Search
Close this search box.
جمعرات ,23 جولائی ,2026ء

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کاگمراہ کن بیانیہ

سیاسی تحریکیں اپنے مطالبات سے کم اور اپنے طرزعمل سے زیادہ پہچانی جاتی ہیں۔ اگر کسی سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں لوگوں کی مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھنے لگیں تو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں جاری سیاسی کشیدگی نے بھی یہی سوال سامنے رکھا ہے۔ عوامی حقوق کا مطالبہ اپنی جگہ ،لیکن حقوق کی جدوجہد کی آڑ میں ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات ، گمراہ کن بیانیے اوراشتعال انگیز تقاریر کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ احتجاج جمہوری معاشرے کا حصہ ہےلیکن احتجاج اور افراتفری میں فرق باقی رہنا چاہیے ۔ سیاسی اختلاف اس وقت تک معاشرے کے لیے مفید ہے جب تک وہ مکالمے کا راستہ کھلا رکھے۔ دباؤ، اشتعال اور مسلسل تصادم سیاسی حکمت عملی بن جائیں تو اختلاف اپنی افادیت کھونے لگتا ہے۔ اس صورت میں مسئلہ صرف امن و امان کا نہیں رہتا بلکہ معیشت، تعلیم، سرمایہ کاری، سیاحت اور سماجی اعتماد بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔مسئلہ حقوق نہیں بلکہ حقوق کے نام پرانتشار، بداعتمادی، اشتعال انگیزی اور معمولات زندگی کی معطلی ہے۔
ریاست میں اداروں پر تنقید اور ان سے جواب طلبی جمہوری روایت کا حصہ ہے لیکن بے بنیاد الزامات، اشتعال انگیز بیانیے اور منظم بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کو تنقید نہیں کہا جا سکتا۔ ریاستی اداروں کو مسلسل عوام کے سامنے مشکوک بنانے کی کوشش پورے معاشرے کے اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ادارے کمزور ہوتے ہیں تو اس کاسب سے زیادہ نقصان عام شہری اٹھاتا ہے کیونکہ انصاف، تحفظ اور اجتماعی نظم کا سہارا انہی اداروں سے وابستہ ہے۔یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ عوامی حقوق کے نام پر اختیار کی جانے والی سیاست سے فائدہ کس طبقے کو پہنچ رہا ہے۔ جب بازار بند ہوتے ہیں تو نقصان کسی وزیر یا سیاست دان کو نہیں بلکہ چھوٹے تاجر کو ہوتا ہے۔ سڑکیں بند ہوتی ہیں تو سب سے پہلے متاثر مریض، طالب علم، مزدور اور مسافر ہوتے ہیں۔ سیاحت متاثر ہوتی ہے تو اس کی قیمت وہ خاندان ادا کرتے ہیں جن کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو نظرانداز کرکے عوامی مفاد کی بات مکمل نہیں ہو سکتی۔
سیاسی جماعتوں اور سماجی تحریکوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عوامی مسائل کو اجاگر کریں، حکومتوں سے اختلاف کریں اور اپنی آواز بلند کریں لیکن یہ ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے کہ احتجاج کرتے ہوئے عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر نہ کیا جائے ۔ ریاست اور اداروں کے خلاف زہر نہ اگلا جائے۔ معاشرے میں قانون کا احترام صرف ریاست کی ذمہ داری نہیں بلکہ سیاسی قوتوں کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ قانون اور مکالمے کے دروازے بند کرکے پائیدار حل تلاش نہیں کیے جاسکتے۔عمر کشمیری کی جانب سے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی، عوامی حقوق کی آڑ میں اصل حقائق کو مسخ کرکے اور ریاست اور عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنےکے لئے جو گمراہ کن اور بےبنیاد پروپیگنڈا پیش کررہی ہے،یہ تمام جھوٹے الزامات اور اشتعال انگیز تقاریرآخر کہاں کی عوامی خدمت ہیں یہ تو صریحاً انتشار کی سیاست ہے۔ ریاستی ادارے عوام کے تحفظ، امن اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔عوامی حقوق کے نام پرجس بیانیے کو تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے اس کا حاصل صرف ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی، اشتعال اور مسلسل تصادم ہے لہذا یہ بیانیہ کسی بھی صورت اور کسی بھی سطح پر ناقابل قبول ہے ۔
