Search
Close this search box.
بدھ ,22 جولائی ,2026ء

بگاڑ و بے راہ روی ، زوال کی المناک داستان

(گزشتہ سے پیوستہ)
ہماری روزمرہ زندگی میں وعدہ خلافی بھی عام ہو چکی ہے۔ خاندانی نظام، جو ہماری تہذیب کا سب سے مضبوط ستون تھا، آج مختلف آزمائشوں سے گزر رہا ہے۔ معاشرے میں نمود و نمائش کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کرتے ہیں تاکہ دوسروں پر اپنی دولت یا معیارِ زندگی کا اثر قائم کر سکیں۔ شادی بیاہ کی فضول رسومات، غیر ضروری اخراجات، سوشل میڈیا پر مصنوعی زندگی کی نمائش اور قرض لے کر شان و شوکت کا مظاہرہ ایک ایسی دوڑ بن چکی ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔ اس طرزِ زندگی نے متوسط اور غریب طبقے پر بے جا معاشی دبا بھی بڑھا دیا ہے۔ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ قوموں کی تعمیر صرف حکومتوں کے فیصلوں سے نہیں ہوتی بلکہ گھروں کی تربیت سے ہوتی ہے۔ اگر ایک ماں اپنے بچوں کو سچ بولنا، بزرگوں کا احترام کرنا، محنت کرنا اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا سکھائے، اگر ایک باپ اپنی عملی زندگی سے دیانت اور انصاف کی مثال قائم کرے، اگر استاد علم کے ساتھ کردار بھی عطا کرے، اگر علما اپنے عمل سے دین کی خوبصورتی پیش کریں اور اگر میڈیا سنسنی کے بجائے شعور بیدار کرے تو معاشرے کی اصلاح کا سفر خود بخود شروع ہو جائے گا۔آج ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف مسائل کا رونا نہ روئیں بلکہ ان کے حل کا حصہ بنیں۔ ہم اپنے حصے کا کچرا خود اٹھائیں، ٹریفک قوانین کی پابندی کریں، ٹیکس ایمانداری سے ادا کریں، رشوت دینے اور لینے سے انکار کریں، جھوٹی خبریں پھیلانے سے بچیں، اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت کریں، نماز، قرآن اور دینی تعلیمات سے اپنا تعلق مضبوط کریں، اور ہر اس کام سے اجتناب کریں جس سے معاشرے میں فساد پیدا ہوتا ہو۔ ایک فرد کی چھوٹی سی نیکی بھی معاشرے میں بڑی تبدیلی کا آغاز بن سکتی ہے۔
پاکستان کا مستقبل مایوسی میں نہیں بلکہ امید میں پوشیدہ ہے۔ اس سرزمین نے بڑے بڑے علماء، سائنس دان، ادیب، شاعر، سپاہی، کھلاڑی اور محنتی انسان پیدا کیے ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا۔ اگر آج بھی ہم اپنی اصل شناخت یعنی ایمان، دیانت، محنت، اتحاد، نظم و ضبط اور حسنِ اخلاق کی طرف لوٹ آئیں تو کوئی طاقت پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے نہیں روک سکتی۔ قوموں کے عروج اور زوال کا فیصلہ وسائل نہیں بلکہ کردار کرتا ہے اور جب کردار مضبوط ہو جائے تو کم وسائل بھی عظیم کامیابیوں میں بدل جاتے ہیں۔وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم نفرت کے چراغ بجھا کر محبت کے دیے روشن کریں، بدعنوانی کے دروازے بند کر کے دیانت داری کی راہیں کھولیں، جھوٹ کی جگہ سچ کو، حسد کی جگہ خیرخواہی کو، اور خود غرضی کی جگہ ایثار کو فروغ دیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مہذب، باوقار اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ اگر ہم آج بھی اپنی اصلاح کا آغاز کر لیں تو آنے والی نسلیں ہمیں مایوسی کے نہیں بلکہ امید، تعمیر اور قومی بیداری کے معماروں کے طور پر یاد رکھیں گی۔معاشرے میں جھوٹ، دھوکہ دہی اور فریب بھی خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ کاروبار میں ملاوٹ، ناپ تول میں کمی، جعلی ادویات، جعلی دستاویزات، امتحانات میں نقل، ملازمتوں کے لئے جھوٹے تجربات اور روزمرہ معاملات میں سچ کو چھپا کر ذاتی مفاد حاصل کرنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ جب جھوٹ کو ذہانت اور دھوکے کو کامیابی سمجھ لیا جائے تو اخلاقی اقدار اپنی اہمیت کھو بیٹھتی ہیں۔ اسلام نے سچائی کو نجات اور جھوٹ کو ہلاکت کا راستہ قرار دیا ہے، لیکن بدقسمتی سے آج ہم نے اس تعلیم کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ایک اور افسوس ناک رجحان غیبت، بہتان اور کردار کشی کا فروغ ہے۔ محفلوں، دفاتر، بازاروں اور سوشل میڈیا پر دوسروں کی عزت اچھالنا، بے بنیاد الزامات لگانا اور لوگوں کی نجی زندگیوں کو موضوعِ بحث بنانا عام ہو گیا ہے۔ کسی کی عزت کو مجروح کرنا بظاہر آسان معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات پورے خاندان اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ ایک مہذب قوم دوسروں کی کمزوریاں تلاش کرنے کے بجائے ان کی اصلاح اور حوصلہ افزائی کو اپنا شعار بناتی ہے۔اسی طرح مادہ پرستی اور دولت کی اندھی دوڑ نے بھی ہماری سوچ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہمیں ماحولیات سے متعلق اپنی غفلت کا بھی اعتراف کرنا چاہیے۔ گلیوں، سڑکوں اور دریاں میں کچرا پھینکنا، درختوں کی بے دریغ کٹائی، پانی اور بجلی کا ضیاع، فضائی آلودگی اور صفائی کے اصولوں کو نظر انداز کرنا بھی قومی بے راہ روی کی ایک شکل ہے۔ اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا، مگر ہم نے اپنی بستیوں، بازاروں اور عوامی مقامات کو صاف رکھنے کی ذمہ داری کو فراموش کر دیا ہے۔ناانصافی کے ساتھ ساتھ اقربا پروری اور سفارش کا کلچر بھی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ جب اہل اور باصلاحیت افراد کو نظر انداز کرکے صرف تعلقات یا ذاتی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں تو ادارے کمزور ہوتے ہیں اور نوجوانوں میں احساسِ محرومی بڑھتا ہے۔ یہی احساس بالآخر مایوسی اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔یہ تمام خرابیاں اس بات کی علامت ہیں کہ ہم نے انفرادی مفاد کو اجتماعی خیر پر ترجیح دینا شروع کر دیا ہے۔اگر ہم واقعی ایک مضبوط، باوقار اور خوشحال پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف معاشی ترقی نہیں بلکہ اخلاقی انقلاب کی بھی ضرورت ہے۔ جب تک سچائی، امانت، عدل، رحم، برداشت، اخوت، قانون کی پاسداری اور خوفِ خدا کو اپنی عملی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے، اس وقت تک کوئی بھی اصلاح دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔

یہ بھی پڑھیں