Search
Close this search box.
بدھ ,22 جولائی ,2026ء

پینتیس پیسے کی عیاشی

عوام بھی عجیب ہیں۔ حکومت ان کے لئے دن رات ایک کئے رکھتی ہے، نئے نئے منصوبے بناتی ہے، پرانے منصوبوں کے افتتاح کرتی ہے، نئے منصوبوں کا اعلان کرتی ہے، سڑکیں بناتی ہے، پل بناتی ہے، انڈر پاس بناتی ہے، فلائی اوور بناتی ہے، شہروں کو خوبصورت بناتی ہے، صفائی کے دعوے کرتی ہے، بجلی کے بحران پر قابو پانے کے عزم کا اظہار کرتی ہے، مہنگائی کو ختم کرنے کے لئے اجلاس کرتی ہے اور آخر میں پٹرول کی قیمت میں پینتیس پیسے کی کمی بھی کر دیتی ہے، مگر عوام ہیں کہ خوش ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔اب یہ بھی کوئی انصاف ہے؟ اتنے غور و فکر کے بعد حکومت نے پٹرول کی قیمت میں پورے پینتیس پیسے کمی کی ہے اور عوام اس تاریخی ریلیف سے بھی متاثر نہیں ہو رہے۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ واہ کیا سخاوت ہے!کسی نے یہ نہیں کہا کہ حکومت نے تو ہماری زندگی آسان کر دی۔ الٹا لوگ کیلکولیٹر لے کر بیٹھ گئے ہیں کہ پینتیس پیسے سے آخر ہوتا کیا ہے؟یہ عوام بھی نا، ہر چیز کو پیسے میں تولنے لگتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پینتیس پیسے صرف چند پیسے نہیں ہیں۔ ان کے پیچھے ایک پورا فلسفہ ہے۔ ایک وژن ہے۔ ایک معاشی حکمت عملی ہے۔ اس کے لئے یقینا بڑے بڑے اجلاس ہوئے ہوں گے، ماہرین نے سر جوڑے ہوں گے، اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ہوگا، عالمی منڈی کے اتار چڑھائو پر غور ہوا ہوگا، ڈالر کی قدر دیکھی گئی ہوگی اور پھر کہیں جا کر فیصلہ ہوا ہوگا کہ قوم کو پینتیس پیسے کا ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ سو، قوم کو شکر گزار ہونا چاہیے۔ اگر کسی کو پھر بھی شکایت ہے تو وہ ایک لیٹر پٹرول خریدے، پینتیس پیسے بچائے اور انہیں محفوظ کر لے۔ روزانہ ایک لیٹر کے حساب سے سال بھر میں بارہ روپے سے کچھ زیادہ رقم جمع ہو جائے گی۔ یوں ایک سال بعد ایک عام آدمی کے پاس حکومت کے ریلیف کی ایسی خطیر رقم موجود ہوگی جس سے ایک ٹافی تو خریدی جا سکے گی البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس دوران ٹافی کی قیمت نہ بڑھے مگر عوام کو خوشی کہاں نصیب؟ ان کی تو عادت ہی خراب ہو گئی ہے۔
حکومت کوئی سڑک بنائے تو یہ پوچھنے لگتے ہیں کہ کتنے میں بنی۔ کوئی پل بنے تو پوچھتے ہیں کہ منصوبے کی لاگت کیا تھی۔ انڈر پاس بنے تو اس کی افادیت پر سوال اٹھا دیتے ہیں۔ سڑک کے کنارے خوبصورت پودے لگ جائیں تو پوچھتے ہیں کہ پودے کس نے خریدے اور کتنے میں خریدے؟ اور کک بیکس؟ارے بھئی!حکومت نے آپ کے لئے سڑک بنائی ہے، آپ سڑک پر چلیں۔ آپ کو کیا ضرورت پڑی ہے یہ پوچھنے کی کہ سڑک بنانے میں کتنا خرچ آیا؟ سڑک ہموار ہے، گاڑی چل رہی ہے، بس یہی کافی ہے۔ ترقی کو ترقی کی طرح دیکھئے، اس کا حساب کتاب کرنے بیٹھ جائیں گے تو ترقی کا مزہ ہی کرکرا ہو جائے گا اور اگر کہیں سڑک کے کنارے کوئی گڑھا رہ جائے تو اسے بھی فورا تنقید کا موضوع نہ بنائیں۔ ممکن ہے حکومت نے اسے آئندہ ترقی کے لئے محفوظ رکھا ہو۔ آخر ایک ہی منصوبے میں ساری ترقی مکمل کر دینا بھی تو دانشمندی نہیں۔ کچھ کام اگلی حکومتوں کے لئے بھی چھوڑنے چاہئیں۔ پنجاب میں صاف ستھرا پنجاب کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ حکومت نے صفائی کا بیڑا اٹھایا، شہروں کو صاف ستھرا بنانے کا عزم کیا، صفائی کے نظام کو بہتر کرنے کے دعوے کیے مگر عوام پھر بھی مطمئن نہیں۔ اب انہیں صاف سڑکیں نظر آنے کے بجائے صفائی کرنے والے ملازمین نظر آتے ہیں۔کسی کو یہ فکر ہے کہ عملے کو کئی کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں، کوئی پوچھ رہا ہے کہ یہ لوگ اپنے گھروں کا چولہا کیسے جلاتے ہیں، کوئی ان کے احتجاج کی بات کر رہا ہے، کوئی خودکشیوں کا ذکر لے بیٹھتا ہے۔ اب بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی؟ حکومت نے آپ کے لئے صاف ستھرا پنجاب بنایا ہے، آپ صفائی دیکھئے۔ آپ کو صفائی کرنے والے کا پیٹ کیوں دکھائی دیتا ہے؟ آپ کو یہ کیوں یاد رہتا ہے کہ جو ہاتھ شہر کو صاف کرتے ہیں، وہ اپنے بچوں کے لئے دودھ خریدنے کے قابل بھی ہیں یا نہیں؟ عوام کو بھی چاہیے کہ بڑے خواب دیکھیں۔ چھوٹی چھوٹی تکلیفوں کو نظر انداز کریں۔ اگر شہر صاف ہے تو یہ کافی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ صفائی کرنے والا خود بھوکا ہے مگر قومی ترقی میں توکبھی کبھی ایسی قربانیاں دینی پڑتی ہیں اور قربانی تو بھائی صاحب، روئیے کہ پیٹیے دینی آپ نے ہی ہے۔بجلی کے بلوں پربھی عوام ناشکری کا شکار ہیں۔ حکومت نے قوم کو بجلی کی قدر و قیمت سمجھانے کے لئے ایسے بل بھیجے کہ لوگ بجلی آنے سے زیادہ بل آنے سے خوفزدہ ہونے لگے مگر یہ بھی حکومت کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ اگر بجلی کا بل مناسب ہو تو لوگ بجلی کو معمولی چیز سمجھیں گے۔ جب بل دیکھ کر دل بیٹھنے لگے تو انسان کو احساس ہوتا ہے کہ واقعی بجلی بہت قیمتی ہے۔
گیس کے معاملے میں بھی حکومت نے عوام کو ایک خوبصورت سبق دیا ہے۔ گیس آئے یا نہ آئے، بل ضرور آنا چاہیے۔ اس سے عوام میں مستقل مزاجی پیدا ہوتی ہے۔ سردیوں میں گیس نہ ہو تو چولہا نہ جلائیں، لکڑی جلا لیں، سلنڈر استعمال کر لیں یا پھر صبر کریں لیکن بل کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔آخر قومی معیشت بھی تو کوئی چیز ہے اور اب پٹرول۔پٹرول کی قیمتوں کا معاملہ اوگرا کے سپرد کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ یہ بھی ایک بہترین انتظامی حل ہے۔ قیمت بڑھے تو حکومت کہہ سکتی ہے کہ فیصلہ اوگرا نے کیا ہے۔ اوگرا کہہ سکتا ہے کہ عالمی منڈی کے حالات ایسے ہیں۔ عالمی منڈی کہے گی کہ جنگ اور بحران کا اثر ہے۔ ڈالر کہے گا کہ میری قدر کم یا زیادہ ہوئی ہے اور عوام سوچتے رہ جائیں گے کہ آخر ہم سے یہ سب پوچھ کون رہا ہے؟ اگر قیمت کم ہو جائے تو البتہ معاملہ بالکل مختلف ہوگا۔ تب حکومت نہایت خوش دلی سے عوام کو یاد دلائے گی کہ دیکھئے، ہم نے آپ کو ریلیف دیا ہے اور اگر ریلیف پینتیس پیسے کا ہو تو اسے معمولی سمجھنا تو گویا قومی احسان کی سراسر توہین ہے۔عوام کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ حکومت کے پاس جادو کی چھڑی نہیں۔ مہنگائی ہے تو عالمی حالات ہیں۔ بجلی مہنگی ہے تو معیشت کی مجبوری ہے۔ پٹرول مہنگا ہے تو عالمی منڈی کا دبائو ہے۔ ڈالر مہنگا ہے تو بین الاقوامی حالات ہیں۔ روزگار کم ہے تو معاشی بحران ہے لیکن اگر حکومت کسی چیز کی قیمت میں چند پیسے کمی کر دے تو یہ حکومت کی کامیابی ہے۔ یہ منطق اتنی خوبصورت ہے کہ اس پر سوال اٹھانا بھی ناشکری معلوم ہوتا ہے۔ سو اے عوام!خوش ہو جائو۔ پٹرول سستا ہو گیا ہے۔ پورے پینتیس پیسے!یہ پینتیس پیسے آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں۔ آپ کے بجٹ میں انقلاب لا سکتے ہیں۔مہنگائی کے طوفان میں آپ کے لئے امید کی ایک ننھی سی کرن بن سکتے ہیں۔ آپ انہیں سنبھال کر رکھیں۔ انہیں خرچ نہ کریں۔ شاید یہی آپ کی سب سے بڑی قومی خدمت ہو اور اگر آپ روزانہ گاڑی چلاتے ہیں، اگر آپ کے بچوں کو سکول لے جانے کے لئے پٹرول چاہیے، اگر آپ دفتر جاتے ہیں، اگر آپ کاروبار کرتے ہیں، اگر آپ کی آمدنی کا بڑا حصہ سفر اور ایندھن پر خرچ ہوتا ہے، اگر آٹا، دال، سبزی، بجلی، گیس اور مکان کا کرایہ پہلے ہی آپ کی جیب خالی کر چکے ہیں، تب بھی مسکرائیے کیونکہ حکومت نے آپ کو بہرحال ریلیف تو دیا ہے۔ اس ریلیف پر سوال نہ کیجیے۔ یہ مت پوچھیے کہ پٹرول کی قیمت اتنی بڑھی کیوں تھی کہ پینتیس پیسے کی کمی بھی مذاق لگنے لگی۔ یہ بھی مت پوچھیے کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوں تو عوام تک اس کا فائدہ کتنی رفتار سے پہنچتا ہے اور اگر عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں تو اس کا بوجھ کتنی جلدی عوام کی جیب تک پہنچ جاتا ہے۔ بس پینتیس پیسوں کو دیکھئے۔ یہ پینتیس پیسے حکومت کی سخاوت کی علامت ہیں۔ یہ پینتیس پیسے اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کو ریلیف دینے کے لئے حکومت کتنی حساس ہے اور اگر آپ پھر بھی خوش نہیں ہوتے تو پھر قصور حکومت کا نہیں، آپ کی توقعات کا ہے۔آخر حکومت آپ کے لئے اور کیا کرے؟ سڑکیں بنا دی ہیں، پل بنا دیے ہیں، انڈر پاسز بنا دیے ہیں، شہر صاف کرنے کا انتظام کر دیا ہے، بجلی کے بل بھیج دئیے ہیں، گیس کے بل پہنچا دئیے ہیں، پٹرول کی قیمتوں کا معاملہ اوگرا کے سپرد کر دیا ہے، اور اوپر سے پینتیس پیسے بھی کم کر دئیے ہیں۔اب اگر اس کے بعد بھی آپ خوش نہیں ہوتے تو واقعی آپ کو خوش کرنا مشکل ہے۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ پینتیس پیسوں کی اس عیاشی پر خاموشی سے شکر ادا کیجیے اور دعا کیجیے کہ اگلی بار حکومت پٹرول کی قیمت میںچھتیس پیسے کمی کر دے کیونکہ ایک پیسہ زیادہ بھی مل جائے تو اس ملک میں ریلیف نہیں، شاید عیاشی کہنا پڑے۔

یہ بھی پڑھیں