ہمیشہ جاری رہے، مزید پیاسے سیراب ہوں، مزید بستیاں آباد ہوں، مزید چہروں پر مسکراہٹیں بکھریں، اور یہ صدق جاریہ قیامت تک خیر و برکت، رحمت اور اجر کا لازوال ذریعہ بنتا رہے۔آمین یا رب العالمین۔