بھارت میں اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو عوامی سطح پر کوئی سنجیدہ چیلنج درپیش نہیں، لیکن حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے واقعات ایک مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔ امتحانی بے ضابطگیوں، تعلیمی نظام میں بدانتظامی اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خلاف سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی “کاکروچ جنتا پارٹی” کی تحریک اب ایک باقاعدہ عوامی احتجاج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ابتدا میں جسے محض ایک آن لائن مذاق سمجھا گیا، وہ آج مودی حکومت کے لیے ایک ایسی سیاسی اور سماجی آزمائش بنتا جا رہا ہے جسے صرف پولیس طاقت کے ذریعے دبانا آسان دکھائی نہیں دیتا۔بھارت کی تاریخ میں طلبہ اور نوجوان ہمیشہ بڑی سیاسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ رہے ہیں۔ جے پرکاش نارائن کی تحریک سے لے کر مختلف ریاستوں میں طلبہ کے احتجاج تک، نوجوانوں نے ہر دور میں حکمرانوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کیا۔ آج ایک بار پھر ایسا ہی ماحول بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار احتجاج کی بنیاد صرف سیاست نہیں بلکہ نوجوانوں کا مستقبل، روزگار، تعلیم اور میرٹ کا تحفظ ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نوجوانوں کی اس تحریک نے حکومت کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ احتجاج کو روکنے کے لیے مختلف شہروں میں پولیس کارروائیاں کی جا رہی ہیں جبکہ انسانی حقوق کے کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اور ان کی مبینہ جبری اسپتال منتقلی نے اس تحریک کو مزید تقویت دی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جب سونم وانگچک کو احتجاج کے دوران زبردستی اسپتال منتقل کیا گیا تو ملک کے مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ اس کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے اظہار یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتال شروع کی، مگر ان پر بھی احتجاج کے دوران سیاہی پھینکی گئی۔ یہ واقعات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ اختلاف رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے طاقت سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سونم وانگچک کی اہلیہ کا یہ کہنا کہ خاندان کو میڈیکل رپورٹ تک فراہم نہیں کی جا رہی اور انہیں سرکاری اسپتالوں پر اعتماد نہیں، صرف ایک خاندان کی شکایت نہیں بلکہ ریاستی نظام پر عوام کے اعتماد میں کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ جب ایک معروف سماجی کارکن کے اہل خانہ ہی شفاف معلومات سے محروم ہوں تو عام شہری کے خدشات کو بھی آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اسی دوران بھارتی اپوزیشن بھی اس معاملے پر غیر معمولی طور پر یکجا ہوتی دکھائی دی۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق مختلف جماعتوں نے سونم وانگچک کے ساتھ ہونے والے سلوک پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اگرچہ بھارتی اپوزیشن اکثر اندرونی اختلافات کا شکار رہتی ہے، لیکن نوجوانوں کے معاملے پر اس کا مشترکہ مؤقف اس بات کی علامت ہے کہ حکومت کے لیے سیاسی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔برطانوی تجزیہ نگار ہنّا ایلس پیٹرسن نے درست نشاندہی کی ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا آغاز ایک آن لائن طنز و مزاح سے ہوا، لیکن اب یہ بھارت کی دائیں بازو کی حکومت کے لیے ایک حقیقی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ جدید دور میں کئی بڑی سیاسی تحریکیں سوشل میڈیا سے شروع ہوئیں اور پھر عوامی احتجاج میں تبدیل ہو گئیں۔ بھارت میں بھی یہی منظر دکھائی دے رہا ہے۔یہ احتجاج صرف امتحانات تک محدود نہیں رہا۔ تعلیمی اداروں کے مستقبل پر بھی نئے تنازعات کھڑے ہو گئے ہیں۔ اتر پردیش حکومت کی جانب سے محمد علی جوہر یونیورسٹی کی درجنوں عمارتوں کو منہدم کرنے کے فیصلے نے ایک
نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جمعیت علماء ہند کے سربراہ مولانا محمود مدنی نے اس اقدام کو قانون کی حکمرانی، انصاف اور آئینی ذمہ داریوں کے منافی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر کسی تعمیر میں قانونی خامیاں موجود بھی ہوں تو ریاست کے پاس اصلاح، ریگولرائزیشن، جرمانے یا دیگر قانونی راستے موجود ہوتے ہیں، لہٰذا فوری انہدام واحد حل نہیں ہونا چاہیے۔مولانا مدنی نے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ماضی میں عدالتیں انہدام کے بجائے قانونی اصلاحات کو ترجیح دیتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر تعلیمی اداروں کے ساتھ بھی یہی رویہ برقرار نہ رکھا گیا تو اس کے منفی اثرات صرف ایک ادارے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے تعلیمی نظام پر مرتب ہوں گے۔کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے بھی نوجوانوں پر پولیس کارروائیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہے، مگر موجودہ حکومت نے اسی طبقے کو سب سے زیادہ مایوس کیا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان بہتر تعلیم، شفاف امتحانی نظام اور روزگار کے مواقع مانگ رہے ہیں، لیکن جواب میں انہیں لاٹھی چارج، شیلنگ اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ راہل گاندھی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ آر ایس ایس نے تعلیمی نظام پر غیر معمولی اثر و رسوخ قائم کر لیا ہے، جس کے باعث اداروں کی غیر جانبداری متاثر ہو رہی ہے۔گزشتہ روز نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والا احتجاج اس تحریک کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ ہزاروں طلبہ اور نوجوان اپنے مطالبات کے حق میں جمع ہوئے، لیکن پولیس کارروائی کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئیں۔ ان مناظر نے نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ بیرون ملک بھی بحث چھیڑ دی۔ جب کسی ملک میں تعلیم، امتحانات اور روزگار جیسے بنیادی مسائل پر احتجاج کرنے والے نوجوان طاقت کے استعمال کا سامنا کریں تو یہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ حکمرانی کے انداز پر بھی سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔حکومت کا مؤقف اپنی جگہ ہو سکتا ہے کہ قانون نافذ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن جمہوری نظام کی اصل طاقت اختلاف رائے کو سننے اور مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنے میں ہوتی ہے۔آج بھارت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں صرف احتجاج ختم کر دینا مسئلے کا حل نہیں ہوگا، مودی کی فسطایئت ختم ہونے تک یہ صورتحال پیدا ہوتی رہے گی ۔