Search
Close this search box.
هفته ,25 جولائی ,2026ء

اپنی سرکار بچائیے مودی جی!

برسوں سے بھارتی سیاست کا ایک آزمودہ نسخہ رہا ہے کہ جب ملک میں بے روزگاری سوال بننے لگے تو مذہب کا باب کھول دیجیے، جب تعلیم کا بحران سر اٹھائے تو ہندو مسلم بحث چھیڑ دیجیے، جب نوجوان نوکری مانگے تو اسے تاریخ کے کسی ہندو مسلم جھگڑے میں مصروف کر دیجیے۔ سرکار کو یقین تھا کہ جذبات کی آگ میں حقیقت کا دھواں گم ہو جاتا ہے لیکن سیاست کی ہر ترکیب کی ایک میعاد ہوتی ہے۔ اب پہلی بار دہلی کی سڑکوں پر ایک ایسی نسل کھڑی ہے جسے مندر اور مسجد سے زیادہ امتحانی پرچے، داخلے، ملازمت اور اپنے مستقبل کی فکر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بے چینی کا جھنڈا کسی پرانی سیاسی جماعت نے نہیں بلکہ ایک غیر رجسٹرڈ پلیٹ فارم کاکروچ جنتا پارٹی نے اٹھایا ہے۔ نام پر ممکن ہے کہ آپ کو ہنسی آ جائے لیکن سچ پوچھیے تو اس نام کے نیچے جمع ہونے والا ہجوم اس وقت مودی سرکار کےلئےگلے کی ہڈی بن چکا ہے۔دہلی کے جنتر منتر سے شروع ہونے والا یہ احتجاج اب صرف ایک جلسہ یا دھرنا نہیں رہا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس چلائی، گرفتاریاں ہوئیں، موبائل انٹرنیٹ بند ہوا، میٹرو سروس محدود کی گئی لیکن مظاہرین اگلے دن پھر وہیں موجود تھے۔ سرکار شاید یہ سمجھ رہی تھی کہ چند لاٹھیاں احتجاج کو منتشر کر دیں گی مگر نوجوانوں کے حوصلوں پر ڈنڈے کا اثر زیادہ دیر نہیں رہتا۔
دیکھا جائے تو بھارت میں یہ احتجاج صرف امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ بھارت کی نوجوان نسل کے دل میں پنپنے والے اس احساس کی نمائندگی ہے کہ کیا نوجوان نسل کی محنت کی کوئی قیمت نہیں رہی۔ لاکھوں طلبہ مقابلے کے امتحانات کی تیاری میں اپنی جوانی کا بہترین وقت صرف کرتے ہیں اور پھر ایک صبح جب انہیں معلوم ہوکہ سوالیہ پرچہ بازار میں پہلے ہی فروخت ہو چکا ہے۔ اس کے بعد نوجوان کس سے سوال کرے؟ امتحانی بورڈ سے، وزیر سے یا اس نظام سے ؟اس تحریک کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اس نے اپنی حدود توڑ دی ہیں۔ آغاز چند طلبہ نے کیااور پھر اس میں اساتذہ، سماجی کارکن، دانش ور، اداکار اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی شامل ہوتے گئے۔ سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال نے اس احتجاج کو نیا رنگ دیا لیکن اصل طاقت ان ہزاروں نوجوانوں کی ہے جو کسی جماعت کی ہدایت پر نہیں بلکہ اپنی مایوسی کا ہاتھ پکڑ کر سڑک پر آئے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کا نام شاید کسی نے سنجیدگی سے نہ لیا ہو لیکن اس نے ایک سنجیدہ سوال ضرور پیدا کر دیا ہے۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ ایک غیر معروف پلیٹ فارم کے پیچھے اتنی بڑی تعداد میں نوجوان جمع ہو گئے؟ جواب زیادہ مشکل نہیں۔ جب حکومتیں یاسیاسی جماعتیں نوجوان نسل کے حقیقی مسائل کو اپنی ترجیح نہ بنائیں تو خلا کوئی نہ کوئی ضرور پُر کرتا ہے۔ اس بار یہ خلا بھارت کی ایک غیر رجسٹرڈ جماعت نے بھر دیا۔
مودی حکومت نے گزشتہ برسوں سے اپنی سیاسی گفتگو کا مرکز قومی سلامتی، مذہبی شناخت اور تاریخی تنازعات کو بنارکھا ہے۔ یہ موضوعات انتخابی جلسوں میں تالیاں تو بٹور سکتے ہیں مگر یہ بھارت کے حقیقی مسائل کا رخ نہیں موڑ سکتے،کسی طالب علم کو میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں دلا سکتے، کسی انجینئر کے لیے روزگار پیدا نہیں کرتے اور نہ ہی پیپر لیک سے تباہ ہونے والے مستقبل کو واپس لا سکتے ہیں۔ بھارت کا نوجوان اب یہ سوال براہ راست مودی سے پوچھ رہا ہے کہ اگر ملک واقعی ترقی کر رہا ہے تو پھر امتحانات پر اعتماد کیوں ختم ہو رہا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ اگربھارتی حکومت جین زی کے اس احتجاج کو دبانا بھی چاہے تو کامیابی حاصل نہیں کر سکے گی کیونکہ اس تحریک کی اصل طاقت کسی سیاسی جماعت کے پاس نہیں بلکہ نوجوانوں کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس کی کارروائی کے باوجود احتجاج کمزور ہونے کے بجائے پھیل رہا ہے۔ طاقت کے استعمال سے سڑک خالی کرائی جا سکتی ہے دل نہیں جیتے جا سکتے۔ مودی کی حکومت کو شاید پہلی مرتبہ اس حقیقت کا سامنا ہواہے کہ جنریشن زی کا ووٹر گزشتہ نسلوں سے مختلف ہے۔ یہ نوجوان موبائل فون پر تقریریں کم اور حقائق زیادہ دیکھتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ امتحان کتنی بار منسوخ ہوئے، کتنے پرچے لیک ہوئے، کتنے امیدوار برسوں سے بھرتیوں کے منتظر ہیں۔ وہ مذہبی نعروں سے مکمل طور پر لاتعلق نہیں لیکن اب اس کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ اسے نوکری چاہیے، شفاف امتحانی نظام چاہیے، بہتر تعلیم چاہیے اور یہ یقین چاہیے کہ اس کی محنت کسی بند لفافے میں فروخت نہیں ہوگی۔
مودی سرکار کے لیے اصل خطرہ یہی تبدیلی ہے۔ سیاسی بیانیے اس وقت تک کامیاب رہتے ہیں جب تک عوام کے روزمرہ مسائل ان پر غالب نہ آ جائیں۔ جیسے ہی روٹی، روزگار، تعلیم اور مستقبل مرکزی سوال بن جائیں تو نعروں کی چمک مدھم پڑنے لگتی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر آج یہی منظر دکھائی دے رہا ہے۔ نوجوان اب یہ نہیں پوچھ رہا کہ آپ کس مذہب کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ پوچھ رہا ہے کہ آپ اس کے مستقبل کی نمائندگی کیوں نہیں کرتے۔یہ احتجاج آج ختم بھی ہو جائے تو بھی اس کے اثرات ختم نہیں ہوں گے۔ بھارت کی پوری ایک نسل نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ اگر وہ منظم ہو جائے تو اس کی آواز پورے ملک میں سنی جا سکتی ہے۔ سرکار اگر اس احتجاج کو ایک واقعہ سمجھ کر نظرانداز کر دے تو یہ اسکی بھول ہو گی ، احتجاج تو ایک کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔ واقعہ ختم بھی ہوجائے لیکن کیفیت باقی رہتی ہے۔
نریندر مودی کے لیے اب سب سے بڑا امتحان سرحد کے اس پار نہیں بلکہ اپنے ہی ملک کے اندر ہے۔ پاکستان کے دریاؤں کا رخ موڑنے، ڈیموں کے پانی کو سیاسی ہتھیار بنانے اور پاکستان میں سیلابی صورت حال پیدا کرنے کی منصوبہ بندی سے زیادہ فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنے ملک میں اٹھنے والے اس نئے سیلاب کو پہچانے۔ یہ پانی کا نہیں، سوالوں کا سیلاب ہے، یہ بارش سے نہیں، نوجوانوں کی مایوسی سے پیدا ہوا ہے اور اس کے آثار بتا رہے ہیں کہ یہ سیلاب سڑکوں سے گزرتا ہوا اقتدار کی دہلیز تک جا پہنچے گا اور پھر سرکار کو بہا لے جانے سے روکنا کسی بند یا بیراج کے بس کی بات نہیں ہوگی لہذا ہمیں چھوڑیے اپنی سرکار بچائیے مودی جی!

یہ بھی پڑھیں