محض امید کی کرن کی نشان دہی اورمثبت زاویہ نظر اورمایوسی کی بات کرنےکی نفی کی اہمیت اورتوانائی اپنی جگہ، جسکی طاقت سے انکارنہیں کیاجاسکتا۔ بلاشبہ پرامید سوچ کامحور روشنی اور عزم ہی ہواکرتا ہے،اور مایوسی کسی بھی معاشرے یافرد کو مزید پستی کی طرف دھکیل دیتی ہےمگراس کے ساتھ ساتھ جو عنصر اور محرک سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے وہ ہے ’’عمل‘‘ یعنی محض امید پر ہی اکتفا ہی کافی نہیں بلکہ پرامید اور روش سوچ کو اس کےمنطقی انجام تک پہنچا کر اس سے نتائج حاصل کرنا دراصل ایک ایسا رویہ ہے جس کے ذریعہ ہم جہالت کے اندھیروں سے نکل کر روشنی اور خوشحال وادی کی حدود میں قدم رکھ سکتے ہیں۔گزشتہ چند ہفتوں سے اپنے اردگرد رونما ہونے والے واقعات اور پیدا ہونےوالے حالات نے راقم کو بذریعہ قلم اپنی بات آپ تک پہنچانے پرمائل اور آمادہ کیا تاکہ صورتحال کا کوئی عملی حل آپ کےسامنے رکھ سکوں۔
وہ کوئی نئی اصلاحات یافکر نہیں ہے ہم روزانہ سنتے اور بولتے ہیں مگر ہم نے آج تک ان کی افادیت اور اہمیت کو محسوس نہیں کیا اور اس کی سب سے بڑی وجہ اور رکاوٹ ہمارے ذاتی اور گروہی مفادات ہیں، ہماری محدود سوچ اس لفظ کو عمل میں تبدیل کرنے میں حائل ہے، اس سے پہلے کہ راقم مایوسی کی ’’حدود‘‘ میں داخل ہو، ضروری ہے کہ آپ سے یہ الفاظ بانٹ ہی لئے جائیں۔ ایسے الفاظ جو آپ کی ڈکشنری میں پہلے سے موجود ہیں اور کئی بار ان کو کہہ اور سن بھی چکے ہیں تو وہ الفاظ ہیں ’’توبہ‘‘ اور ’’مفاہمت‘‘ اگر راقم سے کوئی پوچھے کہ ہم بطور ریاست اور معاشرہ اور بطورفردبھی سرخ آسمان تلے کالی آندھی سےکیسے نجات حاصل کرسکتے ہیں تو اس کا ایک لفظی جواب یہی ہے کہ ’’مفاہمت بذریعہ توبہ‘‘۔ ضرور آپ کے ذہن میں یہ بات آئی ہوگی کہ یہ تو ایک عام سے الفاظ ہیں جو دن میں کئی مرتبہ سے بولےجاتے ہیں مگر یہ ایسے الفاظ ہیں جن کو عمل کی کسوٹی پر پرکھاجائےتو اس سےموثر،طاقتور اورنتیجہ افروزکوئی الفاظ نہیں ہوسکتے۔ راقم کا یہ نظریہ اچانک ذہن میں آنے والا نہیں بلکہ اس کےپیچھےمیرا مشاہدہ،تجربہ اوراحساس شامل ہے قدرت کا اصول یہ ہے کہ آپ جس شے یا نظریہ یا سوچ کو محسوس کریں اور جس انداز میں محسوس کریں وہی قابل عمل اور فطرت سے نزدیک سوچ اور عمل ہوا کرتا ہے۔
میرا یقین اور بلکہ ایمان کی حد تک یقین ہےکہ ہم جب تک توبہ کے دروازے پر دستک دے کر مفاہمت کی چاردیواری میں داخل نہیں ہوں گے خوشحالی، ہمارا مقدر نہیں بن سکتی۔ جہالت کے اندھیرے سے نجات کا واحد راستہ مفاہمت ہی ہے۔ ہمارے کچھ دوستوں کے مطابق مفاہمت بزدلی اور کمزوری کی علامت ہےان کے مطابق ایک انسان کو دلیر اور دبنگ ہونا چاہیے اسے اپنے موقف پر ڈٹ جاناچاہیےحق اور باطل کی لڑائی میں مفاہمت معاملات کو مفاد پرست ٹولہ کے ہاتھ میں لے جاتی ہے۔ بدعنوان طبقہ اس مفاہمت کا ’’ فائدہ اٹھانے والا‘‘ ہوتا ہے۔ بدعنوانی اور دیانتداری میں تفریق ختم ہو جاتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ
