عالمی سیاست کے افق پر بعض لمحات محض واقعات نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے کو موڑ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حالیہ ایران۔ امریکہ کشیدگی، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جنگی صورتحال اور پھر پاکستان کی قیادت میں شروع ہونے والا سفارتی عمل اسی نوعیت کا ایک غیر معمولی باب ہے، جس نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔بے شک پاکستان نے ایک غیر معمولی سفارتی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔ دو ایسے متحارب فریقین، جو نصف صدی سے بداعتمادی، نظریاتی تصادم اور سیاسی دشمنی میں جکڑے ہوئے ہوں، انہیں ایک میز پر بٹھانا کسی معجزے سے کم نہیں۔ یہ کام نہ محض بیانات سے ہوتا ہے اور نہ رسمی ملاقاتوں سے، بلکہ اس کے لیے گہری بصیرت، غیر معمولی تدبر، غیر جانبداری اور ناقابلِ تزلزل اعتماد درکار ہوتا ہے۔پاکستانی قیادت نے اس نازک مرحلے پر جس حکمت اور دُوراندیشی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ جنگ کے شعلوں کو بجھانا اور دشمنی کے دہکتے انگاروں کو مذاکرات کی ٹھنڈی فضا میں بدلنا ایک ایسا عمل ہے جس میں ذرا سی لغزش پورے عمل کو سبوتاژ کر سکتی ہے۔ مگر پاکستان نے نہ صرف اپنی پوزیشن کو متوازن رکھا بلکہ خود کو دونوں فریقین کے لیے ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر منوایا۔ایران نے بھی اس بحران کے دوران غیر معمولی عسکری اور تزویراتی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ شدید جذباتی دباؤ، اہم تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات اور عالمی دباؤ کے باوجود ایرانی قیادت نے اپنے اعصاب پر مکمل کنٹرول رکھا۔ جوابی حکمت عملی میں انہوں نے جس تزویراتی ذہانت اور مہارت کا مظاہرہ کیا، اس نے جنگ کے روایتی تصورات کو چیلنج کر دیا۔مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا، اسرائیلی دفاعی نظام کو غیر مؤثر ثابت کرنا اور مسلسل چالیس روز تک دباؤ برقرار رکھنا، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگیں صرف ہتھیاروں کی برتری سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ حکمت عملی، وقت کے درست انتخاب اور نفسیاتی برتری سے بھی فتح ممکن ہوتی ہے۔تاہم اس پورے تنازع کا سب سے اہم اور فیصلہ کن موڑ وہ تھا جب ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک اسٹریٹیجک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ عالمی تجارت کی شہ رگ کو وقتی طور پر معطل کر دینا ایک ایسا اقدام تھا جس نے نہ صرف توانائی کی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ بڑی طاقتوں کو بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور توانائی کے بحران نے عالمی معیشت کو لرزا دیا۔یہی وہ لمحہ تھا جب طاقت کا توازن یکسر تبدیل ہوتا دکھائی دیا۔ امریکہ اور اسرائیل کو جہاں عسکری چیلنجز کا سامنا تھا، وہیں سفارتی محاذ پر بھی تنہائی کا احساس بڑھنے لگا۔ نیٹو کے کئی اہم اتحادیوں نے براہ راست عسکری حمایت سے گریز کیا، جو اس امر کا غماز تھا کہ عالمی سیاست میں یکطرفہ طاقت کا دور بتدریج ختم ہو رہا ہے۔اسی پس منظر میں پاکستان نے نہایت دانشمندی کے ساتھ سفارتی میدان میں قدم رکھا۔ سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے اہم علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان نے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جس کا مقصد صرف جنگ روکنا نہیں بلکہ ایک پائیدار امن کی بنیاد رکھنا تھا۔بالآخر پاکستان کی مخلصانہ کوششیں رنگ لائیں۔ جنگ بندی کا اعلان ہوا اور دونوں فریق مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔ اسلام آباد میں ہونے والی تاریخی بیٹھک، جہاں امریکی اور ایرانی اعلیٰ سطحی وفود شریک ہوئے، پاکستان کی سفارتی کامیابی کا واضح ثبوت تھی۔ اکیس گھنٹے طویل مذاکرات اگرچہ مکمل کامیابی حاصل نہ کر سکے، مگر انہوں نے ایک نئی راہ ضرور متعین کر دی۔یہاں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دونوں وفود نے پاکستان کے کردار، اس کی غیر جانبداری اور میزبانی کو کھلے دل سے سراہا۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست ہے بلکہ ایک مؤثر ثالث کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔ اگرچہ ابتدائی مذاکرات بے نتیجہ رہے، مگر انہوں نے امید کے چراغ کو روشن رکھا۔ پاکستان نے اسی تسلسل کے ساتھ اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں، جس کے نتیجے میں دوبارہ مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی اور مثبت اشارے سامنے آنے لگے۔ یہ پیش رفت اس بات کی غماز ہے کہ سنجیدہ اور مخلص سفارتکاری کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔اس جنگ اور اس کے بعد کے سفارتی عمل سے کئی اہم اسباق بھی سامنے آئے ہیں، جو مستقبل کی عالمی سیاست اور جنگی حکمت عملی کو متاثر کر سکتے ہیں۔پہلا سبق یہ ہے کہ جدید جنگیں اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ معیشت، سمندری راستوں، سائبر اسپیس اور اطلاعاتی جنگ تک پھیل چکی ہیں۔ آبنائے ہرمز کا استعمال اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح جغرافیہ خود ایک طاقتور ہتھیار بن سکتا ہے۔دوسرا اہم سبق یہ ہے کہ نفسیاتی برتری اور بیانیے کی جنگ اب عسکری طاقت جتنی ہی اہم ہو چکی ہے۔ جس فریق کا بیانیہ مضبوط ہوگا، عالمی رائے عامہ اسی کے حق میں ہموار ہوگی۔تیسرا سبق یہ ہے کہ غیر روایتی حکمت عملی، روایتی طاقت کو بھی ناکام بنا سکتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور مہنگے دفاعی نظام اس وقت بے اثر ہو جاتے ہیں جب ان کے مقابل ایک غیر متوقع اور لچکدار حکمت عملی اختیار کی جائے۔چوتھا سبق یہ ہے کہ عالمی اتحاد اب مفادات کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں، نہ کہ محض نظریاتی وابستگی پر۔ نیٹو ممالک کا محتاط رویہ اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔پانچواں اور نہایت اہم سبق یہ ہے کہ سفارتکاری اب بھی جنگ پر غالب آ سکتی ہے، بشرطیکہ اسے دیانت، تسلسل اور مہارت کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ پاکستان نے اس کی عملی مثال پیش کی ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کی یہ سفارتی کامیابی محض ایک وقتی کارنامہ نہیں بلکہ ایک نئی سمت کا تعین ہے۔ اگر یہی وژن اور تسلسل برقرار رہا تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر امن کے قیام میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ وقت ہے کہ اس کامیابی کو محض سراہا ہی نہ جائے بلکہ اسے ایک پائیدار پالیسی میں ڈھالا جائے، تاکہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، مؤثر اور باوقار سفارتی قوت کے طور پر اپنی جگہ مستحکم کر سکے۔