سوشل میڈیا کا مواد بھی معاشیات کے مسلمہ اصول طلب اور رسد کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔ جس چیز کی طلب زیادہ ہو، اسی نوعیت کا مواد زیادہ پیدا کیا جاتا ہے۔ صارفین کی نفسیات، پسند، تعصبات اور دلچسپیوں کو سامنے رکھ کر کنٹینٹ تخلیق کیا جاتا ہے۔ عوامی طلب کا تعلق براہِ راست ان کی سیاسی، مذہبی، لسانی اور نظریاتی وابستگیوں سے ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور یوٹیوبرز اسی حقیقت کو بڑی مہارت سے استعمال کرتے ہیں۔ انہیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کس مکتب فکر سے وابستہ لوگ کس قسم کی خبروں، تجزیوں اور بیانیے کے متمنی ہیں۔ وہ اپنے ہدف بنائے گئے طبقے کی نفسیات، مزاج اور ذہنی رجحانات سے پوری طرح واقف ہوتے ہیں۔ گویا ان کی نبض پر ان کا ہاتھ ہوتا ہے اور وہ ان کے اضطراب، غصے اور بے چینی کو بخوبی محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔یہ اضطراب اور فرسٹریشن مخالفین کے لیے نفرت اور اپنے پسندیدہ رہنماں کے لیے غیر معمولی محبت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کے بعض کاروباری ذہن رکھنے والے افراد اسی نفسیات کے مطابق اپنا مواد تیار کرکے فروخت کرتے ہیں، جسے جذبات کے زیرِ اثر صارفین ہاتھوں ہاتھ قبول کر لیتے ہیں۔ ایسے صارفین کے لئے خبر کی صحت، تحقیق یا صداقت زیادہ اہم نہیں ہوتی۔ انہیں صرف ایسی کہانی درکار ہوتی ہے جو ان کے جذبات کی تسکین کرے، ان کے مخالفین کی کردار کشی کرے، انہیں ذہنی اذیت پہنچائے اور ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرے۔اسی طلب نے اخلاقیات کے کئی پیمانے بدل دئیے ہیں۔
ہماری سماجی اقدار کو شدید نقصان پہنچا ہے، خونی اور معاشرتی رشتوں کے تقدس کو دھچکا لگا ہے۔ دوستوں کی بے تکلف محفلیں، اختلافِ رائے کے باوجود احترام کا ماحول اور خالص محبت پر مبنی تعلقات کمزور پڑ گئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے محبت کے شفاف شیشے میں منافقت کی ایک دراڑ پڑ گئی ہو۔ اب نہ پہلے جیسا اعتماد رہا ہے اور نہ وہ بے ساختہ گفتگو کے موضوعات۔ سیاسی تقسیم اور بڑھتی ہوئی نفرت نے بعض غیر ذمہ دار یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے کاروبار کو غیر معمولی فروغ دیا ہے۔ جتنا ان کے جھوٹ، مبالغہ آرائی اور من گھڑت کہانیوں کو پذیرائی ملتی ہے، اتنا ہی وہ ان میں مزید مصالحہ شامل کرتے جاتے ہیں۔ انہیں اس بات کی نہ پرواہ ہے اور نہ احساس کہ ان کے اس طرزِ عمل سے معاشرے میں کس قدر انتشار، بداعتمادی اور نفرت جنم لے رہی ہے۔ ان کی اولین ترجیح صرف زیادہ سے زیادہ ویوز، لائیکس، سبسکرائبرز اور مالی منفعت ہوتی ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے عام ہونے کے بعد ہماری نوجوان نسل کے اطوار، ترجیحات اور سوچنے کے انداز میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ آج کا نوجوان بیس برس پہلے کے نوجوان سے بہت مختلف ہے۔ اس تبدیلی میں یقینا مثبت پہلو بھی موجود ہیں، لیکن منفی رجحانات بھی تیزی سے فروغ پائے ہیں۔ سیاسی میدان میں ایک مخصوص بیانیے کے ذریعے خاص طور پر نوجوانوں کو ہدف بنایا گیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا یک رخا اور منفی تصور پیش کیا گیا۔ روایتی سیاست دانوں کو تمام قومی مسائل کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ ان پر کرپشن کے الزامات کو نمایاں کیا گیا جبکہ ان کی مثبت خدمات، قومی منصوبوں اور دفاعی کامیابیوں کو یا تو نظر انداز کیا گیا یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ بعض مواقع پر مذہبی حوالوں سے بھی ان کی نیت اور کردار کو نشانہ بنایا گیا۔ نتیجتاً سیاسی اختلاف، ذاتی دشمنی اور نفرت میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔اس ماحول کا اثر عوامی زندگی پر بھی پڑا۔ سیاسی مخالفین کے خلاف سخت زبان، گالم گلوچ، عوامی مقامات پر تضحیک اور ہجوم کے رویے کو معمول بنا دیا گیا۔ بعض افسوس ناک واقعات میں مقدس مقامات پر بھی سیاسی نعروں اور تلخ رویوں کا اظہار دیکھنے میں آیا، جس نے معاشرتی اور اخلاقی لحاظ سے تشویش کو جنم دیا۔ ایسے واقعات نے یہ احساس پیدا کیا کہ سیاسی اختلاف اگر اخلاقی حدود سے تجاوز کر جائے تو وہ پورے معاشرے کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا کی یلغار نے قومی یکجہتی کو بھی متاثر کیا ہے۔
ماضی میں شدید سیاسی اختلافات کے باوجود قومی سلامتی اور ملکی مفاد کے معاملات پر پوری قوم ایک صف میں کھڑی ہو جاتی تھی۔ سیاسی وابستگیاں اپنی جگہ، لیکن بیرونی خطرات کے مقابلے میں قومی اتحاد نمایاں نظر آتا تھا۔ آج بدقسمتی سے اختلاف کی شدت نے بہت سے معاملات میں اس قومی اتفاقِ رائے کو کمزور کیا ہے۔بعض سیاسی رہنماں کی غیر ذمہ دارانہ حکمتِ عملی، جذباتی بیانات اور شخصیت پرستی نے بھی اس تقسیم کو مزید گہرا کیا۔ قانون کو ہاتھ میں لینے، ریاستی اداروں پر عدم اعتماد پیدا کرنے اور ہر اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے رجحانات نے اداروں کے روایتی وقار کو متاثر کیا۔ جن قومی اداروں پر کبھی تنقید بھی انتہائی احتیاط سے کی جاتی تھی، آج انہیں سوشل میڈیا پر سخت اور غیر شائستہ زبان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آزادیِ اظہار ہر شہری کا حق ہے، لیکن اس کے ساتھ ذمہ داری، شائستگی اور قومی مفاد کا احساس بھی لازم ہے۔ اختلافِ رائے اور کردار کشی میں واضح فرق موجود ہے، جسے ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کی فکری اور اخلاقی تربیت پر دوبارہ سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔ اگر برسوں کی مسلسل مہم کے ذریعے مخصوص بیانیے ذہنوں میں راسخ کیے جا سکتے ہیں تو درست معلومات، تنقیدی سوچ اور متوازن تعلیم کے ذریعے ان کی اصلاح بھی ممکن ہے۔ سکولوں، کالجوں، جامعات اور دیگر تربیتی اداروں میں ایسی تعلیم کو فروغ دیا جائے جو تحقیق، برداشت، دلیل، آئینی شعور اور قومی ذمہ داری کا احساس پیدا کرے۔ تاریخ اور قومی معاملات کو مستند حوالوں کے ساتھ پڑھایا جائے تاکہ نوجوان جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کر سکیں۔اسی طرح سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کو بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ آزادیِ اظہار جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے، لیکن آزادی کے ساتھ سچائی، دیانت اور سماجی ذمہ داری بھی لازم ہے۔ اگر ہم نے نفرت کی اس منڈی کو بے لگام چھوڑ دیا تو اس کا نقصان صرف سیاسی جماعتوں یا شخصیات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری قوم کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے مکالمے، برداشت، تحقیق اور قومی مفاد کو فروغ دیا جائے، کیونکہ مضبوط قومیں نفرت کے بیانیے سے نہیں بلکہ شعور، اخلاق اور اتحاد سے تعمیر ہوتی ہیں۔