Search
Close this search box.
جمعرات ,23 جولائی ,2026ء

بھارت میں علمی آزادی پر سوالات

علم انسانی ترقی کی بنیاد ہے۔ یہ کسی شخص، خاندان یا مذہب کی خصوصی میراث نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹنے سے پتہ چلتا ہے کہ مختلف تہذیبوں نے علم کے خزانوں میں اہم کردار ادا کیا ہے، جن میں مسلمان علماء اور مفکرین کا حصہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ تاہم، جب کسی ملک میں سیاسی طاقت تاریخ اور تعلیم کو اپنے مخصوص بیانیے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ نہ صرف علمی آزادی بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی تشویش کا باعث بن جاتا ہے۔بھارت، جو مختلف سلطنتوں اور حکمرانوں کی طویل تاریخ کا گواہ رہا ہے، آج ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں تعلیمی نصاب، کتابوں اور اداروں پر حکومت کی طرف سے بڑھتے ہوئے کنٹرول کے بارے میں تنقیدی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ 2014 کے بعد، خاص طور پر بی جے پی کی قیادت میں، متعدد اقدامات نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ مسلمانوں سے وابستہ تاریخی روایات اور اداروں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات نصابی تبدیلیوں، اداروں پر قانونی چیلنجز، وظائف کی بندش اور خاص طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں کتابوں کے آڈٹ کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔
سب سے نمایاں مثال این سی ای آر ٹی (NCERT) کی نصابی کتب کی تبدیلیاں ہیں۔ ان تبدیلیوں میں مغل دور، دہلی سلطنت اور مسلم حکمرانوں سے متعلق اہم ابواب کو کم کیا گیا یا ہٹا دیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں تاریخ کو ایک طرفہ بیانیے میں تبدیل کرنے کی کوشش ہیں، جبکہ حکومت انہیں نصاب کو ہموار اور طلباء کے بوجھ کو کم کرنے کا حصہ قرار دیتی ہے۔ 2025 میں کلاس 7 کی سوشل سائنس کی کتاب سے مسلم دور کی بڑی سلطنتوں کا ذکر تقریباً مکمل طور پر غائب کر دیا گیا، جبکہ قدیم ہندوستانی سلطنتوں پر زور دیا گیا۔ یہ تبدیلیاں ہندوتوا کے زیر اثر تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) اور جامعہ ملیہ اسلامیہ (JMI) جیسے اداروں کے اقلیتی کردار کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے اور ان کے انتظامی امور میں مرکزی حکومت کا دخل بڑھایا گیا ہے۔ مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ (MANF) جیسی اسکالرشپ سکیموں کو 2022-23 سے بند کر دیا گیا، جس کا باضابطہ جواز دیگر سکیموں سے اوورلیپ بتایا گیا، مگر ناقدین اسے اقلیتی طلباء کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی محدود کرنے کا اقدام قرار دیتے ہیں۔اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان کی قائم کردہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے 40 میں سے 38 بلاکس کو غیر قانونی تعمیرات کے الزام میں گرانے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ اعظم خان، ان کی اہلیہ اور بیٹا طویل عرصے سے مختلف مقدمات میں جیل میں ہیں۔ ناقدین ان مقدمات کو سیاسی انتقام سمجھتے ہیں، جبکہ حکومت انہیں قانون کی حکمرانی قرار دیتی ہے۔ ایسے واقعات مسلمان طلباء اور اداروں کے حوالے سے عدم اعتماد پیدا کر رہے ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں صورتحال مزید تشویش ناک ہے۔ جولائی 2026 میں حکومتی حکم نامے کے تحت اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور پبلک لائبریریوں میں موجود تمام کتابوں، جرائد، تحقیقی مقالوں، ایم فل اور پی ایچ ڈی تھیسز اور ڈیجیٹل مواد کا جامع آڈٹ شروع کیا گیا ہے۔ مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ ایسا مواد ہٹایا جائے جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی یا بھارت کی خودمختاری کے خلاف ہو۔ البتہ ناقدین اسے کشمیری عوام کی اجتماعی یادداشت، تاریخ اور شناخت کو مٹانے کی مہم قرار دے رہے ہیں۔
بی جے پی رہنما سنیل شرما نے کتاب Personalities & Legends of J&K پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے “اکیڈمک جہاد” قرار دیا۔ کتاب میں سید علی گیلانی، محمد مقبول بٹ اور مسرت عالم بٹ جیسی شخصیات کا ذکر تھا۔ نتیجتاً ناشرین پر چھاپے پڑے، گرفتاریاں ہوئیں اور کتابیں ضبط کی گئیں۔ گزشتہ برس بھی 25 کتابیں، جن میں اے جی نورانی، سمنترا بوس اور اروندھتی رائے کی تصانیف شامل تھیں، پر پابندی لگائی گئی۔ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی کی 668 کتابیں بھی ضبط کی جا چکی ہیں۔عالمی سطح پر اس اقدام کی تنقید ہوئی ہے۔ مصنفہ انورادھا بھسین نے کہا کہ کتابیں بم نہیں ہوتیں، جبکہ ماہر بشریات محمد جنید نے اسے میموری سائیڈ یعنی یادداشت کشی کا نام دیا۔ کشمیری صحافیوں اور کتاب فروشوں میں تشویش ہے کہ اب یہ واضح نہیں رہا کہ کون سی کتاب قابل قبول ہے اور کون سی ممنوع۔ایک اور مثال شری ماتا ویشنو دیوی نارائنا میڈیکل کالج کی ہے، جسے بنیادی سہولیات کی کمی کے الزام میں بند کر دیا گیا۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اصل وجہ مذہبی تنازع تھا کیونکہ میرٹ پر 24 مسلمان طلباء داخل ہوئے تھے، جس پر ہندو تنظیموں نے احتجاج کیا۔یہ اقدامات 5 اگست 2019 کے بعد کشمیر میں آزادی اظہار، تعلیم اور تحقیق پر لگائی جانے والی پابندیوں کی تسلسل ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین انہیں تاریخ کو سیاسی طور پر دوبارہ لکھنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔تاریخ کتابوں سے نکالنے یا لائبریریوں سے ہٹانے سے نہیں بدلتی۔ خیالات کو قید کیا جا سکتا ہے مگر انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت میں طلباء کی جانب سے جاری احتجاج، خاص طور پر جے این یو اور دیگر مقامات پر، اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ نوجوان نسل تعلیم دوست، دور اندیش قیادت چاہتی ہے نہ کہ تقسیم پیدا کرنے والے بیانیوں کو۔
NET پیپر لیک جیسے scandals، طلباء کی خودکشیوں اور تعلیمی اداروں پر دباؤ نے بھارتی معاشرے میں گہری بے چینی پیدا کر دی ہے۔ مودی حکومت کے ناقدین کہتے ہیں کہ ہندوتوا کی سیاست علم کو جرم بنا رہی ہے، جبکہ حامی اسے قومی یکجہتی کی ضمانت قرار دیتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی حکومت تاریخ کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں بدل سکتی۔ مسلمانوں سمیت تمام برادریوں کی شراکت داری بھارت کی تہذیب کا حصہ ہے۔ اگر تعلیم اور تحقیق پر پابندیاں لگتی رہیں تو نہ صرف اقلیتوں بلکہ پورے ملک کی ترقی متاثر ہوگی۔ علم کی روشنی کو کسی بھی صورت دبایا نہیں جا سکتا۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ یادداشتیں زندہ رہتی ہیں، چاہے کتابیں ہٹا دی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں