اکیسویں صدی کاعالمی نظام ایک گہرے اضطراب اورغیریقینی کیفیت سے دوچارہے۔ طاقت کے توازن میں بگاڑ،علاقائی تنازعات کی شدت اوربڑی عالمی قوتوں کے باہمی مفادات کی کشمکش نے بین الاقوا می امن کونازک مرحلے پرلاکھڑا کیا ہے۔ بالخصوص امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سلامتی کے لئے ایک مستقل خطرہ بن چکی ہے۔اس تناظرمیں یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیارکرجاتا ہے کہ ایک نظریاتی ریاست،ایٹمی قوت اورمسلم دنیاکے ایک اہم ملک کی حیثیت سے پاکستان کس نوعیت کا کردار ادا کر سکتا ہے ۔
اس سوال کاایک بامعنی جواب ہمیں علامہ محمد اقبالؒ کی فکرمیں ملتاہے،جو نہ صرف ایک فلسفیانہ نظام ہے بلکہ ایک عملی رہنمائی بھی فراہم کرتاہے کہ کس طرح خصوصاًامریکااورایران جیسے متحارب یامتصادم مفادات رکھنے والے ممالک کے درمیان فکرِاقبال، قرآنی تعلیمات اورپاکستان کی جغرافیائی ونظریاتی حیثیت باہم مل کرعالمی امن کے قیام میں ایک مؤثر کرداراداکرسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں اقبالؒ اکیڈمی نے ایک عالمی سیمینارمیں مختلف ممالک سے اس اہم موضوع پر دانشور وں کودعوت کلام کے لئے مدعو کیااورمجھے بھی اظہار خیال کے لئے یاد کیاگیا۔
یقینایہ وہ اہم لمحہ اورایک ایسی ذمہ داری کا احساس ہے جوایک قوم،ایک ریاست اورپوری انسانیت کے مستقبل سے تعلق رکھتاہے۔ یہ وہ سوال ہے جوہمارے ضمیر،ہماری سیاست، ہماری تہذیب اورہماری عالمی ذمہ داریوں کے دروازے پر دستک دیتاہے۔جب دنیا اضطرا ب کے گرداب میں ہو،جب طاقت کاتوازن بگڑجائے،جب مفادات کی آندھیاں اخلاق کے چراغ گل کرنے لگیں،توایک نظریاتی ریاست پاکستان اپنے فکری ورثے،خصوصا فکرِاقبال ؒکی روشنی میں کیاکردارادا کرسکتی ہے؟ جب دنیاطاقت کے تصادم،سیاسی کشیدگی اورجنگ کے خطرات سے دوچارہوتو ایک نظریاتی ریاست،ایک ایٹمی طاقت اورایک امن پسندقوم کاکردارکیاہوناچاہیے۔ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کس طرح ایک مثبت اورمصالحتی کرداراداکررہاہے خصوصاًامریکااور ایران جیسے اہم ممالک کے درمیان اوراب اس امن معاہدہ کو کامیاب کرنے کے لئے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ موضوع درحقیقت تین عظیم سرچشموں کا سنگم ہے:
ایک طرف قرآنِ حکیم کاابدی پیغامِ امن، دوسری طرف اقبالؒ کافلسفہ خودی وانسانیت ،اورتیسری طرف پاکستان کی تاریخی وجغرافیائی ذمہ داری ہے۔
انسانی تاریخ کامطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جنگیں محض میدانِ کارزارمیں نہیں بلکہ ذہنوں میں جنم لیتی ہیں۔جب فکرمیں تنگی،نظرمیں تعصب،اوردل میں حرص پیداہوتوتلواریں خود بخودبے نیام ہوجاتی ہیں۔ اسلام نے اسی ذہنی وروحانی انحراف کاعلاج پیش کیا۔ قرآنِ حکیم نے امن کومحض ایک سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ قراردیا۔اس نے عدل کوامن کی بنیاداوراحسان کواس کی تکمیل کہا۔اسلامی تصورِامن کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ محض جنگ کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ایک فعال حالت ہیجس میں انصاف، روادار ی، مکالمہ اورباہمی احترام شامل ہیں۔ یہی وہ فکری بنیاد ہے جس پر ایک مہذب عالمی نظام قائم ہو سکتا ہے۔
اسلام نے ہمیشہ امن کوجنگ پر،عدل کوظلم پراورمکالمے کوتصادم پرترجیح دی ہے۔میں نے اپنی گفتگو کا آغازجس قرآنی آیت سے کیا ہے،اس کامعنی بھی یہ ہے کہ جس نے ایک جان کوبچایاگویااس نے پوری انسانیت کوبچایا۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالی فرماتاہے، زیادتی نہ کرو،بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کوپسند نہیں کرتا۔(البقرہ:۱۹۰)
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کااستعمال بھی اخلاقی حدودکاپابندہوناچاہیے۔دنیاکاامن اسی وقت قائم ہوسکتاہے جب ریاستیں اپنی طاقت کوانصاف، ذمہ داری اورانسانیت کے اصولوں کے تابع رکھیں۔اسلام کابنیادی پیغام ہی امن،عدل اوررحمت ہے۔قرآنِ مجیدمیں اللہ تعالی فرماتاہے:
اوراگروہ صلح کی طرف مائل ہوں توتم بھی صلح کی طرف مائل ہوجااوراللہ پربھروسہ رکھو۔(الانفال: ۶۱ )
یہ آیت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اسلام جنگ کومقصدنہیں بلکہ امن کومنزل قراردیتاہے۔طاقت کااصل کمال تصادم میں نہیں بلکہ تنازعات کوحکمت،صبر اورتدبر سے حل کرنے میں ہے۔اسی طرح قرآنِ پاک میں ارشادہے:اورہم نے تمہیں قوموں اورقبیلوں میں اس لیے تقسیم کیاتاکہ تم ایک دوسرے کوپہچانو۔(الحجرات: ۱۳)
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ مختلف قوموں، تہذیبوں اور ممالک کا وجود تصادم کے لئے نہیں بلکہ تعارف، تعاون اور مکالمے کے لئے ہے۔
اگرہم اس قرآنی تصورکوبیسویں صدی کے فکری افق پردیکھیں توہمیں ایک بلند قامت شخصیت نظرآتی ہے اور وہ ہے علامہ محمد اقبالؒ۔اس عظیم مفکرنے اسی قرآنی فکرکواپنی شاعری اورفلسفے کے ذریعے دنیاکے سامنے پیش کیا۔اقبال محض شاعرنہیں تھے،وہ ایک تہذیبی معمار،ایک فکری معالج،اورایک روحانی رہنماتھے۔ان کی فکرمیں ایک عجیب کشش ہے۔وہ دل کوبھی مخاطب کرتی ہے اورعقل کو بھی۔اقبال نے ایک ایسی دنیاکا خواب دیکھاتھاجہاںانسان محض طاقت کاغلام نہ ہوبلکہ اخلاق،علم اورروحانی عظمت کا علمبردارہو۔سب سے پہلے ہمیں علامہ محمد اقبالؒ کی فکرکوسمجھناہوگا۔ اقبالؒ محض ایک شاعرنہیں بلکہ ایک عمیق فلسفی،مصلح اورامتِ مسلمہ کے دردمند رہنماتھے۔ان کی فکرکامرکزی نقطہ انسان کی خودی،اخوتِ انسانی اورامنِ عالم ہے۔اقبالؒ ایک ایسے عالمی نظام کے داعی تھے جہاں طاقت کے بجائے انصاف،مفادکی بجائے اخلاق،اورتصادم کی بجائے مکالمہ غالب ہو۔اقبالؒ کاتصورِ امن محض سیاسی امن نہیں بلکہ ایک ہمہ گیرانسانی ہم آہنگی ہے۔ان کے نزدیک اصل مسئلہ انسان کی اندرونی شکست ہے۔جب انسان اپنی خودی سے غافل ہوجائے،جب وہ اپنی روحانی عظمت کو فراموش کردے،تو وہ دوسروں پرتسلط کواپنی کامیابی سمجھنے لگتاہے۔
(جاری ہے)