اس سوچ کو ہم یکسرمسترد نہیں کر سکتے۔ حق حق ہوتا ہے اورباطل باطل، دونوں کے منصوبےکا نام مفاہمت ہےلیکن یہ ایک مثالی صورتحال ہے یا پھر اسے مثالی سوچ سے بھی تشبیہ دی جاسکتی ہےلیکن جب گھر کو آگ لگی ہو تو آپ ڈیکوریشن کی دکان سے اپنے گھر کے لئے شاپنگ کرنےجائیں تو یقیناً آپ کو محبوط الحواس یعنی صریحاً پاگل کا لقب دیا جائے گامیرا پیارا وطن فی الوقت یعنی آج کی تاریخ میں مصائب کی ایک ایسی بھنور میں پھنسا ہوا ہےجس میں سےنکلنے کےلئے ہمیں کسی بھی مثالی اور آئیڈیل نظریہ یا سوچ کو فی الحال موخرکرنا ہوگا۔ آتش گردی میں فوری ضرورت پانی پھینکے کی ہوتی ہے ورنہ گھر راکھ ہو جاتا ہے۔ اب بھی وقت ہے توبہ کے عمل سے گزر کر مفاہمت کے مشکیزے کو اٹھائیے اور اپنے گھر پر آگ کو بجھانے کے لئے آگے بڑھیں وقت بہت کم ہے گو کہ ہم اس میں پہلے کی تاخیر کا شکار ہیں مگر کوشش کی جاسکتی ہے اور اگر ہم اپنے روئیوں میں تبدیلی لا کر انا کے بت کو توڑ کر، ذاتی گروہی اور سیاسی مفادات کے گندے کیچڑ سے نکل کر نیک نیتی سے ایک دوسرے کے قریب آنے کی سعی کریں گےتو ہی ریاست اپنے وجود کوقائم رکھ سکے گی اور اس عمل میں سب سے کلیدی کردار بھی ریاست خود ہی سرانجام دے گی۔
بلوچستان کی شورش ہو یا پشتون علاقوں میں دہشت گردی، سندھ میں بدعنوانی ہو یا پھرپنجاب میں جاگیردارانہ اورمفادپرستی،خودنمائی،فہم جوئی یعنی ہربرائی سے راہ نجات مفاہمت ہی ہے۔ ذراسوچیے ریاست پاکستان کاوجودضروری ہےیاہمارامفادناگزیر ہے۔ اس سارے مفاہمتی عمل میں سب سےبڑا کردار ’’توبہ‘‘کاہے۔خالق کائنات نےجب ہمیں تخلیق کیا اورکائنات بنائی توہر ’’بیماری‘‘ کا ’’علاج‘‘ بھی دےدیا۔ انسان انفرادی طورپراور پھر اجتماعی ذمہ داریوں کو سرانجام دیتے وقت ’’خطا کے پتلے‘‘ کے طور پر بہت بڑی بڑی غلطیاں اور گناہ کرتا ہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جائیں۔ یقین جانیے سچی توبہ ایک ایسا نسخہ ہےجو مجھے اور آپ کو اور ہمارے مقتدر اور ریاستی امور پر متحرک طبقہ کو اوربالخصوص ہمارے سیاسی کرداروں کو جہالت کی کھائی سے فلک کی بلندیوں تک پہنچاسکتا ہے۔ توبہ پر قائم رہنا گو کہ ایک کٹھن مرحلہ ہےمگر ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ہے کہ توبہ کی سیڑھی پر قدم رکھ کر مفاہمت کی منزل حاصل کرنے کی سعی اور کوشش کریں۔
غزوہ تبوک میں تین صحابہ کرامؓ اپنی سستی کی وجہ سے جنگ میں شرکت نہ کر سکے جن میں کعب بن مالکؓ، بلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیعؓ شامل تھے حضورﷺ اس کی وجہ سے ان صحابہؓ کے ساتھ ناراض ہوئے۔ ان دیگر صحابہ نے 50دن تک سماجی بائیکاٹ کیا ان اصحاب کرام نے بلآخر اللہ سے سچی توبہ کی اللہ کے نبیﷺ سے معافی کے خواستگار ہوئے اس موقع پر اللہ نے سورہ توبہ کی آیت نمبر 118نازل فرمائی کہ:’’ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کر دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ زمین کی وسعت بھی ان پر تنگ ہوگئی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ کے عذاب سے کوئی مفر نہیں۔ پھر اللہ نے ان پر توجہ فرمائی تاکہ وہ توبہ کریں بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا رحم والا ہے۔‘‘