آزاد کشمیر کی سیاست میں اس دوران ایک مختلف موقف بھی سامنے آیا ہے جس میں امن، قانون کی بالادستی، قومی یکجہتی اور ریاستی استحکام کو بنیادی اہمیت دینے کی بات کی گئی ہے اوروہ موقف یہ ہے کہ عوام کی سب سے بڑی ضرورت مسلسل سیاسی کشیدگی نہیں بلکہ ایسا ماحول ہےجہاں کاروبار بلاخوف چل سکے، تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کام کریں، سرمایہ کاری آئے، سیاحت فروغ پائے اور نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں اور یہ موقف سردار عتیق احمد خان کے حالیہ بیانات کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں امن، قانون کی پاسداری، قومی یکجہتی اور نظریۂ الحاقِ پاکستان کے ساتھ وابستگی پر زور دیا گیا ہے۔ دھیرکوٹ کے عوامی اجتماع میں یہ پیغام نمایاں رہا کہ عوامی طاقت کا استعمال ریاستی استحکام، سماجی ہم آہنگی اور آئینی نظم کو مضبوط بنانے کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے ماحول کی تشکیل کے لیے جس میں تقسیم، نفرت اور بے یقینی بڑھتی چلی جائے۔ کسی بھی سیاسی موقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عام شہری کی ترجیح اس وقت سکون، روزگار اور معمول کی زندگی ہے۔
باشعور معاشرے صرف نعروں سے متاثر نہیں ہوتے۔ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کون سا راستہ انہیں تقسیم کی طرف لےجا رہا ہے اور کون سا اعتماد، استحکام اور اجتماعی مفاد کو مضبوط کر رہا ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن اختلاف کو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ عمرکشمیری کا گمراہ کن بیانیہ عوامی حقوق کی بات نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا ہے،کشمیری عوام باشعور ہیں اور وہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے اصل مقاصد اور اس کے منفی بیانیوں کو پہچان چکے ہیں۔آزاد کشمیر کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ سیاسی درجۂ حرارت میں کمی اور اعتماد کی بحالی ہے۔ اعتماد ہی کی بنیاد پر مضبوط معیشت، بہترحکمرانی، مؤثر ادارے اور پرامن معاشرے قائم ہوتے ہیں۔ اگر اختلافات تصادم میں بدلنے لگیںاوراحتجاج معمولات زندگی کو مفلوج کرنے لگے تو اس کا نقصان کسی ایک جماعت یا حکومت تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری ریاست اور پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اگر کوئی سیاسی راستہ امن، قانون، قومی یکجہتی، روزگار اور معاشی استحکام کو مضبوط کرتا ہے تو وہ عوام کے لیے امید پیدا کرتا ہے اور اگر کسی حکمت عملی کا نتیجہ بند بازار، ویران شاہراہیں، تعطل کا شکار تعلیم، متاثرہ کاروبار اور کمزور ہوتا ہوا سماجی اعتماد ہو تو اس پر دوبارہ غور کرنا سیاسی کمزوری نہیں بلکہ عوام کے ساتھ دیانت کا تقاضا ہے۔
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی عوامی حقوق کے نام پر سیاست سے آزاد کشمیر میں امن، معیشت اور معمولات زندگی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، اس کمیٹی کی احتجاجی سرگرمیوں سے آزاد کشمیر میں کاروبار، تعلیم، سیاحت اور معمولات زندگی سب درہم برہم ہیں۔حقوق کی جدوجہد کا مقصد تو عوام کو سہولت دینا ہونا چاہیےجبکہ صورتحال یہ ہےکہ آزاد کشمیر کے عوام اس وقت شدید معاشی بدحالی اور غیریقینی کا شکار ہیں۔ مکالمے کی جگہ اشتعال، قانون کی جگہ دباؤ اور اصلاح کی جگہ انتشار لے لے تو اسے پرامن تحریک نہیں کہا جا سکتا اور یہی اس کمیٹی کا مقصد اور ایجنڈا ہے جو صاف دکھائی دے رہا ہے۔ایسے سیاسی بیانیےجو عوام کو ایک دوسرے کےمد مقابل لے آئیں انہیں سختی سے رد کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں