Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

آ گئی جان شکنجے اندر

ایران تقریبا ًنصف صدی سے سفارتی تنہائی، معاشی پابندیوں اور عالمی دبائو کا سامنا کر رہا ہے۔ عالمی طاقتوں نے مسلسل اس پر دبائو برقرار رکھا جبکہ خطے میں اس کی تمام اتحادی یا ہمدرد قوتوں کو ایک ایک کر کے کمزور، منتشر یا تباہ کیا جاتا رہا۔ دوسری طرف ایرانی معیشت بھی مسلسل مصائب کے دلدل میں دھنس رہی تھی۔ مہنگائی اور افراطِ زر کے شعلے آسمان کو چھو رہے تھے۔ عوامی بے چینی بڑھ رہی تھی جبکہ عسکری اور سول اداروں میں چھپے آستین کے سانپ ریاستی ڈھانچے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرنے میں مصروف تھے۔اسرائیل، امریکہ اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا ایک مربوط نیٹ ورک ایرانی سماج کے مختلف شعبوں میں اپنے پنجے گاڑ چکا تھا۔ یہ نیٹ ورک اپنے آقاں تک لمحہ بہ لمحہ معلومات اور پیغامات پہنچا رہے تھے۔ ایران کو زیر کرنے کے عالمی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ایران کے پہلے سے لرزتے ریاستی، مذہبی اور سیاسی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لئے حالات کو سازگار سمجھا جا رہا تھا۔ طے شدہ حکمت عملی کے تحت ایرانی عوام کو اکسانے کا عمل شروع کیا گیا۔ سوشل میڈیا، فیک نیوز اور نفسیاتی جنگ کے ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ایرانی معاشرے میں اضطراب پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ معاشی دبا، کرنسی کی گراوٹ اور مہنگائی سے تنگ عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ ملک کے طول و عرض میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ بیرونی اور اندرونی ہاتھوں نے اس آگ پر حسبِ توفیق تیل چھڑکنے کی کوشش کی، مگر اس سے پہلے کہ حالات ریاستی کنٹرول سے باہر نکلتے۔
ایرانی حکومت نے آہنی ہاتھوں سے صورتحال کو قابو میں کر کے دشمن کی چال ناکام بنا دی۔ایران پر حملے کا منصوبہ تو پہلے ہی تیار کیا جا چکا تھا، جس کی جزئیات وقت کے ساتھ سامنے آتی رہیں۔ اگرچہ حملے سے قبل کی گئی کئی تیاریاں مطلوبہ نتائج نہ دے سکیں، اس کے باوجود امریکہ اور اسرائیل نے اپنی طے شدہ ترتیب کے مطابق آپریشن ایپک فیوری جاری رکھا۔ میرے نزدیک یہ فیصلہ ناکامی کو دعوت دینے کے مترادف تھا، کیونکہ جب کسی بڑے آپریشن کے لئے مطلوبہ بنیاد مضبوط نہ ہو تو اس کی کامیابی ہمیشہ مخدوش رہتی ہے۔ یہ حقیقت کسی سنجیدہ جنگی ماہر کی سمجھ میں تو آ سکتی ہے، مگر غرور اور جلد بازی میں مبتلا قیادت اکثر ایسے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کر دیتی ہے۔سفر کا مسلمہ اصول ہے کہ جب تک آخری قدم کی سمت واضح نہ ہو، پہلا قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ بے سمت سفر محض وقت، توانائی اور وسائل کا ضیاع ثابت ہوتا ہے۔ انہی اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے امریکہ جنگ کے میدان میں کود پڑا۔ آغاز ہی میں ناقابلِ عبور رکاوٹوں نے اسے بے یقینی اور مایوسی کے دشت میں بھٹکنے پر مجبور کر دیا۔ کئی روز گزرنے کے باوجود نہ وہ اپنے جنگی مقاصد حاصل کر سکا اور نہ ہی منزل کے قریب پہنچ سکا۔ نتیجتا اس کی فرسٹریشن آسمان کو چھونے لگی۔غصے اور بے بسی کے عالم میں اس نے ظلم و بربریت کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے ایران کی اعلی مذہبی اور عسکری قیادت کو نشانہ بنایا۔ اس کا خیال تھا کہ سپریم روحانی راہنما اور اعلی فوجی قیادت کی شہادت کے بعد ایران کا ریاستی نظم و نسق بکھر جائے گا، عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے اور بیرونی حملہ آوروں کو خوش آمدید کہیں گے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ بجائے منتشر ہونے کے ایرانی عوام ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند متحد ہو گئے۔امریکہ اور اسرائیل نے پرعزم اور نڈر ایرانی عوام پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کر دی۔ ہزاروں معصوم شہری شہید ہوئے، اہم تذویراتی تنصیبات اور رہائشی علاقے تباہ ہو گئے، مگر اس کے باوجود ایرانی قیادت اور عوام کے حوصلے چٹان بن کر کھڑے رہے۔ نہ امریکی جارحیت، نہ موت کا خوف اور نہ ہی تباہی ان کے عزم کو متزلزل کر سکی۔ شدید حملوں سے ایران کی دفاعی دیوار تو نہ گری، البتہ امریکی انا ضرور زخمی ہو گئی۔ امریکہ کی کیفیت اس سانپ جیسی ہو گئی تھی جس کے منہ میں چھپکلی آ جائے، نہ وہ اسے نگل سکتا ہے اور نہ اگل سکتا ہے۔ ایران کو چند لمحوں میں ناک آئوٹ کر دینے کی خوش فہمی لے کر باکسنگ رنگ میں اترنے والا امریکہ خود الجھ کر رہ گیا۔ امریکہ کی حالت اس وقت بالکل ایسی ہے جس کی تصویر کشی میاں محمد صاحب نے اپنے اس شعر میں کی ہے ۔
آگئی جان شکنجے اندر جیوں ویلنے اچ گنا
رو کہے ہن رہو محمد ہن رہویں تے مناں
اس تصادم سے صرف متحارب فریق ہی متاثر نہیں ہو رہے تھے بلکہ پوری دنیا اس کے اثرات محسوس کر رہی تھی۔ عالمی اور علاقائی طاقتوں کی اکثریت یہی چاہتی تھی کہ دونوں فریقوں کو برابر پوائنٹس دے کر یہ خطرناک مقابلہ ختم کر دیا جائے، مگر اسرائیل اور اس کے بعض اتحادی مسلسل امریکہ کو دوبارہ رنگ میں دھکیلتے رہے۔ اسی دھکم پیل اور سفارتی کشمکش کے دوران پاکستان ایک ثالث اور ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ بڑی عالمی اور علاقائی طاقتوں نے پاکستان کے کردار پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ایران اور امریکہ دونوں نے پاکستان کی امن کوششوں کا احترام کرتے ہوئے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔ اسلام آباد میں مذاکرات نے جنگ اور بے یقینی کی دھند کو کافی حد تک کم کیا۔ فریقین کا براہِ راست آمنا سامنا اور مکالمہ ایک غیر معمولی پیش رفت تھی۔ اگرچہ مذاکرات کا پہلا دور مکمل طور پر نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکا، تاہم اس نے مستقبل کی سفارتی راہوں کو ضرور کھول دیا۔دونوں جانب سے سخت اور غیر لچکدار موقف نے ایک بار پھر مذاکراتی عمل کو جمود کا شکار کر دیا ہے۔ تلخ بیانات، دھمکیوں اور الزامات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے، جس سے سفارتی فضاء دوبارہ کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایک وقت یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ امریکی صدر کے دور چین سے قبل کوئی نہ کوئی عبوری امن معاہدہ طے پا جائے گا اور خطہ کسی بڑے تصادم سے محفوظ ہو جائے گا، مگر اب وہ امید بھی آہستہ آہستہ دم توڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ ایک بار پھر جنگی تیاریوں اور دبائو بڑھانے کے اشارے دے رہا ہے جبکہ ایران بھی پہلے سے زیادہ سخت اور فیصلہ کن ردعمل کی دھمکی دے رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ خطہ دوبارہ ایک خطرناک موڑ کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں کسی بھی غلط اندازے یا جذباتی فیصلے کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔اگرچہ جنگ بندی تاحال قائم ہے، مگر مذاکرات میں تعطل کی کیفیت موجود ہے۔ دونوں فریق مزید جنگ نہیں چاہتے، لیکن شکست کا داغ اپنے دامن پر بھی نہیں لینا چاہتے۔ یہی ضد اور عدم لچک پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ توانائی کے عالمی بحران، تجارتی بے یقینی اور خطے کے عدم استحکام نے بڑی طاقتوں کو بھی پریشان کر رکھا ہے۔ پس پردہ کئی ممالک، خصوصاً پاکستان، معاملات سلجھانے کے لئے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔یہ پوری صورتحال ایک اہم سبق بھی دیتی ہے کہ جنگیں صرف اسلحے، میزائلوں اور معاشی قوت سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ قومی وحدت، عوامی حوصلے، مضبوط ریاستی ڈھانچے اور دانشمند سفارت کاری سے بھی ان کا رخ بدلا جاتا ہے۔ بیرونی دبائو اگرچہ ریاستوں کو کمزور کر سکتا ہے، مگر داخلی اتحاد انہیں ناقابلِ تسخیر بنا دیتا ہے۔ اسی طرح طاقت کے نشے میں کئے گئے فیصلے اکثر دنیا کو ایسی آگ میں دھکیل دیتے ہیں جس کی تپش سرحدوں سے کہیں دور تک محسوس کی جاتی ہے۔ آج کی دنیا کو محاذ آرائی نہیں بلکہ تحمل، مذاکرات اور متوازن سفارت کاری کی ضرورت ہے، کیونکہ جنگ کا انجام بالآخر مذاکرات کی میز ہی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں