جنگیں صرف انسانوں کے سروں کی فصلیں نہیں کاٹتیں بلکہ تہذیبی رویوں اور ثقافتی اقدار کو بھی ملیا میٹ کر دیتی ہیں ،عوامی اسباب کو بھی بربریت کا نشانہ بناتی ہیں مگر جنگ مارے لوگ جو اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر آئیں اور ان کی زرخیز زمینوں پر کھڑی فصلوں اور ان کی عشروں کی محنت کے باثمر باغات کو اجاڑ دینا وحشت نہیں تو کیا ہے ؟ ۔ کسی شہر کو فتح کرنا آسان ہے، مگر اس کی روح کو زندہ رکھنا دشوار۔ افغانستان کی سرزمین صدیوں سے حملہ آوروں کے قدموں کی دھول بنتی رہی ہے۔ کبھی سکندر، کبھی چنگیز، کبھی برطانوی سامراج، کبھی سوویت افواج، کبھی امریکی مداخلت کی بہیمیت کا شکار رہی ہے ۔ مگر اب داخلی کشمکش کے اس دور بے اماں نے ہر دور کو شکست دے دی ہے ۔ اس دھرتی کے جسم پر ایک نیا زخم ثبت کیا ہے جو آنکھوں میں حیرت سجا دیتا ہے ۔، اپنے ہی ملک کا ایک شہر ہرات پر حکمران فورسز چڑھ دوڑیں اور بعض علاقوں میں انسان نے صرف انسان کو نہیں، بلکہ زندگی کے امکان کو بھی کڑی سزا سے دو چار کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں کھڑی فصلوں کو تباہ کیا گیا، برسوں کی محنت سے پروان چڑھے پھلدار درخت کاٹ دیے گئے، اور کسانوں کے خواب مٹی میں ملا دئیے گئے۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ محض زرعی نقصان نہیں، بلکہ انسانی ضمیر کے خلاف جرم ہے۔ ایک کسان جب بیج بوتا ہے تو وہ صرف اناج نہیں اگاتا، وہ اپنے اور اپنے بچوں کے دلوں میں امید کے دیئے روشن کرتا ہے۔ جب وہ پودے کی آبیاری کرتا ہے تو اپنے بچوں کے مستقبل کو سینچتا ہے۔ جب وہ درخت لگاتا ہے تو دراصل آنے والی نسلوں کے لیے سایہ محفوظ کرتا ہے۔ ایسے درخت کو کاٹ دینا صرف لکڑی کاٹنا نہیں، بلکہ برسوں کی ریاضت، صبر اور امید کو قتل کرنا ہے۔زمین پر سب سے معصوم انسان کسان ہوتا ہے۔ وہ سیاست نہیں جانتا، طاقت کی چالیں نہیں سمجھتا، اسے صرف موسموں کی زبان آتی ہے۔ اس کا تعلق بارش، دھوپ، مٹی اور محنت سے ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بیج وقت مانگتا ہے، پھل صبر مانگتا ہے، اور رزق مسلسل مشقت کا تقاضا کرتا ہے۔ جب اقتدار کی تلوار اس کے کھیت تک پہنچتی ہے تو دراصل تہذیب کا آخری چراغ بھی لرزنے لگتا ہے۔
ہرات ہمیشہ سے افغانستان کا تہذیبی اور زرعی مرکز رہا ہے۔ یہ شہر صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں بلکہ شاعری، علم، دستکاری، باغات اور زرخیز زمینوں کی علامت رہا ہے۔ اس کی انگور کی بیلیں، انار کے باغات، خوبانی اور بادام کے درخت صدیوں سے اس خطے کی شناخت رہے ہیں۔ ان باغوں کو تباہ کرنا گویا تاریخ کے ایک روشن باب کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔جنگ کی سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس میں اکثر وہی لوگ مارے جاتے ہیں جنہوں نے جنگ شروع نہیں کی ہوتی۔ سپاہی مورچوں پر ہوتے ہیں، مگر چرکے عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور کسانوں کو لگتے ہیں۔ بندوق کی گولی سے زیادہ خوفناک وہ فیصلہ ہوتا ہے جو کسی بے گناہ کی روزی چھین لے۔ کھڑی فصل کو آگ لگانا صرف اناج جلانا نہیں، بلکہ بھوک کا راج قائم کرنا ہے ۔قرآن مجید فساد فی الارض کی مذمت کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ جب کوئی زمین میں فساد پھیلاتا ہے تو وہ کھیتی اور نسل دونوں کو تباہ کرتا ہے۔ اس سے بڑی اخلاقی تنبیہ شاید ممکن نہیں کہ کھیت اور انسان دونوں ایک ہی دائر حرمت میں رکھے گئے ہیں۔ جو ہاتھ زمین کو اجاڑتا ہے، وہ دراصل انسانیت کے مستقبل کو برباد کرتا ہے۔تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ فاتحین نے جب بھی درختوں کو نشانہ بنایا، وہ اپنی اخلاقی شکست کا اعلان کر رہے تھے۔ رومی سلطنت ہو یا منگول یلغار، نوآبادیاتی قوتیں ہوں یا جدید جنگیں، فصلوں کو جلانا ہمیشہ خوف کی سیاست کا حصہ رہا ہے۔ کیونکہ جو طاقت انسان کے دل کو فتح نہیں کر سکتی، وہ اس کے کھیت کو جلا دیتی ہے۔ایک درخت صرف لکڑی نہیں ہوتا۔ اس کی جڑوں میں برسوں کی دعائیں ہوتی ہیں۔ اس کی شاخوں پر بچوں کی ہنسی، پرندوں کے گھونسلے، موسموں کی خوشبو اور آنے والے کل کی امید بسی ہوتی ہے۔ جب ایک پھلدار درخت گرتا ہے تو صرف تنے کی آواز نہیں آتی، بلکہ وقت کے کئی برس ایک لمحے میں زمیں بوس ہوجاتے جاتے ہیں۔پھر ہمارے نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تو دوران جنگ سرسبزو شاداب درختوں ،بوڑھوں ،بچوں اور عورتوں کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا تھا۔پھر افغان حکمران جو راسخ العقیدہ مسلمانوں کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں انہیں یہ سب معلوم نہیں ہے ؟اور بی بھی کہ آج دنیا موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی بحران کی بات کر رہی ہے۔
اربوں ڈالر خرچ کر کے جنگلات اگانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اگر کہیں انسان اپنے ہی ہاتھوں اپنی سرسبز زمین کو ویران کر رہا ہے تو یہ پوری انسانیت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ ایک درخت کاٹنے میں چند منٹ لگتے ہیں، مگر اسے پھلدار بننے میں ایک نسل بیت جاتی ہے۔ہرات کے کسان شاید کل پھر اپنے کھیتوں میں جائیں گے۔ وہ پھر مٹی کو چھوئیں گے، پھر بیج بوئیں گے، کیونکہ کسان کی فطرت امید ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا انسان کی سیاست بھی کبھی امید سیکھے گی؟ کیا اقتدار کبھی یہ سمجھ پائے گا کہ بندوق سے حکومت کی جا سکتی ہے، مگر دلوں پر حکمرانی صرف انصاف سے ہوتی ہے؟افغانستان گزشتہ نصف صدی سے مسلسل جنگوں کی زد میں ہے۔ اس دھرتی نے شاید ہی کوئی ایسی نسل دیکھی ہو جس نے مکمل امن میں آنکھ کھولی ہو۔ ایسے معاشرے میں اگر کھیت بھی محفوظ نہ رہیں تو پھر امن کا خواب کس زمین پر اگے گا؟ہرات کا دکھ صرف افغانستان کا دکھ نہیں۔ یہ ہر اس معاشرے کا دکھ ہے جہاں طاقت خود کو قانون سے بالا تر تصور کر لیتی ہے اور جہاں اقتدار انسان کی محنت کو اپنی خواہشات کے تابع سمجھنے لگتا ہے۔ ایسے حالات میں خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے، کیونکہ ظلم صرف وہ نہیں کرتا جو بندوق اٹھاتا ہے، بلکہ وہ بھی ظالم ہے جو ظلم دیکھ کر نظریں چرا لیتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کے تمام ذمہ دار ادارے، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مسلم دنیا کے بااثر حلقے اس قسم کے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کریں۔ اگر بے گناہ کسانوں کی فصلیں اور باغات واقعی تباہ کئے گئے ہیں تو اس کا احتساب ہونا چاہیے، کیونکہ انصاف کے بغیر امن صرف ایک خوش نما لفظ رہ جاتا ہے۔ہرات کے جلتے ہوئے کھیت ہم سب سے سوال کر رہے ہیں، کیا انسان نے ترقی کے اس سفر میں اتنا بھی نہیں سیکھا کہ روٹی اُگانے والے ہاتھوں کو محفوظ رکھنا ہی سب سے بڑی تہذیب ہے؟